جونپور میں نکلی یوگی کے ’لوجہاد‘ کی ’ارتھی‘ ... نواب علی اختر

ملہانی سیٹ پر ملی ہارنے بھگوا پارٹی کو اب اپنا احتساب کرنے پر مجبور کردیا ہے کیونکہ تازہ نتائج سے ایک بات توصاف ہوگئی ہے کہ اب عوام فرقہ پرستوں کی انتہا پسندانہ سوچ اور ان کے انداز سے اوب چکے ہیں۔

یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر یو این آئی
یوگی آدتیہ ناتھ، تصویر یو این آئی
user

نواب علی اختر

اترپردیش میں 7 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے حالیہ ضمنی انتخابات میں حالانکہ بی جے پی کو 6 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں مگر جونپور کی ملہانی سیٹ پرسماجوادی پارٹی کے امیدوار کی کامیابی نے حکمراں جماعت کی ’بھگوا گردی‘ کا جنازہ نکال دیا ہے۔ سرخیاں بٹورنے والی یہی وہ سیٹ ہے جہاں ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے نام نہاد ’لو جہاد‘ کا شوشہ چھوڑ کر بالواسطہ طور پر مسلمانوں کو دھمکاتے ہوئے کہا تھا کہ ’لو جہاد‘ کرنے والوں کی ’رام نام ستیہ یاترا‘ نکلنے والی ہے۔ یوگی نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ’لو جہاد‘ کرنے والوں کی ارتھی اٹھانے کے لیے ہم پوری طرح تیار ہیں۔ لیکن رائے دہندگان نے اس سیٹ پر بی جے پی امیدوار کو شکست دے کر حکمراں جماعت کے جشن کو پھیکا کر دیا ہے۔

بھگوا برگیڈ اسی امید میں تھی کہ وزیر اعلیٰ کی اشتعال انگیزی سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا مگر حکمرانوں کی ’بھگوا گردی‘ اس وقت خاک میں مل گئی جب اترپردیش میں 7 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب میں 6 سیٹوں پر کامیابی کا پرچم لہرانے والی بی جے پی جونپور کے ملہانی سیٹ پر اپنی ضمانت بھی نہیں بچا سکی۔ یہاں بی جے پی، بی ایس پی سمیت 14 امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ ملہانی اسمبلی سیٹ پر پہلی بار کمل کھلنے کی بی جے پی کی ساری کوششوں پر پانی پھر گیا۔ یہاں سماج وادی پارٹی اور آزاد امیدوار کے درمیان قریبی مقابلہ ہوا۔ اس سیٹ پر بی جے پی کی شکست فاش نے جہاں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی دو ریلیوں پر پانی پھیرا ہے وہیں دونوں نائب وزرائے اعلیٰ، شہر رکن اسمبلی و ریاستی وزیر گریش چندر یادو سمیت نصف درجن سے زیادہ وزراء کی مقبولیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

ملہانی اسمبلی حلقے پر کل 2 لاکھ 7 ہزار 89 رائے دہند گان نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ یہاں پر ایس پی امیدوار لکی یادو کو 73 ہزار 384 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ آزاد امیدوار دھننجے سنگھ کو 68 ہزار 780 ووٹ ملے۔ بی جے پی امیدوار منوج سنگھ کو 28 ہزار 803 ووٹ ملے۔ ملحوظ رہے کہ ضمانت بچانے کے لئے امیدوار کو کل پڑے ووٹوں کے 6 ویں حصے کا ووٹ حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اس حساب سے ضمانت بچانے کے لئے 34 ہزار 100 ووٹوں کی ضرورت تھی جسے دھننجے سنگھ کو چھوڑ کر کوئی بھی امیدوار نہیں حاصل کرسکا۔

ملہانی سیٹ پر ملی ہارنے بھگوا پارٹی کو اب اپنا احتساب کرنے پر مجبور کردیا ہے کیونکہ تازہ نتائج سے ایک بات توصاف ہوگئی ہے کہ اب عوام فرقہ پرستوں کی انتہا پسندانہ سوچ اور ان کے انداز سے اوب چکے ہیں۔ عوام کو پتہ چل گیا ہے کہ سیاستدانوں کی اشتعال انگیزی سے کسی کا بھلا ہونے والا نہیں ہے اس لئے اب سیاستدانوں کو ترقی کی بات کرنے پر مجبور کر دیا ہے اس کا بڑا ثبوت بہار اسمبلی انتخابات ہیں، جہاں سب سے کم عمر کہے جانے والی والے آرجے ڈی کے تیجسوی یادو نے سب سے زیادہ انتخابی جلسے کرکے ترقی کو ہی اپنی سیاست کے مرکز میں رکھا اور اس کے نتیجے میں ووٹروں نے آرجے ڈی کو ریاست کی سب سے بڑی پارٹی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ہم بات کر رہے تھے اترپردیش کے ضمنی انتخابات کے نتائج کی جو مایاوتی کی قیادت والی بی ایس پی کے لئے بڑا جھٹکا ثابت ہوئے ہیں۔ یہاں بی ایس پی ایک بھی سیٹ حاصل نہیں کر پائی ہے، ساتھ ہی کئی سیٹوں پر تیسرے نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ ایسے حالات میں 2022 کے اسمبلی انتخابات کے لئے بی ایس پی کی تیاریوں کا بڑا جھٹکا لگا ہے۔ حالانکہ کانگریس پارٹی کے لئے اچھی بات یہ ہے کہ دو سیٹوں پر کانگریس دوسرے نمبر پر رہی ہے۔ تجزیہ نگاروں نے اس بہتری کا کریڈٹ پرینکا گاندھی کو دیا ہے جو ریاست کی کانگریس کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد سے مستقل سرگرم ہیں یہاں تک ہر اس جگہ پر اپنی موجودگی درج کرا رہی ہیں جہاں کسی عام آدمی کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہوتی ہے۔

ریاست کے ضمنی انتخابات 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کا ’سیمی فائنل‘ کہے جا رہے تھے جس میں بی جے پی تو گرتے پڑتے اپنی عزت بچانے میں کسی حد تک کامیاب ہوگئی، مگر اپوزیشن کی کارکردگی قابل ذکر نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ اگر ایسا ہی رہا تو 2022 میں بھی اپوزیشن کی سیٹ اپوزیشن میں ہی محفوظ نظر آرہی ہے۔ دلت سے لے کر برہمن ووٹوں کی سیاست کو لے کر پیدا ہوئے تنازعات، نظم ونسق کی بدحالی کو مناسب طور پر اٹھانے میں اپوزیشن ناکام ثابت ہوئی ہے یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ عوام کو بھی ایسا ہی ماحول پسند ہے۔ اس لئے کہ ریاست میں بد انتظامی کے باوجود حکمرانوں کو سزا دینے کی بجائے ان نتائج سے تو انہیں حوصلہ ملے گا اور عوام سے زیادہ وہ خود اپنے زبان اور بیان کو صحیح ٹھہرانے لگیں گے۔

ضمنی انتخابات سے عام طور پر پرہیز کرنے والی بی ایس پی کو تقریباً 18 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ بی جے پی سے قربت کے الزامات اور پارٹی سے دور ہوتے قد آور لیڈروں کے درمیان بی ایس پی کافی جدوجہد کرتی نظر آئی۔ تازہ صورتحال سے اندازہ لگایا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بی ایس پی اپنی بنیاد بچانے میں کسی حد تک کامیاب ہوئی ہے مگر جیت کی ریس سے وہ اب بھی کافی دور ہے۔ بلند شہر میں 2017 کی طرح اس بار بھی بی ایس پی دوسرے نمبر پر رہی لیکن گھاٹم پور میں اسے کانگریس نے پیچھے چھوڑ دیا۔ ملہانی میں بی ایس پی تیسرے سے چوتھے نمبر پر پہنچ گئی۔

next