20 لاکھ کروڑ روپے کا ’قرض پیکیج‘... اعظم شہاب

20 لاکھ کروڑ کے معاشی پیکیج سے اگر آپ کو استفادہ حاصل کرنا ہے تو شرط یہ ہے کہ آپ آج قرض لیں، بیج بوئیں اور 5 سال بعد اس کا پھل حاصل کریں۔ اس سے بڑھ کر ’آتم نربھرتا‘ دوسری کوئی نہیں ہو سکتی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

ہمارے پڑوس کے شرماجی یہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں کہ مودی جی سے بھی کوئی غلطی ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مزدوروں کو پیدل جانا ہی نہیں چاہیے، آخر مودی جی ان کو بے سہارا تھوڑے ہی چھوڑ یں گے۔ دیکھو نہ انہوں نے ٹرینیں شروع کروا دیں، کرائے مفت کر دیئے، کھانا پینا مفت کردیا، 20 لاکھ کروڑ روپئے کا اکنامی پیکج دے دیا، اس کے باوجود بھی اگر لوگ پیدل اپنے اپنے وطن جارہے ہیں تو یہ ان کی غلطی ہے۔ لیکن میں نے ان سے ممبئی سے گورکھپور جانے والی ٹرین کے 5 ٹکٹوں کے انتظام کے لئے کیا کہہ دیا کہ معلوم نہیں کیوں وہ اب نظر ہی نہیں آرہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران ہائے ہیلو کے لیے کبھی کبھار ان کے گھر کا دروازہ کھل بھی جایا کرتا تھا، لیکن ان دنوں اکثر بند ہی رہتا ہے۔ جب میں ان سے کہتا ہوں کہ مودی جی نے لاک ڈاؤن سے قبل لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا موقع نہ دے کر غلطی کی ہے تو وہ پتہ نہیں کیوں ہتھے سے اکھڑ جاتے ہیں۔

لیکن میں آج بھی اپنے اس موقف پر قائم ہوں کہ اگر مودی جی نے لاک ڈاؤن کے وقت ہٹلرازم کا مظاہرہ نہ کرتے ہوئے، دوچار ریاستوں کے وزارئے اعلیٰ سے صلاح ومشورہ کرتے ہوئے، زیادہ نہیں محض ہفتے بھر کی ہی مہلت دیدی ہوتی کہ جو جہاں جانا چاہے چلا جائے اور اس کے لیے ٹرینوں وبسوں کو انتظام کردیا گیا ہوتا، تو آج ملک 1947 کے بعد کی دوسری سب سے بڑی مہاجرت نہیں دیکھتا۔ لیکن اس کا کیا کیا جاسکتا ہے، جب من مانی اور مطلق العنانی کو حکومت اپنی مضبوطی کے طور پر پیش کرنے لگے اور ملک کا قومی میڈیا حکومت کے فیصلوں کی تائید کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کرنے لگے تو اس کا نتیجہ اسی صورت میں ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنی قرض اسکیم کو ریلیف پیکج بنا کر پیش کردیتی ہے اور دیش سے منوا بھی لیتی ہے۔

لاک ڈاؤن سے جوجھ رہے ملک کو پردھان سیوک نے پہلے 15 ہزار کروڑ اور پھر 20 لاکھ کروڑ روپئے کا معاشی پیکیج دیا۔ گزشتہ تین دنوں سے وزیرمالیات اس کی وضاحت میں بھی مصروف ہیں کہ یہ رقم کن کن مدوں میں اور کیسے کیسے خرچ کی جائے گی۔ یہ وضاحت وہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کر رہی ہیں اور اس کے شرکاء ظاہر ہے کہ وہی ہیں جو اس طرح کے وضاحتی پروگرام میں براہ راست شریک ہوتے ہیں۔ بہر حال وزیرمالیات نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس 20 لاکھ کروڑ روپئے کے پیکیج میں وہ اسکیمیں اور منصوبے بھی شامل ہیں جو اس سے قبل کے بجٹ میں مستقبل میں عملدرآمد کے طور پر پیش کیے جاچکے ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ سرکارنے اس پیکیج میں ان اسکیموں کے اخراجات کو بھی شامل کرلیا ہے، سالانہ بجٹ میں جن کا اندراج پہلے سے موجود ہے۔ ہماری وزیر خزانہ کے 35 نکاتی منصوبوں کا لب لباب یہ ہے کہ کورونا سے تباہ ہوئی معیشت کے لئے اگر آپ معاشی مدد چاہتے ہیں تو آج بیج بویئے اور پانچ سال بعد اس کا پھل حاصل کیجیے۔ اس سے بڑھ کر ’آتم نربھرتا‘ دوسری شئی نہیں ہوسکتی۔ شہد کے مکھیوں کی فارمنگ، کولڈ اسٹوریج اور گودام کے منصوبے پہلے سے موجود ہیں۔ آج جبکہ کسانوں کو اس بات کی پریشانی لاحق ہے کہ وہ اپنی پیداوار کس طرح فروخت کریں، گودام کی تعمیر ہونے اور اس کے تیار ہونے تک بیچارہ کسان کیا کرے گا؟

اس موقع پر مشہور کامیڈین راجیو نگم کی وہ ویڈیو یاد آجاتی ہے کہ جس میں وہ اپنے گھروالوں کے ساتھ پیدل چلتے ہوئے 20لاکھ کروڑ 20لاکھ کروڑ کا ورد کرتے ہیں کہ کوئی پوچھ لیتا ہے کہ بھائی کیا ہے یہ 20لاکھ کروڑ۔ نگم کہتے ہیں کہ پانچ دن سے بھوکا ہوں صاحب اور ابھی 20لاکھ کروڑ قدم اور چلنے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے وہ ویڈیو بھی ضرور دیکھی ہوگی کہ ایک سوٹ کیس کے اوپر ایک بچہ سویا ہوا ہے اور ایک خاتون وہ سوٹ کیس گھسیٹ کر لے جا رہی ہے۔ اس طرح کی ویڈیوز دیکھ کر آنکھیں خود بخود بھیگ جاتی ہیں کہ یہ 20 لاکھ کروڑ کے معاشی پیکیج سے ان غریبوں کو کیا فائدہ ہونے والا ہے؟

لیکن اس 20لاکھ کروڑ روپئے کے معاشی پیکیج کی ایک ندرت یہ بھی ہے کہ یہ راست طور پر قرض پیکیج ہے۔ میڈیا اسے ریلیف پیکیج بناکر اس کا موازنہ چین وجاپان جیسے ممالک کے پیکج سے کررہا ہے جنہوں نے اپنے مجموعی جی ڈی پی کا باالترتیب 3.8 اور 21.1 فیصد خرچ کیا ہے۔ لیکن یہ موازنہ کرتے ہوئے ان ممالک کی مجموعی جی ڈی پی اور آبادی کے تناسب کو نظر انداز کردیا جاتا ہے جو ان ممالک کی عوام کے لئے ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر چین کے ہی پیکیج کو لے لیں جہاں کی جی ڈی پی 14.14 ٹریلین ڈالر ہے اور وہاں کی آبادی 138 کروڑ ہے۔ اب اگر چین نے اپنے 14 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی میں سے 4 ٹریلین ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا ہے تو یہ اس کے عوام کے لیے بھرپور سے بھی زیادہ ہوگا۔ دوسری جانب اپنے ملک کی مثال لے لیں جہاں کی کل جی ڈی پی 2.94 ٹریلین ڈالر ہے اور آبادی 129کروڑ ہے۔ ایسے میں ہمارے پردھان سیوک نے 20لاکھ کروڑ روپئے یعنی کہ اپنی کل جی ڈی پی کے 10 فیصد کو معاشی ریلیف پیکیج کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس تفاوت کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے جی ڈی پی کے تناسب سے ملک کے عوام کو دیا جانے والا یہ راحتی پیکیج ملک کے حق میں کس قدر مفید ہے۔

    next