نفرت کی آگ دوسروں کو ہی نہیں، اپنوں کو بھی جلا دیتی ہے... ظفر آغا

نفرت کی سیاست دشمن کو ہی نہیں، بلکہ سیاست کرنے والوں کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ جیسے جرمنی نے یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتارا، آخر پورا جرمنی تباہ ہو گیا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

ظفر آغا

دہلی کے گنگا رام اسپتال میں آکسیجن ختم ہونے سے پچیس کورونا مریضوں کی موت، الٰہ آباد میڈیکل کالج میں وہیں کے ایک ریٹائرڈ ڈاکٹر کی علاج کے دوران خود میڈیکل کالج میں موت، لکھنؤ، ممبئی، احمد آباد میں شمشان گھاٹ اور قبرستان میں چوبیس گھنٹے مرنے والوں کی آخری رسوم جاری، پھر بھی لوگ اپنے مردوں کو لے کر اپنی باری آنے کا گھنٹوں انتظار کر رہے۔ اسپتالوں میں بیڈس کی بھاری قلت، ایک ایک بیڈ پر دو دو، تین تین مریض پڑے ہوئے۔ آکسیجن اور کورونا انجکشن ہزاروں میں بلیک۔ تقریباً سارے ملک میں کورونا وبا سے موت کا بازار گرم۔ کبھی ان کی تو کبھی ان کی موت کی اطلاع۔

ہم نے اور آپ نے قیامت نہ دیکھی نہ سنی، لیکن پچھلے دو ہفتوں سے ایسی خبریں سنتے سنتے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ہم اور آپ ان دنوں جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ گویا قیامت کے آثار ہیں۔ ایک کہرام مچا ہے۔ کسی کو یہ بھروسہ نہیں کہ آیا وہ کل بچے گا یا نہیں۔ جو مر گیا سو مر گیا، اور جو بچ گیا اللہ کا کرم۔ ایسے دن جن کا کسی نے کبھی تصور نہیں کیا۔ ایسے حالات جو اپنے آبا و اجداد تو کیا، کہانی قصوں میں بھی نا سنے۔ یہ سب کیوں اور کس کی وجہ سے۔ اسی حکومت کی کوتاہی اور لاپرواہی کے سبب جس نے سنہ 2014 میں اقتدار میں آنے سے پہلے ہندوستان کو یہ خواب دکھائے تھے کہ اگر وہ اقتدار میں آ گئے تو بس ملک جنت نشان ہوگا۔ شہروں شہروں دودھ کی ندیاں بہیں گی۔ ہر کس و ناکس کو روزگار مہیا ہوگا۔ ہر کسی کے بینک اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ کی رقم آسمان سے ٹپک پڑے گی۔ ملک میں نریندر مودی کی شکل میں ایک ایسا وزیر اعظم ہوگا جو خود چوبیس گھنٹے جاگے گا اور سارا مک چین کی نیند سوئے گا!

اس ملک نے نریندر مودی کے ہر وعدے پر آنکھ بند کر کے یقین کیا۔ جی بھر کر ووٹ دیا۔ بہتوں کو یہ خیال کہ بس مودی ہی نہیں بھگوانوں کا راج ہوگا۔ بہت اس گمان میں ہیں کہ ہم غریب میں سے ایک چائے والا اقتدار میں آ جائے تو بس غریبوں کا دکھ درد دور کرنے والا مل جائے گا۔ جو مسلم دشمن تھے ان کو یہ امید کہ اگر مودی جی راج میں آئے تو بس پھر کیا سارے ہندوستان کے مسلمان گجرات کے مسلمانوں کی طرح بدحال ہو جائیں گے۔ بس یوں سمجھیے ہر الگ الگ دلوں میں الگ الگ امنگیں جگا کر مودی جی سنہ 214 میں اقتدار میں آ ہی گئے۔ اور ہندوستانیوں نے آنکھ بند کر ان پر یقین بھی کر لیا۔ یقین بھی ایسا کہ ہندوستان جنت مقام تو کیا ہوتا، جیسا تھا ویسا بھی نہیں رہا۔ پہلے نوٹ بندی کی ایسی مار پڑی کہ خود اپنے پیسوں سے محتاج ہو گئے۔ راتوں رات بھر بینکوں کے باہر قطار میں کھڑے خود اپنے اکاؤنٹ سے دو دو ہزار روپے نکالنے کو حیران و پریشان۔ لیکن پھر بھی مودی جی کی بات پر ایسا بھروسہ کہ اسی نوٹ بندی والے سال میں بی جے پی کو یو پی جیسے صوبہ کا اقتدار صرف مودی جی کی بات پر بی جے پی کو سونپ دیا۔ ابھی نوٹ بندی کی مار ختم نہیں ہوئی تھی کہ جی ایس ٹی ٹیکس کا حملہ ہو گیا۔ دھندا پانی چوپٹ۔ مگر صاحب ابھی بھی مودی سحر میں کوئی کمی نہیں۔ پھر مودی جی کے نام پر مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی سرکار بنتی رہی۔ آخر 2019 میں لوک سبھا چناؤ پھر آیا تو مودی جی نے بالاکوٹ میں پاکستان پر جو چڑھائی کی اس کے عوض میں بی جے پی کو تین سو سے زیادہ سیٹیں دے دیں۔

بس صاحب ملک میں کورونا وبا کی شکل میں عذاب الٰہی کیا آیا کہ قیامت مچ گئی۔ پچھلے سال مارچ کے مہینے میں کورونا کا قہر ٹوٹا اور مودی جی نے اٹھا کر لاک ڈاؤن لگا دیا۔ تین ماہ سب کاروبار بند، سڑکیں بازار پر ہو کا عالم۔ بس بھوک سے بے بس ہو کر بڑے بڑے شہروں سے پیدل چلنے والے ہزاروں مزدور کاریگر سے تو کچھ رونق ضرور ہوئی، مگر پھر وہی ہو کا عالم۔ جناب یہ تین مہینوں کا لاک ڈاؤن کیا ہوا کہ قیامت ٹوٹ پڑی۔ روزگار ختم، دھندے کاروبار چوپٹ، لاکھوں نے کروڑوں بے روزگار ہو گئے۔ مگر مودی جی پر ابھی بھی ایسا یقین کہ ان کی بات پر تالی و تھالی بجا کر کورونا رفو چکر کر رہے تھے۔ گرمیاں آتے آتے کورونا کی شدت میں کمی آئی، لیکن بس سال بھر بعد مارچ میں پھر سے کورونا نے ایسا سر اٹھایا کہ اب ہر کوئی جان کی امان مانگ رہا ہے اور قہر الٰہی کے تھمنے کا نام نہیں لیتا ہے۔

اس پورے ایک سال میں پھر وہی وعدے، وہی بھاشن، ہم نئے اسپتال قائم کر دیں گے، ایسی ویکسین ایجاد ہو جائے گی کہ کورونا رفوچکر۔ گویا گھر گھر ڈاکٹر نرس علاج کریں گے۔ جب کورونا کی دوسری لہر چلی تو پتہ چلا سب جھوٹے وعدے۔ وہاں کوئی انتظام تھا ہی نہی۔ تب ہی تو اسپتالوں میں بیڈ نہیں، آکسیجن کا کہیں پتہ نہیں۔ دوا بازار سے غائب۔ لوگ مچھر مکھی کی ماند مر رہے ہیں۔ مردوں کا انبار ہے جو شمشان گھاٹ اور قبرستان کے باہر اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ اپنی آخری رسوم کا انتظار کر رہا ہے۔

لیکن اس کا ذمہ دار کون! آپ کہیں گے نریندر مودی اور بی جے پی! میں کہوں گا غلط۔ اس کے ذمہ دار ہم اور آپ ہیں جنھوں نے جھوٹے وعدوں پر یقین کیا۔ ایسے وعدے جو کبھی پورے ہی نہیں ہو سکتے تھے، بھلا کوئی بھی حکومت کروڑہا افراد کو راتوں رات روزگار سے لگا سکتی ہے یا کروڑہا افراد کے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ روپے جمع کروا سکتی ہے۔ لیکن نہیں، عام ہندوستانی کو مودی جی کے ہر جھوٹ و سچ پر یقین تھا۔ آخر اس کا کیا راز ہے۔ اس کا راز یہ تھا کہ ایک بہت بڑی ہندو آبادی کو یہ محسوس ہونے لگا کہ مودی جی گجرات کی طرح مسلمانوں سے سکھ چین چھین کر سب ان کی جھولی میں ڈال دیں گے۔ بس اس نفرت کی آگ نے آنکھوں پر ایسے پردے ڈالے کہ نوٹ بندی، لاک ڈاؤن سب بھول کر مودی مودی ہوتا رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پورا ہندوستان تباہ و برباد اور اب ہر کسی کے دروازے پر موت دستک دے رہی ہے۔ یاد رکھیے نفرت کی سیاست دشمن کو ہی نہیں، خود اس سیاست کرنے والوں کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ آخر جرمنی نے یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ آخر پورا جرمنی تباہ ہو گیا۔ اب بھی آنکھیں نہیں کھلیں تو جرمنی کی طرح ہندوستان بھی تباہ ہو جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 25 Apr 2021, 4:40 PM