یوگی! کام کے نہ کاج کے، دھمکی ’لوجہاد‘ کے... نواب علی اختر

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے پاس کوئی ایسا کام نہیں ہے جس کو بتا کرعوامی حمایت حاصل کریں۔ اسی لئے انہوں نے ایک بار پھر اشتعال انگیزی کا سہارا لیا ہے۔

تصویر نواب
تصویر نواب
user

نواب علی اختر

آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں راجیہ سبھا کے بہانے جس طرح سے سیاسی تپش بڑھی ہے وہ سبھی لوگوں کو چونکا رہی ہے۔ پہلا سوال تو یہی ہے کہ ریاست میں ابھی تو اسمبلی انتخابات میں تقریباً ڈیڑھ سال کا وقت باقی ہے اور دوسرا یہ کہ یہاں تمام واقعات اچانک ہو رہے ہیں؟ ایسے میں یہ سمجھنا زیادہ ضروری ہے کہ سیاست میں نہ تو اچانک کچھ ہوتا ہے اور نہ ہی بغیر مقصد کچھ ہوتا ہے۔ اترپردیش سے لے کر دہلی اور بہار تک بی جے پی کے لیڈروں کے بیانات سے سیاست میں ذرا بھی دلچسپی رکھنے والوں کو اس کا اندازہ بخوبی ہوگیا ہوگا کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔

مرکز کی مودی حکومت ہو یا پھر ملک کی مختلف ریاستوں میں قائم بی جے پی کی حکومتیں ہوں سبھی کے پاس ایسا لگتا ہے کہ ملک کے عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی ترقیاتی اور فلاحی کام نہیں ہیں، بلکہ ایسے اقدامات ہیں جن کی وجہ سے عوام کو مشکلات اور انتہائی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ شائد یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اور اس کی مرکزی اور ریاستی حکومتیں صرف متنازعہ مسائل کو ہوا دینے اور اختلافات کو فروغ دینے کے سوا کوئی اور کام نہیں کر رہی ہیں۔ ابتداء سے آخر تک صرف متنازعہ مسائل کو ہوا دینے کی کوششیں ہی کی جا رہی ہیں۔

سطحی سیاست کے ذریعہ سارے ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے۔ بابری مسجد مسئلہ پر سیاست کرتے ہوئے بی جے پی نے ملک میں فرقہ پرستی کی جو لہر عام کی ہے، اس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑے گا جو ایک دوسرے (ہندو اور مسلمان) کو بھائی اور دوست کی طرح پیار کرتے ہیں۔ بابری مسجد کا مسئلہ جیسے ہی اختتام کو پہنچا تو دوسرے مسائل کو ہوا دی جانے لگی۔ مختلف گوشوں سے متھرا اور کاشی کی مساجد کو نشانہ بنانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ بتدریج دوسری مساجد کو بھی نشانہ بنانے کے منصوبے تیار کرلئے گئے ہیں۔ ابھی یہ تیاریاں حالانکہ ابتدائی مراحل میں ہیں، لیکن آسام میں دینی مدارس کو نشانہ بنانے کا عمل تیز ہوگیا ہے اور حکومت کی طرف سے اعلان کر دیا گیا ہے کہ وہاں عنقریب مدرسوں کو بند کردیا جائے گا۔

یوگی کے اقتدار والی ریاست اترپردیش میں داڑھی کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایک سب انسپکٹر کے خلاف محض اس لئے کارروائی کی گئی کیونکہ انہوں نے اپنے چہرے پر داڑھی رکھی تھی۔ دفعہ 370 کا حوالہ دیئے بغیر بی جے پی کے پاس کوئی اور ترقیاتی کام نہیں رہ گیا ہے جس کو وہ عوام کے سامنے پیش کرسکے۔ اب جبکہ سارا ملک کورونا کی وجہ سے پریشان ہے بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے سی اے اے پر عمل آوری جلد ہی شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک طرح سے بی جے پی کے خلاف پیدا ہونے والی عوامی ناراضگی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ مذکورہ تمام معاملے بی جے پی کے لیے اقتدار حاصل کرنے اور اقتدار پر برقرار رہنے کے ہتھیار بن کر رہ گئے ہیں۔ عوام کے مسائل اور ان کی تکالیف یا پھر بے روزگاری جیسے مسائل سے بی جے پی کا کوئی سروکار نہیں رہ گیا ہے۔

یہی بی جے پی کے عزائم و منصوبے ہیں جن کی بنیاد پر وہ اقتدار پر قبضہ جمائے رکھنا چاہتی ہے۔ بھگوا پارٹی کی حالت تو یہ ہوگئی ہے کہ کسی ایک ریاست میں بھی بی جے پی اشتعال انگیز نعرہ بازی، فرقہ وارانہ منافرت یا ہندو مسلم یا پھر پاکستان کا نام استعمال کیے بغیر انتخابات کا سامنا نہیں کرسکتی۔ اترپردیش میں ضمنی انتخابات کی سرگرمیاں اپنے شباب پر ہیں لیکن ریاست میں ساڑھے تین سال کی بی جے پی حکومت کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے پاس کوئی ایسا کام نہیں ہے جس کو بتا کرعوامی حمایت حاصل کریں۔ اسی لئے انہوں نے ایک بار پھر اشتعال انگیزی کا سہارا لیا ہے۔

حالانکہ یوگی کی اشتعال انگیزی نے دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو بڑے زحم لگائے ہیں جو مستقبل قریب میں شائد ہی بھرے جاسکیں۔ باوجود اس کے وہ سدھرنے کا نہ نام لے رہے ہیں اور نہ ہی بی جے پی اپنے اس بھگوا سپر اسٹار پر نکیل کس رہی ہے۔ پارٹی اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ سماج میں فرقہ وارایت کا زہر گھول کر ہی وہ اقتدارمیں رہ سکتی ہے۔ بی جے پی کے اعمال سے صاف ہے کہ انہیں ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کوئی فکر نہیں ہے، انہیں تو بس اپنی سیاست چمکانی ہے۔ اس کا تازہ ثبوت یوگی آدتیہ ناتھ کاحالیہ بیان ہے جس میں انہوں نے ایک بار پھر نام نہاد ’لوجہاد‘ کے بہانے ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا ہے۔

یوگی نے ہفتے کو دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ اپنی پہچان چھپا کر، بھیش بدل کر جو لوگ بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں ان کو پہلے سے میری وارننگ ہے، اگر وہ باز نہیں آئے تو ان کی ’رام نام ستیہ ہے کی یاترا‘ اب نکلنے والی ہے۔ جونپور ضلع کے ملہانی اسمبلی حلقے میں منعقد ایک انتخابی جلسے کے دوران یوگی آدتیہ ناتھ نے یہاں تک کہا کہ ’لوجہاد‘ کا جرم کرنے والے لوگ ’رام نام ستیہ‘ کی یاترا کے لیے پوری طرح تیار رہیں۔ انہیں کسی بھی حالت میں بخشا نہیں جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’لوجہاد ‘کو روکنے کے لیے ہم سختی سے کام کریں گے اور اس کے لیے ایک موثر قانون بنائیں گے۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ریاست کے مختلف حصوں میں عصمت دری اور قتل کے بڑھتے واقعات کے بعد ریاست کے نظم ونسق کے ساتھ ساتھ یوگی حکومت کو خواتین کی حفاظت میں پوری طرح ناکام بتایا جارہا ہے۔ اس لحاظ سے نام نہاد ’لو جہاد‘کی آڑمیں وزیر اعلیٰ کی دھمکی کو اپنی خامیاں چھپانے کے ایک حربے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ یوگی کا بیان جمعہ کو الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے ذیل میں آیا ہے حالانکہ عدالت کے فیصلے میں ’لوجہاد‘ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یوگی ایک عام مسئلے کو فرقہ وارانہ مسئلہ بنانے کے لئے انتہا پسندوں کو شہہ دینے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس سے ملک میں بدامنی اور افراتفری پیدا ہوسکتی ہے، لیکن بی جے پی کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

next