پرینکا گاندھی نے جس ہمت کا مظاہرہ کیا ہے وہ کوئی کر کے تو دکھائے... سید خرم رضا

کانگریس نے اس تاریخی قدم سے نہ صرف کمزور اور دبے کچلوں کو آواز دینے کی کوشش کی ہے، بلکہ قومی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے جس میں عوام اور عوامی مسائل کو مقدم رکھا گیا ہے۔

کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی / آئی اے این ایس
کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی / آئی اے این ایس
user

سید خرم رضا

پانچ ریاستوں میں انتخابی لڑائی شروع ہو گئی ہے، تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے ہتھیاروں کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہیں اور رائے دہندگان کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے ان ہتھیاروں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ ان ہتھیاروں میں مذہبی ہتھیار بھی ہیں، ذات پات کے ہتھیار بھی ہیں، موقع پرستی کے ہتھیار بھی ہیں، غصہ کے ہتھیار بھی ہیں اور ان سب میں سب سے کمزور ہتھیار عوامی مسائل کا ہتھیار بھی ہے۔ ہر پارٹی کو یہ لگتا ہے کہ اس لڑائی میں سب سے کامیاب ہتھیار دو ہی ہیں، ایک مذہبی اور دوسرا ذات ذات پات کا ہتھیار۔ اتر پردیش ان پانچ ریاستوں میں ہی نہیں بلکہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس لئے یہاں کی سیاسی لڑائی بھی زوروں پر ہے۔

موقع پرستی کے اس دور میں عوام کے مسائل کو اپنا ہتھیار بنانا جہاں سب سے زیادہ بے وقوفی بھرا نظر آتا ہے وہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس سے سیاسی جنگ نہیں جیتی جا سکتی، کیونکہ سیاسی جنگ جیتنے کے لئے سب سے بہترین ہتھیار مذہب ہے۔ یہ ملک چونکہ مذہبی ملک ہے اس لئے یہاں اگر کوئی ہتھیار کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے تو وہ ہے مذہبی ہتھیار۔ شائد یہی وجہ ہے کہ برسر اقتدار جماعت نے بھی اس لڑائی میں اسی ہتھیار کا انتخاب کیا ہے۔ اس کے توڑ کے لئے دیگر جماعتوں نے ذات پات کے ہتھیار کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ان دونوں ہتھیاروں سے سیاسی پارٹی تو جیت سکتی ہیں لیکن ملک ہار سکتا ہے۔


ملک نہ ہارے اس کے لئے کانگریس اور کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جس ہمت اور دوراندیشی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ کانگریس نے اس کو اپنا ہتھیار بنایا ہے جس کو انتخابی سیاست میں سب سے کمزور اور ناکارہ ہتھیار قرار دیا جاتا ہے، کانگریس نے عوامی مسائل کو اپنا ہتھیار بنایا ہے۔ کانگریس نے منفی یا تقسیم کی سیاست پر سیدھا حملہ بولتے ہوئے مثبت سیاست کا پرچم اٹھایا ہے۔ کانگریس نے ایسے افراد کو ٹکت دینے کا اعلان کیا ہے جو ظلم کا شکار ہوئے ہیں۔ کانگریس نے ان لوگوں کو پارٹی کا امیدوار بناتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ میدان میں اترو، اپنی اور اپنے جیسوں کی لڑائی خود لڑو۔

کانگریس نے اس تاریخی قدم سے نہ صرف کمزور اور دبے کچلوں کو آواز دینے کی کوشش کی ہے، بلکہ قومی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے جس میں عوام اور عوامی مسائل کو مقدم رکھا گیا ہے۔ ایسے اقدامات کے لئے بہت ہمت اور جرأت کی ضرورت ہوتی ہے جس کا مظاہرہ کانگریس کی جنرل سکریٹری اور اتر پردیش کی انچارج پرینکا گاندھی نے کیا ہے۔ کانگریس نے اتر پردیش میں جیتنے والے امیدوار کے انتخاب کی روایت سے ہٹتے ہوئے چالیس فیصد خواتین اور چالیس فیصد نوجوانوں کو پارٹی کا امیدوار بنایا ہے اور ان میں وہ افراد شامل ہیں جن کے اوپر ظلم ہوئے ہیں۔


حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری، سرکاری تعصب وغیرہ کا انتخابات میں ذکر اور عوام کو غصہ دلانے کے لئے سیاسی پارٹیاں ایسے مدے اٹھاتی رہی ہیں، لیکن جب ٹکٹ دینے کا وقت آتا ہے تو تمام سیاسی پارٹیاں ایسے امیدواروں کا انتخاب کرتی ہیں جو جیتنے والے ہوں، چاہے وہ کل تک اسی پارٹی میں کیوں نہ ہوں جس کی مخالفت وہ آ ج کر رہے ہیں۔

کانگریس اور پرینکا گاندھی نے جس ہمت اور دور اندیشی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے ملک اور قومی سیاست کو تو ایک سمت ملے گی ہی، ساتھ میں کانگریس کے لئے بہت بڑا فائدہ ہوگا کیونکہ ہر وہ فرد جو بنیادی مسائل سے پریشان ہے وہ خود کو کانگریس سے جوڑے گا، کیونکہ وہ اپنے خیالات کو کانگریس کے ساتھ پائے گا اور اس سے کانگریس کے لئے نئی زمین تیار ہوگی۔ ایسے اقدام لیتے وقت یہ سوچ لینا چاہئے کہ اس میں فوراً کامیابی نہیں ملتی اور فوری کامیابی کے خواہشمند افراد بہت جلد اس لڑائی میں تھک کر پیچھے بھی لوٹ جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں کامیابی یقینی ہے کیونکہ سیاست کا مقصد ہی عوام کے مسائل کا حل اور عوام کی خدمت ہے۔


ویسے بھی ایسے اقدام میں فوری کامیابی دلانا عوام کے ہاتھ میں ہے اگر وہ مذہب اور ذات پات سے اوپر اٹھ کر اپنے مسائل کے لئے لڑ سکتے ہیں تو وہ دن دور نہیں جب ان مذہبی اور ذات پات کے ہتھیاروں کو زنگ لگ جائے گا اور یہ بے کار ثابت ہوں گے اور وہ کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔ منفی اور تقسیم کی سیاست کو شکست دینے کے لئے عوام کو اپنے مسائل پر توجہ دینی ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔