ارنب نے جو بویا وہ کاٹ رہے ہیں، اب یہ چیخ چلّاہٹ کیوں!... ظفر آغا

ارنب کی صحافت کا مقصد مودی حکومت کی ناکامیوں سے دھیان بھٹکانا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ایک خاص قسم کی قوم پرستی کا ہوّا کھڑا کر سنگھ کے قومی نظریہ کو بڑھاوا دیتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

صاحب ایک مثال ہے ’سوپ تو سوپ چھلنی بولے جس میں چھید بہتّر!‘ یہ مثال اس وقت اس بھارتیہ جنتا پارٹی پر صادق آتی ہے جو ریپبلک ٹی وی کے مشہور و معروف اینکر ارنب گوسوامی کی گرفتاری پر ماتم منا رہی ہے۔ اور تو اور خود وزیر داخلہ عزت مآب جناب امت شاہ کو اس گرفتاری سے اس قدر صدمہ پہنچا ہے کہ حضرت نے یہ اعلان کر دیا کہ ارنب کی گرفتاری ’آزادی صحافت پر ایک حملہ ہے۔‘ صرف اتنا ہی نہیں، شاہ صاحب اور پوری مودی کابینہ کو اس واقعہ کے بعد ایمرجنسی کی یاد آنے لگی اور ارنب کی گرفتاری پر مودی کے وزیروں نے مذمت کی۔ بی جے پی نے جلسے جلوس نکالے اور سڑکوں تک پر احتجاج کیا۔ آپ واقف ہوں گے کہ چند روز قبل ممبئی پولس ایک خودکشی معاملے میں ارنب گوسوامی کو ان کے گھر سے اٹھا لے گئی۔ ریپبلک ٹی وی کا یہ انتہائی متنازعہ نیوز اینکر فی الحال پولس کے زیر حراست ہے اور فی الوقت ممبئی ہائی کورٹ نے بھی ارنب کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ بی جے پی کو ارنب کی گرفتاری پر سخت صدمہ ہے۔ اور جیسا عرض کیا، وہ صحافت پر اس حملے کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس گرفتاری سے ملک میں آزاد صحافت خطرے میں آ گئی۔

اللہ کی پناہ! آزاد صحافت اور بی جے پی، ان دونوں کا دانت کاٹے کا بیر، لیکن اب اسی بی جے پی کو آزاد صحافت یاد آ رہی ہے۔ ارے ذرا پوچھیے بی جے پی نے اس ملک میں پچھلے چھ برسوں میں آزاد صحافت کو جو دھکا پہنچایا ہے وہ کسی اور نے نہیں پہنچایا۔ آج اس ملک کا ہر بڑا ٹی وی چینل اور ہر بڑا اخبار صحافت بھول کر بی جے پی کی قصیدہ خوانی کرتا ہے۔ اس کا سبب ہے، کیونکہ بی جے پی نے صحافت کا ایک نیا اصول بنا دیا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ جو صحافی یا صحافت کا ادارہ ہمارے ساتھ نہیں وہ ہمارا دشمن ہے۔ اور جو ہمارا دشمن اس کو کسی قسم کا ایک پیسے کا بھی سرکاری اشتہار نہیں ملے گا۔ اس ملک میں کوئی کتنا بھی بڑا سرکاری ادارہ کیوں نہ ہو، اگر اس کو سرکاری اشتہار نہیں ملے تو بس یوں سمجھیے کہ وہ بند ہونے کی کگار پر پہنچ جائے گا۔ بھلا اس ماحول میں کسی صحافی یا صحافت کے ادارے کی کیا مجال کہ وہ بی جے پی کے خلاف زبان کھولے۔ چنانچہ آپ رات نو بجے کسی بھی زبان کا بڑا ٹی وی چینل کھولیے، ہر جگہ آپ کو بی جے پی کی قصیدہ خوانی سننے کو مل جائے گی۔ یہ ہے بی جے پی کا آزاد صحافت کا پیمانہ۔ اور تو اور اگر پھر بھی کوئی صحافی حکومت کے خلاف لکھنے یا بولنے کی جرأت کرے تو اس کو ایسا سبق سکھانے کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ صحافت ہی بھول جائے۔

آپ کو ایک نہیں پچھلے چھ سالوں میں درجنوں ایسی مثالیں مل جائیں گی جن میں یہ نظر آ جائے گا کہ حکومت کے نکتہ چیں صحافی یا صحافت کے ادارے کو صاف بتا دیا گیا کہ اگر ہوش میں نہیں آئے تو سبق سکھا دیا جائے گا۔ ارے بھائی کس کو ای ڈی اور سی بی آئی کا این ڈی ٹی وی پر دھاوا یاد نہیں۔ این ڈی ٹی وی کا جرم صرف اتنا ہی تو تھا کہ وہ حکومت کے سر میں سر ملا کر خبریں نہیں دیتا تھا۔ اور یاد دلاؤں، گوری لنکیش جیسی نڈر صحافی کو اس کے گھر میں گھس کر ہندووادی تنظیم کے افراد نے مارا۔ اس کا گناہ یہی تو تھا کہ وہ مودی حکومت کی نکتہ چیں تھی۔ اس وقت بی جے پی کو آزاد صحافت نہیں یاد آئی تھی۔ اور ایسے کتنے واقعات یاد دلاؤں۔ اس ملک میں ونود دوا جیسے نامی گرامی ٹی وی اینکر کو کون نہیں جانتا۔ ان کے خلاف ہماچل کی بی جے پی سرکار نے ایف آئی آر درج کرائی۔ آئے دن پولس ان کے بیان لیتی رہتی ہے۔ ایسے ہی ’دی وائر‘ کے ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن کے خلاف یو پی میں ایف آئی آر درج ہوئی۔ یہ تو بڑے صحافیوں کا معاملہ ہے۔ درجنوں دیگر صحافی جنھوں نے بی جے پی حکومتوں کی نکتہ چینی کی وہ جیل میں ہیں یا نوکریوں سے نکال دیئے گئے۔

ارے صاحب ایک صحافت کیا، ملک کے کسی بھی ادارے کی آزادی پچھلے چھ سالوں میں بچی ہے کیا! الیکشن کمیشن سرکار کی گود میں بیٹھا ہے۔ لوگ سپریم کورٹ تک پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔ افسر شاہی پی ایم او کی انگلیوں پر ناچ رہی ہے۔ پارلیمنٹ میں جس دھاندلی سے دو ماہ قبل کھیتی باڑی کا قانون پاس کروایا گیا وہ ساری دنیا کو پتہ ہے۔ یہ سب بی جے پی حکومت کی ایما پر ہی تو ہو رہا ہے۔ اسی بی جے پی کو اب ایک ارنب گوسوامی جیسے صحافی کی گرفتاری پر آزادی صحافت کا خیال آ رہا ہے۔ آخر یہ ارنب گوسوامی کے لیے بی جے پی کو اتنا درد کیوں ہے! سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی کو ارنب کی گرفتاری پر جتنا صدمہ ہے، اتنا صدمہ کسی اور کو نہیں ہو سکتا ہے۔ اگر آپ ریپبلک ٹی وی کے صحافیانہ انداز پر نگاہ ڈالیں تو یہ صاف نظر آتا ہے کہ ارنب کی صحافت سے سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی کو ہی ہے۔ یوں بھی ریپبلک ٹی وی کی داغ بیل رکھنے والے راجیو چندر شیکھر خود بی جے پی ایم پی ہیں۔ سنتے ہیں ارنب گوسوامی کے والد کا آسام میں بی جے پی سے گہرا رشتہ رہا ہے۔ وہ تو جانے دیجیے، ارنب کے شو پر خبریں کم اور وطن کی ٹھیکیداری کے نام پر تقریریں زیادہ ہوتی ہیں۔ تقریریں بھی کم بلکہ وہ خود ملک کے مفاد کے ٹھیکے دار بن جاتے ہیں اور پھر بطور بابائے وطن کی حیثیت سے پہلے چیختے چلّاتے ہیں، پھر جس کو چاہتا ہے پھٹکار سناتے ہیں۔ ارنب گوسوامی کا انداز آداب و تہذیب کے دائرے سے باہر ہوتا ہے۔ وہ اپنے شو میں سونیا گاندھی، شرد پوار، ادھو ٹھاکرے جیسے لیڈران کی ٹوپی اچھالتے ہیں۔ ’شرد پوار آؤ، ادھو ٹھاکرے آؤ، مجھے گرفتار کرو۔ ممبئی کیا ممبئی پولس کے باپ کا ہے!‘ جیسے جملوں کو صحافت تو نہیں کہا جا سکتا ہے۔ بھلے ہی کبھی کبھی ارنب بی جے پی کے خلاف بول دیتے ہوں، لیکن آج تک انھوں نے نریندر مودی یا امت شاہ کے لیے وہ الفاظ یا لہجہ نہیں استعمال کیا جیسا وہ سونیا گاندھی یا دیگر اپوزیشن لیڈران کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ بی جے پی کو ارنب سے ہمدردی نہیں ہوگی تو کیا رویش کمار سے ہوگی۔

پھر ارنب گوسوامی کی صحافت کا فائدہ بھی سب سے زیادہ بی جے پی کو ہی ہوتا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران اور اس کے فوراً بعد جب ملک سخت معاشی بحران کا شکار تھا اور لاکھوں مزدور پیدل چل چل کر ہزاروں میل دور اپنے وطن کوچ کر رہے تھے اس وقت ارنب کے شو پر سوشانت سنگھ کی خودکشی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ انھوں نے قریب قریب سوشانت کی گرل فرینڈ کے سر پر اس کے قتل کا الزام منڈھ دیا تھا۔ آدھا سچ اور آدھے جھوٹ کو اس طرح سے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا کہ سارا ہندوستان ریا کو سوشانت کا قاتل سمجھنے لگی۔ آخر خود سرکار نے یہ تسلیم کیا کہ سوشانت نے خودکشی کی تھی اور اس کو خودکشی کے لیے ریا نے اکسایا نہیں تھا۔ پھر صاحب ارنب بالی ووڈ میں ڈرگ کا معاملہ لے کر بیٹھ گئے۔ ایک بھانڈ کی طرح اپنے شو میں چیخ رہے تھے: مجھے ڈرگ دو، مجھے ڈرگ دو۔ پتہ نہیں وہ صحافی ہیں یا بھانڈ کہ اس طرح کی حرکتیں نیوز شو میں کرتے ہیں۔ خیر پورے سوشانت سنگھ راجپوت معاملے سے دو لوگ فائدے میں رہے۔ ایک ریپبلک ٹی وی جس کی مقبولیت اتنی بڑھی کہ اس پر اشہتار کی بارش ہوئی اور خوب کمائی ہوئی۔ دوسرے بی جے پی کو فائدہ رہا کیونکہ ارنب نے ملک میں ایسا ماحول بنا دیا کہ ہر ٹی وی چینل اور اخبار بے روزگاری اور معاشی بحران بھول کر سوشانت سنگھ راجپوت اور ریا چکرورتی میں لگ گیا۔ یعنی ارنب کی صحافت کا مقصد مودی حکومت کی ناکامیوں سے دھیان بھٹکانا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ایک خاص قسم کی قوم پرستی کا ہوّا کھڑا کر سنگھ کے قومی نظریہ کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ بس یہی سبب ہے کہ بی جے پی کو ارنب گوسوامی کی گرفتاری سے صحافت پر خطرہ منڈلاتا نظر آ رہا ہے۔

بی جے پی آزاد صحافت کا گلا کب کا گھونٹ چکی۔ اب ارنب کی گرفتاری پر آزادی صحافت پر آنسو بہانا محض ایک ڈھونگ اور ڈرامہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے ملک میں ارنب گوسوامی کی طرز صحافت پر بحث ہونی چاہیے اور اس قسم کی صحافت پر پابندی لگنی چاہیے۔ کیونکہ صحافت کا بنیادی مقصد برسراقتدار حکومت کی کمیوں کو اجاگر کرنا اور ملک میں امن و امان کی فضا پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ریپبلک ٹی وی ان دونوں مقاصد کو پورا نہیں کر رہی ہے۔ اس لیے ارنب کی گرفتاری کو صحافت پر حملہ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ وہ ایک خودکشی کے معاملے میں گرفتار ہوئے ہیں جس میں خودکشی کرنے والوں نے ان کو اپنی خودکشی کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ پولس کے پاس وہ شکایت موجود ہے۔ یہ الزام کتنا سہی یا غلط ہے، عدالت اب اس کو طے کرے گی۔ اس کو آزادیٔ صحافت سے جوڑنا ایک سیاست ہے جو نہیں ہونا چاہیے۔

Published: 8 Nov 2020, 2:12 PM
پسندیدہ ترین
next