اترپردیش میں اٹھی قانون کی ’ارتھی‘، انصاف کا ہوا ’رام نام ستیہ‘... نواب علی اختر

یوگی اب ایک دستوری عہدے پر فائز ہیں، وہ بھی ریاست کے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور قانون کے تابع بھی ہیں۔ انہیں کسی سڑک چھاپ یا گلی محلے کے لیڈر کی زبان بولنے سے گریز کرنا چاہیے۔

تصویر نواب
تصویر نواب
user

نواب علی اختر

اترپردیش میں جیسے جیسے اسمبلی انتخابات قریب آرہے ہیں، اشتعال انگیزی اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے لیے مشہور بھگوا پیادے ایک ایک کرکے اپنے وجود کا ثبوت دینے لگے ہیں۔ اس ضمن میں مٹھ سے نکل کر سیاسی اقتدار سنبھالنے والے ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پیش پیش نظر آتے ہیں۔ دہلی کے بعد بہار میں بھی اپنی منافرت پھیلانے میں ناکام رہے یوگی آدتیہ ناتھ اب مسلمانوں کو عملاً موت کے گھاٹ اتار دینے کی دھمکی دینے لگے ہیں۔

جونپور کے ایک انتخابی جلسے میں مسکراتے ہوئے یوگی کہتے ہیں کہ اگر وہ نہیں سدھرے تو رام نام ستیہ کی یاترا اب نکلنے والی ہے۔ انہوں نے نام نہاد لوجہاد کے خلاف سخت قانون بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یوگی کے اس بیان نے نفرت کی تشہیر کے دور میں محبت کرنے والے نوجوانوں کے دلوں میں ڈر پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اب انہیں اس بات کا اندیشہ ہوگیا ہے کہ یوگی کے’فرمان‘ کی پیروی کرتے ہوئے انتہا پسندوں کی ٹولی انہیں کبھی بھی موب لنچنگ کا نشانہ بنا سکتی ہے۔

یوگی کے اس بیان سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست میں جہاں ہر روز سنگین جرائم ہو رہے ہیں۔ مگر حکومت اور انتظامیہ بے بس نظر آرہی ہے۔ ریاست میں بی جے پی حکومت نے جرائم پیشہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں مگرعام لوگوں اور نوجوانوں کے ساتھ تاناشاہی کا رویہ اختیار کر کے اپنی ’تقسیم کرو‘ سیاست کو زندہ رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

یوگی کی پولیس درندوں کے بجائے متاثرین کو ستانے میں زیادہ ’ذمہ دار‘ نظر آرہی ہے، رات کے اندھیرے میں متاثرہ کی لاش جلا دیتی ہے تاکہ مجرموں کے خلاف جتنے بھی ثبوت ہیں، سب خاک ہوجائیں۔ سشیل دوبے کو جیل میں بند رکھا جاتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ یوگی راج میں ہونے والے کالے کرتوت عوام کے سامنے آئیں۔ یوگی راج میں اترپردیش خواتین کے خلاف جرائم میں نمبر۔1 ہوگیا ہے، جس وقت یوگی نوراتری کنیا پوجن کر رہے تھے عین اسی وقت انہیں کے آبائی ضلع گورکھپور میں ایک گونگی نابالغ بچی کی عصمت تار تار کی جا رہی تھی۔

جب بھی یوگی آدتیہ ناتھ لمبی چوڑی ڈینگیں ہانکتے ہیں، ریاست میں بدانتظامی کا کوئی نہ کوئی ثبوت سامنے آجاتا ہے جو ان کے دعوؤں کی قلعی کھول دیتا ہے۔ یوگی جب خواتین سیکورٹی کے جھوٹے وعدے کرتے ہوئے خواتین کو طاقتور بنانے کے نام پر ’مشن شکتی‘ شروع کر رہے تھے اسی دوران میرٹھ میں ایک لڑکی کے جسم کو 15 ٹکڑوں میں کاٹ کر پھینک دیا گیا۔ ان حالات میں یہی کہا جائے گا کہ یوگی راج میں مجرموں کا رام نام ستیہ نہیں ہوا بلکہ مظلومین کو تکلیف ہوئی کیونکہ زانیوں اور مجرموں کے ساتھ تو ریاستی حکومت خود کھڑی نظر آتی ہے۔ یوگی کے راج میں قانون کے راج کا، خواتین سیکورٹی کا، نظام انصاف کا رام نام ستیہ ہوا ہے، ارتھی اٹھی ہے تو نظام انصاف کی، قانون کے راج کی، امن اور سماجی تحفظ کی۔

خود کو ہندوتوا کا علمبردار کہلانے میں جٹے یوگی آدتیہ ناتھ کے راج میں سہاگن شکشا متروں نے اپنے سرمنڈوا دیئے۔ سالوں دھرنے مظاہرے کے بعد شکشا متروں کو مستقل کیا جاتا ہے تو اس پر کورٹ سے اسٹے ہو جاتا ہے، روزگار کے لیے ریاست کا ہرنوجوان دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے مگر آدتیہ ناتھ کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے، انہیں تو بس مٹھی بھر فرقہ پرستوں کو خوش کرنے کے اور اسی کے دم پر کرسی بچانے کے لیے آسان مدعوں کی تلاش رہتی ہے جسے لے کر وہ سماج میں نفرت کا ماحول پیدا کر کے ایک مخصوص فرقے کے خلاف انتہا پسندوں کو بھڑکا سکیں۔

یوگی آدتیہ ناتھ جب گورکھپور کے رکن پارلیمنٹ تھے اس وقت سے ہی انہوں نے اپنی اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کو وہ اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں ملک کے دستور اور قانون کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ صرف فرقہ پرستی کے ماحول کو ہی آگے بڑھانے میں یقین رکھتے ہیں۔ جس وقت بی جے پی نے آدتیہ ناتھ کو اترپردیش کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے منتخب کیا، اس وقت کچھ گوشوں کی جانب سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ ایک دستوری اور ذمہ دار عہدہ پر فائز رہتے ہوئے شاید اپنی زبان کو لگام دینے کی کوشش کریں گے۔ ان کی اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ رک جائے گا اور وہ ایک ذمہ دار وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کام کرنے کو ترجیح دیں گے۔

تاہم یہ ساری توقعات انتہائی مضحکہ خیز ثابت ہوئیں اور آدتیہ ناتھ کی اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ نہ صرف جاری رہا بلکہ اس میں اب دھمکیاں بھی شامل ہوگئی ہیں اور اشتعال انگیزیوں میں اضافہ بھی ہوگیا ہے۔ انہوں نے ایک موقع پر عید نہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری کرنے کی کوشش کی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ انہیں اپنے اس طرح کے بیانات پر کوئی شرمندگی بھی محسوس نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کی اپنی پارٹی کی جانب سے ان کی کسی طرح کی سرزنش کی جاتی ہے۔ ایک طرح سے بی جے پی اور اس کی اعلیٰ قیادت خود چاہتی ہے کہ آدتیہ ناتھ اپنی زبان درازیوں کا سلسلہ جاری رکھیں تاکہ انہیں ایک کٹر ہندو فرقہ پرست کے طور پر سارے ملک میں پیش کرتے ہوئے ووٹ بٹورے جاسکیں۔

سماجی نوعیت کے کسی بھی مسئلہ پر کوئی موقف اختیار کرنا اور اگر کوئی مسئلہ سنگین ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کرنا حکومت کا کام ہے اور اس کی ذمہ داری ہے لیکن جس طرح کی زبان آدتیہ ناتھ استعمال کر رہے ہیں اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یوگی کو قانون سازی سے مطلب ہے اور نہ جرائم کی روک تھام سے۔ وہ صرف ہر مسئلہ پر سیاست اور اشتعال انگیزی کرنا چاہتے ہیں۔ آدتیہ ناتھ اگر قانون بنانا ہی چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ اپنی ریاست میں بڑھتی ہوئی عصمت ریزی اور قتل و غارت گری کے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون بنائیں۔ عصمت ریزی کے ملزمین کے ’رام نام ستیہ‘ کو یقینی بنائیں۔ اس کے برخلاف اترپردیش میں نوجوان لڑکیوں کی عصمتوں کو داغدار کرنے اور انہیں موت کے گھاٹ اتارنے والوں کو سیاسی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

آدتیہ ناتھ کو یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایک ریاست کے وزیراعلیٰ ہیں۔ یہ ان کا مٹھ یا ان کی تنظیم نہیں ہے جس میں وہ اپنی منمانی چلا سکیں۔ اب وہ ایک دستوری عہدے پر فائز ہیں۔ وہ بھی ریاست کے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور قانون کے تابع بھی ہیں۔ انہیں کسی سڑک چھاپ یاگلی محلے کے لیڈر کی زبان بولنے سے گریز کرنا چاہیے۔ کسی ایک مسئلہ پر ہی نہیں بلکہ تمام اہم اور سلگتے ہوئے مسائل پر انہیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ریاست میں لڑکیوں اور خواتین کی عصمتوں کا تحفظ کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ ملزمین کو کیفر کردار تک پہنچانا ان کی ذمہ داری ہے اور لا قانونیت کو ختم کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہیں اپنی دستوری ذمہ داریوں کی تکمیل پر توجہ کرتے ہوئے اپنے لب و لہجہ کو بہتر بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

next