شرم کرو سرکار! شہید فوجیوں کے لواحقین ٹھوکریں کھانے کے لئے مجبور... نواب علی اختر

مودی حکومت کی نظرمیں ہندوستانی فوجیوں کی کتنی اہمیت ہے، اس کا اندازہ اتر پردیش کے شہید عابد خان اور راجستھان کے شہید ہوا سنگھ، منی رام کے لواحقین کے حالات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

تصویر نواب علی اختر
تصویر نواب علی اختر
user

نواب علی اختر

زبانی جمع خرچ کے لیے مشہور ملک کے وزیراعظم نریندر مودی اکثر جذباتی بیان بازی کر کے عوام کی ’مفت‘ ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں، حالانکہ ان کے اس ’ہنر‘ سے اب پورا ملک واقف ہوچکا ہے۔ کیونکہ اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ وہ کہتے کچھ ہیں مگر ہوتا کچھ اور ہی ہے۔ ابھی اتوار کی ہی بات ہے جب ’کارگل وجے دوس‘ کے موقع پر وزیر اعظم ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ میں ہندوستانی فوجیوں کی بہادری و قربانی کا ذکر کر تے ہوئے لوگوں سے اپیل کر تے نظر آئے کہ جنگ کے حالات میں ہمارا طرز عمل، رویہ اور تقریر سے فوجیوں کے حوصلے پر الٹا اثر نہ پڑے۔ جہاں تک میرا خیال ہے کہ لوگوں سے اس طرح کی اپیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ملک کا ہر شہری اپنے فوجیوں کے کارنامے اور ان کی قربانی کا دل سے احترام کرتا ہے، یہاں تک کہ اگر ہمارے جانباز فوجیوں کے کارنامے اور ان کی بہادری کا کریڈٹ کوئی اور لینے کی کوشش کرتا ہے توعوام کا خون کھول اٹھتا ہے، مگر اپیل کر کے اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرنے والے حکمرانوں کو فوجیوں کی نہیں بلکہ اپنی سیاست کی فکر ہوتی ہے، تبھی تو وہ سرجیکل اسٹرائیک کو مودی حکومت کا کارنامہ قرار دے کر وطن کے لیے جان کی بازی لگانے والے جوانوں کی شہادت کی توہین کرتے نظر آتے ہیں۔

شہید عابد خان (دائیں)، والد غفار خان اور والدہ نتھن بیگم، تصویر نواب علی اختر
شہید عابد خان (دائیں)، والد غفار خان اور والدہ نتھن بیگم، تصویر نواب علی اختر

مودی حکومت کی نظرمیں ہندوستانی فوجیوں کی کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ اترپردیش کے شہید عابد خان اور راجستھان کے شہید ہوا سنگھ کے لواحقین کے حالات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اترپردیش کے ہردوئی ضلع کے پالی قصبہ میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے عابد خان نے کارگل جنگ کے دوران 17 پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بعد جام شہادت نوش کی تھی۔ بدقسمتی اس بات کی ہے کہ جس بہادر فوجی نے اپنے ملک کے لئے بے مثال قربانی پیش کی، اس کی بیوی اور والدین کو ملنے والی پنشن 11 ماہ سے نہیں ملی ہے۔ پالی کے قاضی سرائے کے رہنے والے غفار خان اور نتھن بیگم کے سب سے بڑے بیٹے عابد کو ان کے مثالی کردار کے عوض 1995 میں آرمی میڈل سے نوازا جا چکا ہے۔

کارگل جنگ کے دوران یکم جولائی 1999 کو دشمنوں سے مورچہ لینے کے دوران ایک گولی عابد کے پیٹ میں لگی لیکن اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنی رائفل سے 17 دشمن کے فوجیوں کو ڈھیر کردیا۔ اسی دوران ایک گولی عابد کی گردن میں لگی جس کے بعدوہ سنبھل نہ سکے اور شہید ہو گئے۔ شہید کی اہلیہ فردوس نے بتایا کہ ان کو 7500 روپے ماہانہ اور ساس سسر کو 5 ہزار روپے ماہانہ پینشن ملتی تھی، لیکن پچھلے 11 ماہ سے انہیں پنشن نہیں ملی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطالبے پرگاوں کے اسکول کو ’شہید عابد خان ہائر پرائمری اسکول‘ کیا گیا مگر ستم بالائے ستم یہ کہ جس اسکول کا نام عابد کے نام پر رکھا گیا اس کے صدر دروازے پر لکھا شہید کا نام پینٹ کرکے چھپا دیا گیا ہے۔

اسکول کی تزئین کاری کے لیے باونڈری کی تعمیر ممبر اسمبلی مادھویندر پرتاپ سنگھ کے ایم ایل اے فنڈ سے ہوئی مگراس کے سنگ بنیاد کا جو پتھر لگایا گیا اس میں بھی شہید کا نام غائب کر دیا گیا۔ جب کہ شہید کے بھائی نے بتایا کہ اس کی خاندانی ڈھائی بیگہہ اراضی پر سرکاری اسکول بنایا گیا ہے۔ کئی بار اس زمین پر قبضہ دلوانے کے لیے حکومت اور انتظامیہ یہاں تک کہ وزارت دفاع کو بھی خط لکھا گیا مگر کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ شہید کے بھائی ناصر نے بتایا کہ مزار نیچے ہونے کی وجہ سے ہلکی بارش میں بھی وہاں تالاب جیسا منظر ہوتا ہے۔ اس معاملے پرانہوں نے کئی بار انتظامیہ سے مزار کے چبوترے کو اونچا کئے جانے کا مطالبہ کیا مگر ابھی تک کسی نے بھی اس پر دھیان نہیں دیا ہے۔

کرگل لڑائی کے دو دہائی گزر جانے کے بعد آج بھی شہیدوں کے کنبے اپنے حق اور عزت کے لئے دردر کی ٹھوکریں کھا کر سرکاری نظام کے آگے ہار مان چکے ہیں۔ راجستھان میں ضلع جھنجھنو کے باسمانا کے شہید ہوا سنگھ کا کنبہ حکومت کے ذریعہ اعلان شدہ مدد کا اب بھی انتظار کر رہا ہے۔ حکومت نے پہلے ہی شہید ہوا سنگھ کے کنبے کو سرکاری فیصلے کے مطابق مدد نہیں دی، پھر جو دیا وہ بھی چھین لیا۔ شہید کے کنبے سے ان کی زندگی جینے کے لئے دی گئی سہولیات چھیننے والی یہ داستان سرکاری نظام کی حقیقت بیان کرتی ہے۔

باسمانا گاوں اس دن فخر محسوس کر رہا تھا جب یہاں کا لاڈلا ہوا سنگھ کرگل کی لڑائی میں شہید ہوگیا۔ جب ہوا سنگھ کا جسد خاکی ترنگے میں لپٹا گاوں پہنچا تو سبھی کی آنکھیں نم تھیں۔ اس وقت حکومت نے شہیدوں کے کنبہ کو کئی سہولیات مہیا کرانے کا اعلان کیا تھا۔ اس میں پٹرول پمپ، کنبے کے ایک رکن کو سرکاری نوکری وغیرہ شامل تھیں، لیکن شہید کی بیوی منوج دیوی کو ایم اے بی ایڈ تک پڑھے ہونے کے بعد بھی نوکری نہیں ملی۔ کنبے کی گزر بسر کرنے کے لئے جو پٹرول پمپ ملا تھا، اسے کچھ سال بعد ہی کمپنی نے دھوکے سے واپس لے لیا۔ اب صرف دفتروں کے چکر لگانے کے علاوہ کنبے کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے۔ شہید کے گھر والے بتاتے ہیں کہ انہوں نے سرکاری نظام میں اپنی سہولیات کو دم توڑتے دیکھا ہے۔ اب وہ خود ہار کر بیٹھ گئے ہیں اور اب انہیں امید بھی کم ہی ہے کہ انہیں جو مدد ملنی تھی وہ انہیں ملے گی۔

کرگل کی لڑائی میں شہید ہوئے ضلع کے سیتھل گاوں کے شہید حولدار منی رام کی شہادت کو دو دہائی سے زیادہ وقت گزر گیا لیکن اب بھی شہادت کا اعزاز دینے میں حکومت کوئی زیادہ فکر مند نظر نہیں آتی ہے۔ شہید کے دو بیٹے نوکری کا انتظار کر رہے ہیں تو وہیں جس اسکول کا نام شہید کے نام سے کیا گیا تھا وہ بھی اب بند ہوگیا ہے۔ سیتھل کے شہید حولدار منی رام مہلا کرگل کی لڑائی کے دوران آپریشن وجے میں دشمنوں سے لڑتے ہوئے تین جولائی 1999کو شہید ہوگئے اور شہادت کے تین دن بعد چھ جولائی1999 کو ان کی لاش ان کے گاوں پہنچی۔ گاوں والے بتاتے ہیں کہ 1999 میں جب گاوں میں پہلی بار کسی شہید کی لاش آئی اس وقت جو گاوں کا ماحول تھا، اسے یاد کرکے آج بھی لوگ جذباتی ہوجاتے ہیں۔

شہید کے کنبے کو اعزاز دینے کی باتیں تو بڑی بڑی ہوتی ہیں لیکن دو دہائی گزرجانے کے بعد بھی منی رام کے کنبے کو اب بھی اعزاز نہیں ملا ہے۔ جو اعزاز ملا، وہ بھی واپس ہوچکا ہے۔ شہید کی بیوہ منی دیوی نے بتایا کہ جب ان کے شوہر شہید ہوئے تھے تو انہیں بتایا گیا تھا کہ ان کے بیٹوں میں سے ایک کو سرکاری نوکری ملے گی لیکن حکومت بدلی تو اصول بھی بدل گئے۔ اب سرکاری نوکری کے لئے وہ دو دہائی سے چکر لگا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ گاوں کے جس اسکول کا نام ان کے شوہر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ وہ بھی مرج کردیا گیا ہے۔ شہید منی رام نے دراس سیکٹر میں دشمنوں سے لڑائی لڑی اور شہید ہوگئے لیکن اب ان کا کنبہ سرکاری نظام سے لڑ رہا ہے، لیکن نہ تو حکومت اور نہ ہی انتظامیہ اس جانب کوئی توجہ دے رہا ہے جو حقیقت میں شہید اور شہادت دونوں کی توہین ہے۔ نہ صرف ہوا سنگھ اور منی رام بلکہ درجنوں کرگل شہیدوں کے کنبوں کو ملنے والی سرکاری نوکریاں لال فیتہ شاہی میں دب گئی ہیں۔ کچھ کو ملی اور کچھ کو نہیں لیکن حکومت آئی اور گئی، لیڈر آئے اور گئے، یقین دہانی سبھی نے کرائی لیکن ان کے زخموں کو مرہم لگانے کا کام کسی نے نہیں کیا۔

Published: 2 Aug 2020, 9:59 PM
next