مودی پر چڑھا ہوا سونے کا پانی اتر گیا... سہیل انجم

جب ہندوستان میں کورونا کی پہلی لہر آئی اور مودی نے 8 گھنٹے کے نوٹس پر لاک ڈاؤن لگا دیا تو اس سے پورے ملک میں زبردست انسانی بحران پیدا ہوا۔ لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے اور ملکی معیشت کو زبردست دھکا لگا

نریندر مودی، تصویر یو این آئی
نریندر مودی، تصویر یو این آئی
user

سہیل انجم

پہلے یہ کام بہت عام تھا کہ پرانے برتنوں پر قلعی کرکے ان کو نیا جیسا کر دیا جاتا تھا۔ اب بھی شہروں کی پرانی آبادیوں میں یہ کام ہوتا ہے۔ قلعی گر کسی ایک جگہ بیٹھ جاتا ہے اور علاقے کے لوگ اپنے پرانے برتن لا کر اس پر قلعی چڑھوا کر اسے نئے جیسا کروا لیتے ہیں۔ کچھ دنوں تک وہ رنگ باقی رہتا ہے مگر پھر برتن کے کثرت استعمال کی وجہ سے قلعی اتر جاتی ہے اور برتن اپنی اصل شکل میں آجاتا ہے۔ اسی طرح آرٹیفیشل جیولری یا مصنوعی زیورات بھی بازاروں میں بہت ملتے ہیں۔ وہ بالکل اصل زیورات کی مانند چمکتے ہیں۔ کچھ سونار زیورات پر خاص طور پر چاندی کے زیورات پر سونے کا پانی چڑھا دیتے ہیں جس کی وجہ سے زیور سونے کا معلوم ہونے لگتا ہے۔ لیکن یہ سب ترکیبیں وقتی اور عارضی ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ تصنع ختم ہو جاتا ہے اور حقیقی شکل سامنے آجاتی ہے۔

بالکل یہی صورت حال وزیر اعظم نریندر مودی کی ہے۔ جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ ہوئے تو انھوں نے اپنی امیج پر قلعی چڑھوائی اور تیرہ سال تک وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اپنی قلعی شدہ امیج فروخت کرتے رہے۔ انھوں نے خود کو ایک اعلیٰ منتظم کے طور پر پیش کیا اور یہ بھی عوام کے ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کی کہ وہ ترقی کے دیوتا ہیں اور ڈیولپمنٹ ہی ان کا اصل ایجنڈہ ہے۔ حالانکہ ان کی اصل شکل ایک ہندوتوا وادی لیڈر کی ہے لیکن انھوں نے جہاں خود کو ہندووں کا مسیحا بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی وہیں خود کو مردِ ترقی کے طور پر بھی پیش کیا اور اس حوالے سے گجرات ماڈل کا خوب پروپیگنڈہ کیا اور کروایا گیا۔

سال 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں اسی گجرات ماڈل، ڈیولپمنٹ یا وکاس کا پروپیگنڈہ کیا گیا اور خود کو کرپشن کا دشمن بنا کر پیش کیا گیا۔ نتیجے کے طور پر عوام ان کے جھانسے میں آگئے اور انھیں زبردست کامیابی ملی۔ پانچ سال تک وہ اپنی یہی امیج چمکاتے رہے اور اس کے باوجود کہ انھوں نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے جانے کتنی ہمالیائی غلطیاں کیں لیکن عوام نے یہ سوچ کر انھیں معاف کر دیا کہ چلو ابھی اور دیکھ لیتے ہیں۔ لیکن جب 2019 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل ان کی امیج پر چڑھی ہوئی قلعی اترنے لگی تو پلوامہ کا واقعہ پیش آگیا۔ حالانکہ اب بھی اس پر اسرار کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ بہرحال وہ پلوامہ اور فوج کے نام پر ووٹ مانگنے میں کامیاب رہے اور عوام نے ایک بار پھر انھیں حکومت کی باگ ڈور سونپ دی۔

انھوں نے اپنی یہ امیج بھی بنائی کہ وہ الیکشن جیتنے کی مشین ہیں۔ حالات کیسے بھی ہوں انھیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ حالانکہ اسی درمیان انھوں نے متعدد ریاستوں کے انتخابات میں شکست بھی کھائی۔ لیکن اس کے باوجود ان کی ایک منتظم اعلیٰ اور الیکشن جیتنے کی مشین کی امیج پر کوئی اثر نہیں پڑا اور پارٹی اور حکومت میں ان کا دبدبہ پہلے کی مانند قائم رہا۔ لیکن اب جو حالات سامنے آئے ہیں انھوں نے ان کی اصل حقیقت لوگوں کے سامنے واضح کر دی ہے۔ ان واقعات نے ان کی امیج پر چڑھی ہوئی قلعی اتار دی۔ اندرون ملک میں ان کی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی ہے اور بیرون ملک بھی۔ بلکہ بیرون ملک کا میڈیا تو انھیں ویلین بنا کر پیش کر رہا ہے۔

جب ہندوستان میں کورونا کی پہلی لہر آئی اور مودی نے آٹھ گھنٹے کے نوٹس پر لاک ڈاون لگا دیا تو اس سے پورے ملک میں زبردست انسانی بحران پیدا ہوا۔ لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے اور ملکی معیشت کو زبردست دھکہ لگا۔ ایسا دھکہ کہ اب تک معیشت سدھر نہیں سکی ہے اور اس کی گاڑی پٹری پر نہیں آسکی ہے۔ اسی درمیان ہندوستان نے دو ویکسین بنا لی۔ حالانکہ سیرم انسٹی ٹیوٹ سے بنائی جانے والی ویکسین کووی شیلڈ کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جا رہے ہیں۔ اس ویکسین کو لگانے کی منظوری ملنے کے بہت پہلے ہی سیرم نے لاکھوں خوراکیں تیار کر لی تھیں۔ اس سلسلے میں جو ویڈیوز وائرل ہیں اگر وہ سچ ہیں تو پھر یہ خیال پختہ ہو جاتا ہے کہ کورونا اور اس سے متعلق ویکسین کی تیاری ایک بہت بڑا اسکینڈل ہے۔ خیر یہ دوسرا مسئلہ ہے۔

ادھر جب دوسری لہر آئی تو پورے ملک میں ہاہاکار مچ گیا۔ حکومت کی تیاریوں کی پول کھل گئی اور ہزاروں افراد آکسیجن کی کمی کی وجہ سے دم توڑ بیٹھے۔ اس سے قبل مودی نے پوری دنیا میں اپنی امیج چمکانے کے لیے ویکسین ڈپلومیسی شروع کر دی اور 80 ملکوں کو ویکسین کی سپلائی کر دی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ خود ملک میں ویکسین اور دیگر دواؤں کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اب ہندوستان کو دوسرے ملکوں سے مدد مانگنی پڑی اور کئی ملک اس کی مدد کو دوڑ پڑے۔ لیکن یہاں بھی ایک گھپلہ ہو رہا ہے کہ جو ادویات اور دیگر چیزیں آرہی ہیں وہ کہاں جا رہی ہیں کچھ پتہ نہیں۔ اسی درمیان یہ بھی انکشاف ہوا کہ سعودی عرب سے آنے والی آکسیجن کے ٹینکر پر ریلائنس کی پٹی چپکا دی گئی۔ لیکن اس میں گھپلہ یہ ہوا کہ پٹی چھوٹی پڑ گئی اور دائیں جانب سعودی عرب کا چھنڈا نظر آرہا ہے۔

کورونا کی وجہ سے جو ابتر صورت حال پیدا ہوئی اس نے مودی کی اصل حقیقت سب کے سامنے عیاں کر دی۔ وہ شخص جو خود کو سب سے بڑا منتظم ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اب بالکل بے بس ہو گیا ہے۔ یا پھر جان بوجھ کر کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے جس سے عوام کو کچھ راحت ملے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے عوام کی اذیتوں سے حکومت پر کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے۔ سب اپنی اپنی جگہوں پر مست ہیں اور کسی کو اس کی فکر نہیں ہے کہ عوام کو اس عذاب سے کیسے نکالا جائے۔ حالانکہ عدالتیں اس معاملے میں انتہائی سخت ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کی کھال اتنی موٹی ہے کہ اس پر کوئی اثر ہی نہیں پڑ رہا ہے۔

اسی درمیان پانچ ریاستوں کے انتخابات نے بھی مودی کے اوپر چڑھے ہوئے سونے کے پانی کو اتارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اور اس میں اصل کردار مغربی بنگال کے عوام نے ادا کیا۔ مودی، امت شاہ، جے پی نڈا اور دوسرے مرکزی وزرا نے سیکڑوں ریلیاں، روڈ شوز اور جلسے کیے لیکن وہاں کے عوام نے ان کے چہروں پر ایسے زناٹے دار تھپڑ رسید کیے کہ ہوش ٹھکانے آگئے۔ حالانکہ پوری حکومت، پورا آر ایس ایس، مکمل طور پر الیکشن کمیشن، سی بی آئی، ای ڈی، انکم ٹیکس اور دوسری ایجنسیوں کی خدمات بھی حاصل کی گئیں لیکن الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا۔ بی جے پی جو کہ دو سو سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کرتی رہی ہے محض 77 پر سمٹ گئی۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تن تنہا پوری سرکاری مشینری کو وہ چپت لگائی ہے کہ ہمیشہ یاد رہے گا۔ انھوں نے ابھی ایک پریس کانفرنس میں بہت پتے کی بات کہی کہ اگر الیکشن کمیشن نے بی جے پی کی مدد نہ کی ہوتی تو اسے تیس سے بھی کم سیٹیں ملتیں۔ اب ریاستی بی جے پی میں انتشار پیدا ہو گیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جو لوگ ٹی ایم سی چھوڑ کر بی جے پی میں گئے تھے ان میں سے کئی واپس جانے کی تیاری میں ہیں۔

سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ کورونا اور مغربی بنگال کے الیکشن نے مودی کی اصل حقیقت عوام کے سامنے کھول کر رکھ دی ہے۔ ان کی وہ مقبولیت جس کا گراف نیچے نہیں آرہا تھا خاک میں مل گیا اور پوری دنیا میں ان کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔ عالمی میڈیا نے کورونا کی موجودہ صورت حال کو بی جے پی اور خاص طور پر مودی کے بڑ بولے پن، غیر ضروری اور انتہائی ہندو قوم پرستی اور مودی حکومت کے غرور اور اس کی بد انتظامی کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مودی کی مقبولیت کو بٹہ لگ گیا ہے اور اب ان کے لیے 2024 کا پارلیمانی انتخاب جیتنا آسان نہیں رہے گا۔

اسی درمیان کورونا کی دوسری لہر سے نمٹنے میں حکومت کی بڑی ناکامی پر بی جے پی اور خود حکومت کے اندر چہ می گوئیاں ہونے لگی ہیں۔ متعدد مرکزی وزرا نے ایک انگریزی اخبار سے بات کرتے ہوئے اس کا اعتراف کیا ہے کہ حکومت ناکام ہے اور ہر گھر میں حکومت کے خلاف غصہ پیدا ہو گیا ہے۔ لیکن اسی درمیان مودی کی امیج کو بچانے کی کوشش بھی شروع ہو گئی ہے۔ یہ کوشش فی الحال سوشل میڈیا پر جاری ہے۔ وہاں ایک ایسی مہم چلائی جا رہی ہے کہ مودی کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ مبصرین کے مطابق اس کا مقصد یہ ہے کہ مودی کی جگہ پر کسی دوسرے کو لیڈر بنایا جائے اور پھر جب حالات نہ سدھریں تو پھر مودی سے کہا جائے کہ حضور آپ ہی ہیں جو ملک کو اس مصیبت سے نکال سکتے ہیں۔ اور اس طرح ایک بار پھر ان کے ہاتھ میں باگ ڈور سونپ دی جائے اور ان کی بگڑتی شبیہ کو سدھار دیا جائے۔ خیر یہ مہم ابھی سوشل میڈیا پر ہے ابھی زمین پر اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ لیکن اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ مودی کی ساکھ اور مقبولیت بری طرح داغدار ہوئی ہے اور ان پر جو سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا وہ اتر گیا اور پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ تو آرٹیفیشل جیولری تھی اصلی سونا نہیں تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔