کورونا کے ہاتھوں ’وشو گرو‘ کا غرور چکنا چور... سہیل انجم

آج وشو گرو کی کیا حالت ہے یہ کوئی اسپتالوں، شمشانوں اور قبرستانوں میں جا کر دیکھے۔ ایک نادیدہ اور بے جان مادے نے وشو گرو کو گھٹنوں پر لا کھڑا کیا ہے اور یہ حالت کب تک رہے گی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

کورونا کے جان گنوانے والے افراد کی آخری رسومات / آئی اے این ایس
کورونا کے جان گنوانے والے افراد کی آخری رسومات / آئی اے این ایس
user

سہیل انجم

جب کوئی استاد پہلوان اپنے شاگردوں کو کشتی کے داؤ سکھاتا ہے تو آخری داؤ بچا لیتا ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شاگرد اپنے ہی استاد کو چیلنج کر دیتا ہے اور اس سے مقابلہ کرنے کے لیے اکھاڑے میں اتر جاتا ہے۔ اس وقت استاد اپنے آخری داؤ کا استعمال کرتا ہے اور شاگرد کو چِت کرکے اس کے غرور کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ آج کل کچھ ایسا ہی سلوک ’’وشو گرو‘‘ یعنی پوری دنیا کا استاد بننے کے غرور و تکبر میں مبتلا ہندوستانی حکومت کے ساتھ ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ یہ سلوک کورونا کر رہا ہے۔ ا س نے ہندوستان کو چت کر دیا ہے اور ماہرین یا استادوں کا کہنا ہے کہ یہ کورونا کا آخری داؤ نہیں بلکہ ابھی تو یہ دوسرا داؤ ہے۔ اور یہ سلوک اس لیے ہو رہا ہے کہ ہندوستان نے یہ پروپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا تھا کہ اس نے کورونا کی پشت زمین سے لگا دی ہے۔ اسے شکست فاش دے دی ہے۔

ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کورونا کے آغاز سے ہی حکومت کی پالیسیاں غلط رہی ہیں۔ پہلے تو اس نے کورونا کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی۔ ہندوستان میں کورونا داخل ہو گیا تھا لیکن حکومت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی میزبانی میں مصروف تھی اور نمستے ٹرمپ کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی اپنا حق دوستی ادا کر رہے تھے۔ باخبر طبقے کا خیال ہے کہ اس وقت تک امریکہ میں کورونا نے اپنے پاؤں پھیلا لیے تھے اور جو ہزاروں افراد بذریعہ جہاز امریکہ سے ہندوستان آئے ان میں سے کئی کورونا انفکشن میں مبتلا تھے۔ اس پروگرام کی وجہ سے یہاں بہت سے لوگوں کو کورونا انفکشن ہو گیا اور اس طرح کیسوں میں اضافہ ہونے لگا۔


جب صورت حال ابتر ہونے لگی تو وزیر اعظم نے پہلے ایک روزہ جنتا کرفیو لگایا اور اس کے بعد اکیس دن کا لاک ڈاون لگا دیا بغیر کسی تیاری کے۔ تالی، تھالی اور گھنٹی بھی بجوائی۔ بعد میں لاک ڈاون میں توسیع ہوتی رہی۔ لاک ڈاون کی وجہ سے ملک میں جو انسانی بحران پیدا ہوا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ سیکڑوں افراد سڑکوں پر اور ریل کی پٹریوں پر دم توڑ گئے۔ کتنے بھوک سے مر گئے۔ حکومت نے جو پالیسی بنائی اس نے ملکی معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا۔ وزیر اعظم کا یہ جملہ ندامت اور شرمندگی کا باعث بن گیا کہ اٹھارہ دنوں میں مہابھارت جیتی تھی اکیس دنوں میں کورونا کو ہرائیں گے۔ بہر حال حکومت کی جانب سے بہت سی پابندیاں عاید کی گئیں اور عوام نے بھی ان پر بخوبی عمل کیا۔ جس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ کیسوں میں کمی آتی گئی اور جہاں یومیہ کیسوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ گئی تھی وہیں وہ کم ہو کر دس پندرہ ہزار تک آگئی۔

پھر کیا تھا۔ پھر تو ساری پابندیاں ختم ہو گئیں۔ سیاسی، مذہبی سماجی سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ شادیوں میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگ شریک ہونے لگے۔ حکومت مست ہو گئی۔ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کر دیا گیا جہاں کورونا گائڈ لائن کی خوب دھجیاں اڑائی گئیں۔ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور دیگر لیڈروں اور دوسری پارٹیوں کے لیڈروں نے بھی ریلیاں نکالنی شروع کر دیں جس کی وجہ سے سماجی فاصلہ ختم ہو گیا۔ لوگوں نے ماسک لگانا چھوڑ دیا۔ تمام احتیاطی تدابیر طاق پر رکھ دی گئیں۔


اسی دوران اتراکھنڈ کے ہری دوار میں کمبھ میلہ لگ گیا جہاں ایک ایک دن میں دس دس پندرہ پندرہ لاکھ افراد گنگا میں ڈبکی لگانے لگے۔ اب تک کوروڑوں افراد گنگا اشنان کر چکے ہیں۔ اِدھر کورونا پھیلتا گیا اور اُدھر شردھالووں کی تعداد بڑھتی گئی۔ نہ سماجی فاصلہ نہ ماسک۔ نہ ٹیسٹنگ نہ ویکسی نیشن۔ سارا نظام پٹری سے اتر گیا۔ سوشل میڈیا پر مذاق بھی خوب اڑایا گیا۔ کسی نے کہا کہ بابا لوگوں کا ماسک چہرے سے سرک کر نیچے چلا گیا ہے۔ کسی نے کہا کہ نہیں انھوں نے وہیں لگایا ہی تھا۔ بہرحال جب کیسیز میں اضافہ ہونے لگا تو ریاستی حکومت نے کچھ پابندیاں لگائیں لیکن وہ پابندیاں عوام کے لیے تھیں کمبھ کے لیے نہیں تھیں۔ وزیر اعلیٰ اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ گنگا میں اشنان کرنے والوں کو کورونا نہیں ہوگا۔ لیکن ایسا کہنے والوں کو ہی ہو گیا۔ ایک اکھاڑے کے مہنت تو سورگ باسی ہو گئے اور کئی مہنت اسپتالوں میں موت و حیات کی کشمکش میں ہیں۔

ادھر اس سے پہلے ایک طرف کیسوں میں کمی ہونے لگی تھی اور دوسری طرف ملک میں ویکسین بنانے کا عمل تیز ہو گیا تھا۔ بہرحال ہندوستان کے سائنس دانوں نے دو دو ویکسین تیار کر لیں اور ان کی کوروڑوں خوراک اکٹھا ہو گئیں۔ پھر کیا تھا ہونے لگا پروپیگنڈہ۔ بھارت وشو گرو بن گیا۔ حکومت کے وزرا اور گودی میڈیا کی جانب سے وزیر اعظم کے قصیدے پڑھے جانے لگے۔ خود انھوں نے بھی اپنا قصیدہ پڑھا اور کہا کہ ہم نے جو بہت اچھی پالیسی بنائی اس کی وجہ سے کورونا کو ہرا دیا گیا۔ وزرا اور میڈیا نے ڈھول پیٹنا شروع کر دیا کہ دیکھو بھارت نے کیسے کورونا کو شکست فاش دے دی ہے۔ یہ مودی جی ہیں جنھوں نے پوری دنیا میں اپنی طاقت دکھا دی ہے۔ دوسرے ملک کورونا پر قابو پانے میں ناکام ہیں مگر مودی جی نے کورونا کو پراست کر دیا۔


اسی درمیان جبکہ دو دو ویکسین تیار ہو گئیں تو ہندوستانی حکومت نے حاتم طائی بن جانے کا فیصلہ کیا اور وزیر اعظم نے ویکسین ڈپلومیسی شروع کر دی۔ پوری دنیا میں ویکسین کے تحفے بھیجے جانے لگے۔ لاکھوں خوراکیں مفت میں دے دیں اور کوروڑوں خوراکوں کا سودہ کر لیا۔ حالانکہ حکومت کو چاہیے تھا کہ پہلے اپنے ملک کے باشندوں کو خوراکیں دی جاتیں اس کے بعد دوسرے ملکوں کو دی جاتیں۔ لیکن یہاں تو اپنا پرچم بلند کرنا تھا۔ پوری دنیا میں ڈنکہ پیٹنا تھا۔ لہٰذا جہاز کے جہاز ویکسین سپلائی کی جانے لگی۔ جبکہ حکومت کو مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے تھی۔ کئی ملکوں میں کورونا کی دوسری تیسری اور چوتھی لہر آئی اور ان ملکوں نے ان پر قابو پایا۔ ہندوستان تو ابھی پہلی ہی لہر سے باہر آیا تھا۔ کم از کم یہ تو سوچنا چاہیے تھا کہ یہاں بھی دوسری اور تیسری لہر آسکتی ہے۔ اس کا انتظام کرکے رکھنا چاہیے۔

اب یہی دیکھیے ہندوستان کو ویکسین بنانے کے لیے خام مٹیریل کی ضرورت ہوتی ہے جو وہ امریکہ سے منگواتا رہا ہے۔ لیکن اب امریکہ نے خام مواد ہندوستان بھیجنے سے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ ہم پہلے اپنے شہریوں کو دیکھیں گے بعد میں دوسرے ملکوں کو دیکھیں گے۔ دراصل جو بائڈن کو تو اپنی امیج چمکانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی ضرورت تو ہندوستانی وزیر اعظم کو ہے۔ لہٰذا انھوں نے اپنی دانست میں عقلمندی کا کام کیا لیکن مبصرین کے خیال میں وہ عقلمندی نہیں بیوقوفی تھی۔


ادھر جب کورونا نے دیکھا کہ ہندوستان مجھے پوری دنیا میں بدنام کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ہم نے کورونا کو شکست فاش دے دی اسے ہرا دیا۔ اب میں دیکھتا ہوں کون کس کو ہراتا ہے اور کون کس کو شکست فاش دیتا ہے۔ لہٰذا اس نے اپنی شکل بدلی اور بھرپور انداز میں وار کر دیا۔ ذرا سوچیے کہ جب ہندوستان میں یومیہ کیس ایک لاکھ تک پہنچے تھے تو پورے ملک میں ہاہاکار مچ گیا تھا۔ اور اب یہ حال ہے کہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ یومیہ تک کیس پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسری لہر ابھی اپنی انتہا کو نہیں پہنچی ہے۔ ابھی وہ نصف مئی تک انتہا کو پہنچے گی اور اگر یہی عالم رہا تو یومیہ پانچ لاکھ کیس آئیں گے اور تین ہزار سے زائد لوگ روز مریں گے۔

لیکن حکومت کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی فکر ہی نہیں ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ اور دوسرے وزرا الیکشن میں مست رہے ہیں۔ اب جب چاروں طرف سے حملے ہو رہے ہیں تب بے دلی کے ساتھ میٹنگ کی جا رہی ہے اور ریاستوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہم پوری طرح مدد کریں گے۔ دہلی سمیت کئی ریاستوں میں آکسیجن کی شدید قلت ہے۔ آکسیجن نہ مل پانے کی وجہ سے بھی روزانہ درجنوں افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ اسپتالوں میں افرا تفری کا عالم ہے۔ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ آکسیجن کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن پھر آکسیجن پہنچ کیوں نہیں رہی ہے؟ اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر حکومت نے ایک سال کے دوران تیاریاں کی ہوتیں تو یہ حالت نہیں ہوتی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ لوگ مرتے رہیں۔ کیوں چاہتی ہے یہ تو نہیں معلوم۔ لیکن عوام بہت سے اندیشوں میں گرفتار ہیں اور حکومت کی بے حسی پر رو رہے ہیں۔


رویش کمار نے ایک بار اپنے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ اسکولوں اور کالجوں میں پڑھانے کے لیے گرو نہیں ہیں اور ہم چلے ہیں وشو گرو بننے۔ آج وشو گرو کی کیا حالت ہے یہ کوئی اسپتالوں میں جا کر دیکھے۔ شمشانوں اور قبرستانوں میں جا کر دیکھے۔ ایک نادیدہ اور بے جان مادے نے وشو گرو کو گھٹنوں پر لا کھڑا کیا ہے اور یہ حالت کب تک رہے گی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔