قیامت صغریٰ کے درمیان خوشی کے چند لمحات...سہیل انجم

بیماری کسی کا مذہب نہیں دیکھتی۔ وبائی امراض کسی سے اس کا عقیدہ نہیں پوچھتے۔ وہ بلا تفریق مذہب و ملت لوگوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔ کورونا بھی بلا امتیاز مذہب و ملت لوگوں کو اپنا لقمۂ تر بنا رہا ہے۔

آکسیجن حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتے لوگ / یو این آئی
آکسیجن حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرتے لوگ / یو این آئی
user

سہیل انجم

اس وقت پورے ملک میں قیامت صغریٰ برپا ہے۔ کوئی شہر، کوئی قصبہ اور کوئی گاؤں ایسا نہیں ہے جہاں کورونا نے تباہی نہ مچائی ہو۔ چھوٹے شہروں اور قصبوں کو تو چھوڑ دیجیے دار الحکومت دہلی میں ہاہاکار ہے۔ جہاں مرکزی حکومت کا ہیڈ کوارٹر ہے اور جہاں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے۔ جہاں صدر سے لے کر وزیر اعظم اور تمام مرکزی وزرا، سپریم کورٹ سے لے کر ہائی کورٹس اور دوسری عدالتیں ہیں اور جہاں دنیا کے تمام ملکوں کے سفارت خانے ہیں۔ جہاں ملک کے کونے کونے سے لوگ آکر اپنی روزی روٹی کی تلاش میں مصروف ہیں۔ جہاں ملک بھر میں سب سے زیادہ سہولتیں فراہم ہونی چاہئیں اور جہاں ایسا ماحول ہونا چاہیے کہ کوئی بھی بیماری وبا کی شکل اختیار نہ کر سکے۔ اس شہر میں یہ حال ہے کہ اسپتالوں میں لوگوں کو بیڈ، آکسیجن اور دوائیں نہیں مل رہی ہیں۔ لوگ بے موت مارے جا رہے ہیں۔ عام آدمی تو عام آدمی خود ڈاکٹر بھی آکسیجن کی عدم فراہمی کے سبب مر رہے ہیں۔

ایسے غمزدہ ماحول میں اگر کہیں سے خوشی کے کچھ لمحات میسر آجائیں تو انھیں غنیمت جاننا چاہیے۔ بیماری کسی کا مذہب نہیں دیکھتی۔ وبائی امراض کسی سے اس کا عقیدہ نہیں پوچھتے۔ وہ بلا تفریق مذہب و ملت لوگوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔ کورونا بھی بلا امتیاز مذہب و ملت لوگوں کو اپنا لقمۂ تر بنا رہا ہے۔ کورونا کا بھوت پورے ملک میں دندناتا پھر رہا ہے اور جو کوئی بھی اس کے قریب آتا ہے وہ اسے نگل جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں بھی اگر کوئی مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کرے تو اسے انسانیت دشمن کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔ ابھی جن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہوئے ان میں سے کئی ریاستوں بالخصوص مغربی بنگال میں بی جے پی نے مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی اور سماج میں دھارمک زہر گھول کر اپنا الو سیدھا کرنے کی سعی کی۔ لیکن قابل مبارکباد ہیں بنگال کے عوام کہ انھوں نے نفرت کی اس سیاست کو یکسر مسترد کر دیا اور نفرت کی کھیتی کرنے والوں کے چہروں پر زناٹے دار تھپڑ رسید کر دیا۔

لیکن نفرت کی دیوار اٹھانے کی کوششوں اور کورونا کی تباہ کاریوں کے درمیان یہ بھی دیکھا گیا کہ ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ ان سازشوں کا شکار بننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس دوران انسانیت نوازی کی ایسی متعدد مثالیں بھی سامنے آئی ہیں جن کو دیکھ کر یہ احساس پختہ ہو جاتا ہے کہ کوئی بھی شخص خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو جائے ہندوستان کی مٹی میں رچی بسی فرقہ وارانہ محبت اور سماجی یگانگت کو ختم نہیں کر سکتا۔ ایسے متعدد واقعات پیش آئے ہیں اور اب بھی آرہے ہیں کہ خاص طور پر ہندو خاندانوں میں کورونا سے مرنے والوں کی آخری رسومات انجام دینے سے خود ان کے اہل خانہ بچ رہے ہیں۔ انھیں ڈر ہے کہ وہ اگر لاش کو چھوئیں گے یا ان کا کریا کرم کرنے کی کوشش کریں گے تو انھیں بھی کورونا لگ جائے گا اور ان کی بھی شمع حیات گل ہو جائے گی۔

لیکن ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ ہے۔ اس نے جس کی جتنی زندگی لکھ دی ہے وہ اتنے ہی دن جیئے گا، اس سے ایک لمحہ زیادہ نہ ایک لمحہ کم۔ دنیا بھر کے ڈاکٹر بھی آجائیں تو جس کا وقت آگیا ہے اسے بچا نہیں سکتے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موت کے لیے کوئی بہانہ چاہیے۔ اگر کسی کی موت کورونا کے بہانے لکھی ہوئی ہے تو کوئی اسے ٹال نہیں سکتا۔ اسی عقیدے کے تحت مختلف شہروں میں مسلمانوں کی جانب سے ان میتوں کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں جن کو کوئی پوچھ نہیں رہا ہے اور جن کو خود ان کے گھر والوں نے لاوارث چھوڑ دیا ہے۔ ایسے واقعات مسلم برادری میں نہیں ہو رہے بلکہ غیر مسلموں میں ہو رہے ہیں۔ اور یہ مسلمان ہی ہیں جو اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر ان لوگوں کی آخری رسومات کو انجام دے رہے ہیں۔

ایسے ہی لوگوں میں مہاراشٹر کے معین مستان او ر25 رضاکاروں پر مشتمل ان کی ٹیم ہے جو یومیہ چالیس پچاس میتوں کی آخری رسومات انجام دے رہے ہیں۔ مستان کا کہنا ہے کہ ہم نے اللہ کا نام لے کر یہ کام کو شروع کیا ہے۔ آخری رسومات کی ادائیگی سے قبل ہم اللہ سے خصوصی دعائیں کرتے ہیں۔ اگر اس خدمت کے عوض ہماری جان بھی چلی جائے تو ہمیں کوئی افسوس نہیں ہوگا کیونکہ انسانیت کی خدمت کرنے میں اگر جان جاتی ہے تو یہ بڑے اعزاز کی بات ہے۔

مستان کی ٹیم عوامی تعاون سے یہ کام کر رہی ہے۔ ان لوگوں نے چھ ایمبولینس کو اس خدمت پر لگا رکھا ہے۔ وہ اسپتالوں میں جاتے ہیں یا جن کے گھر میت ہے وہاں جاتے ہیں اور ان کو شمشان یا قبرستان لا کر چتا جلاتے یا دفن کرتے ہیں۔ تدفین کا زیادہ مسئلہ نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں میں اپنی میتوں کو یوں لاوارث چھوڑ دینے کا رجحان نہیں ہے۔ البتہ ہندووں، سکھوں اور عیسائیوں میں یہ دیکھا جا رہا ہے۔ رضاکاروں کے اس گروپ میں ڈاکٹر، انجینئر اور بزنس مین بھی ہیں جو اپنی جیب خاص سے یہ کام کر رہے ہیں۔ مستان کی ٹیم کے سامنے ایسے بھی مواقع آئے کہ جب شمشان گھاٹ پر ہی افطار کا وقت ہو گیا اور انھوں نے وہیں روزہ کھولا۔

بھوپال کے دانش صدیقی اور صدام قریشی بھی انھی خوش نصیب افراد میں شامل ہیں جو لاوارث ہندو میتوں کی آخری رسومات انجام دے رہے ہیں۔ وہ دونوں میونسپل کارپوریشن کے فائر فائٹنگ ونگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا کہ وہ لوگ روزہ رکھ کر یہ کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے ہندو گھروں سے فون آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں ایک لاش پڑی ہے اس کا کریا کرم کر دیجیے۔ بعض خاندان ویڈیو کالنگ کرکے کریا کرم کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا بھی چاہتے ہیں۔ انھوں نے اب تک ساٹھ سے زائد ہندو لاشوں کا کریا کرم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانیت مذہب سے اوپر ہے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انھیں خود مریضوں کو اسپتال لے جا کر ایڈمٹ کرنا پڑتا ہے اور اگر ان کی موت ہو جائے تو ان کا کریا کرم بھی انھی کے ذمے ہوتا ہے۔

بہار کے گیا ضلع میں مسلم نوجوانوں کا ایک گروپ بھی یہی خدمت انجام دے رہا ہے۔ امام گنج کے ایک نوجوان محمد شارق بتاتے ہیں کہ 58 سالہ پربھاوتی دیوی بیمار ہو گئیں۔ انھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ان کا ٹیسٹ کیا گیا جو کہ نگیٹیو آیا۔ لیکن اسی دوران ان کی موت ہو گئی۔ لیکن ان کے اہل خانہ کو شبہ تھا کہ وہ کورونا سے مری ہیں لہٰذا انھوں نے ان کی لاش چھونے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹروں نے ان کی لاش ایک گاڑی میں رکھ دی لیکن نہ تو ان کے شوہر نے ہاتھ لگایا نہ ہی ان کے دو بیٹوں نے۔ لاش دوپہر بارہ بجے سے رات کے آٹھ بجے تک وہیں پڑی رہی۔ انھوں نے بتایا کہ جب انھیں اس کی خبر ملی تو وہ لوگ اسپتال گئے اور خاتون کے اہل خانہ کو کریا کرم کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ تیار نہیں ہوئے۔ اس کے بعد ہم لوگوں نے بانس لا کر ارتھی بنائی اور اس پر لاش رکھ کر شمشان بھومی لے گئے۔ اس پر ان کے گھر والوں کو کچھ غیرت آئی اور انھوں نے اسے کندھا دیا۔ مذکورہ خاتون کے ایک بیٹے نے میڈیا کو بتایا کہ محمد رفیق، محمد شارق، محمد کلام، محمد باقی، محمد لڈن اور دوسرے نوجوانوں نے ان کی ماں کا کریا کرم کیا۔ انھوں نے ہندو مسلم اتحاد کی زبردست مثال پیش کی ہے ہم لوگ ان کے شکر گزار ہیں۔

اسی طرح ناگپور کے ایک بزنس مین پیارے خان نے 85 لاکھ روپے خرچ کرکے 400 میٹرک ٹن آکسیجن اسپتالوں کو سپلائی کی۔ ان کی اس کوشش کے نتیجے میں کئی لوگوں کی جان بچ گئی۔ جب انتظامیہ نے انھیں اس کی قیمت ادا کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے کہا کہ نہیں وہ اس کی قیمت نہیں لیں گے۔ انھوں نے زکوۃ کے پیسے سے یہ خدمت انجام دی ہے۔

پیارے خان نے ناگپور ریلوے اسٹیشن کے سامنے سنترے فروخت کرکے اپنے بزنس کا آغازکیا تھا۔ آج وہ 400 کروڑ روپے کی کمپنی کے مالک ہیں۔ وہ ناگپور کے ایک بہت بڑے ٹرانسپورٹر ہیں اور ملک کے کئی شہروں میں ان کے دفاتر ہیں۔ جب انھیں پتہ چلا کہ شہر میں آکسیجن کی قلت ہو گئی ہے تو انھوں نے اس کے حصول کی کوشش کی اور ایک کمپنی سے رابطہ قائم کیا تو اس نے بہت زیادہ قیمت بتائی۔ تاہم انھوں نے عام قیمت کے مقابلے میں 14 گنا زیادہ قیمت ادا کرکے آکسیجن خریدی اور اسپتالوں کو سپلائی کی۔

یہ تو چند مثالیں تھیں جو پیش کر دی گئیں ورنہ میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا میں مسلمانوں کی ان خدمات سے متعلق خبریں بھری پڑی ہیں۔ اس وقت جبکہ پورے ملک میں رقص مرگ جاری ہے اور اسپتالوں کے علاوہ شمشانوں اور قبرستانوں میں لاشوں کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں مسلم نوجوانوں نے انسانی خدمات کی جو مثال پیش کی ہے اس نے پوری مسلم برادری کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ انھوں نے یہ ثابت کر دیا کہ انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جو کہ ایک ہندو نوجوان کی ہے۔ اس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ آج مسلمانوں کی جانب سے جو سیوا کی جا رہی ہے اس نے ہم لوگوں کو اپنا مقروض بنا لیا ہے۔ اس نوجوان نے ہندو عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان خدمات کو فراموش نہ کریں اور اس آفت کے ختم ہونے کے بعد بھی ان کو یاد رکھیں اور اگر کوئی سیاست داں مذہب کے نام پر ہمیں بانٹنے کی کوشش کرے تو ہم اس کے جال میں ہرگز نہ پھنسیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔