عوامی مسائل پر سیاسی مفاد پرستی کو ترجیح ... نواب علی اختر

حکومت کی جانب سے کسی بھی مسئلہ پر عوام کو راحت دینے کے لیے کوئی عملی اور ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا ر ہے ہیں اور عوام کو مہنگائی کی مار کھانے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

تصویر نواب اختر
تصویر نواب اختر
user

نواب علی اختر

کورونا وباء کی وجہ سے ملک میں افرا تفری کا ماحول ہے۔ لوگ جہاں وائرس کا شکار ہو کر پریشان ہیں، وہیں ادویات کے معاملے میں بھی انہیں بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ ناکافی ثابت ہوتے جا رہے ہیں۔ جو حالات ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتیں اس معاملے میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہیں اور اب وہ عملاً ساری صورتحال اور ملک کے عوام سے لا تعلق ہوگئی ہیں۔ وہ یومیہ اساس پر متاثرین کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے صرف عوام سے ضابطہ کی تکمیل کے لیے اپیل جاری کرتے ہوئے خود سے بری الذمہ ہوتی جا رہی ہیں۔ ان سب کے باوجود حکومتیں اپنی ہی روش پر قائم اور بضد ہیں یہاں تک کہ ان کے سامنے اب بھی عوامی مقبولیت کے فیصلے اور اپنی ہی ترجیحات ہیں۔

حکومتوں کے رویئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے سامنے عوام کے حقیقی مسائل نہیں بلکہ وہ اب بھی ہر کام اور ہر مسئلہ کو سیاسی مفاد کی نظر سے دیکھنے کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں اور عوام کو اسی رخ پر لے جانا چاہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتہائی خوف اور افراتفری کے ماحول میں رام مندر کی تعمیر کی بات ہونے لگی ہے۔ فی الحال ملک کا جو ماحول ہے اور جو حالات پیدا ہوگئے ہیں ان میں حکومت کی ترجیحات صرف اور صرف کورونا وباء کی روک تھام، عوام کو مسائل سے نکالنے اور راحت پہنچانے اور معیشت کو بہتر بنانے پر ہونی چاہیے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ مختلف گوشوں کو عوام کو در پیش مسائل سے کوئی سر وکار نہیں ہے۔ وہ اپنے ہی خول میں بند رہنا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی گوشہ ایسا کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی محدود سوچ ہوسکتی ہے لیکن وزیر اعظم کو اپنی ترجیحات کو بالکل واضح کردینا چاہیے تاکہ ملک کے بھولے بھالے عوام جو ان کی جذباتی تقریروں پر آنکھ بند کر کے یقین کر لیتے ہیں انہیں اپنی نادانی کا احساس ہو جائے۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ اب ملک میں اس وائرس کا کمیونٹی ٹرانسمیشن شرو ع ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود حکومت اگر دوسرے غیر اہم مسائل میں خود کو الجھا لیتی ہے یا پھر مقبولیت پسند اعلانات کیے جاتے ہیں اور انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کوئی تقریب منعقد کی جاتی ہے تو یہ مفاد پرستی کی بدترین مثال ہوگی۔ رام مندر تعمیر کے لیے بھومی پوجن کا منصوبہ جس ٹرسٹ نے بنایا ہے وہ خود وزیر اعظم کا قائم کردہ ٹرسٹ ہے۔ اس میں وزیر اعظم اثر انداز ہوسکتے ہیں اور جو بھی منصوبے اور پروگرام ہیں انہیں بعد کے لیے مؤخر کیا جاسکتا ہے۔ مندر تعمیر کی راہ میں کوئی رکاوٹ فی الحال موجود نہیں ہے اور اس کی کوئی جلدی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ جو مسائل ملک اور قوم کو درپیش ہیں انہیں حل کرنا حکومت کی ترجیحات ہونی چاہئیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ عوامی مسائل کے تئیں مودی حکومت اپنی آنکھیں اور کان بند کرچکی ہے۔

حکومت کی جانب سے کسی بھی مسئلہ پر عوام کو راحت دینے کے لیے کوئی عملی اور ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا ر ہے ہیں اور عوام کو مہنگائی کی مار کھانے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عوام پر بوجھ ڈالنے والوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے کہ وہ لوٹ مچاتے رہیں۔ آج سارے ملک میں مہنگائی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ عوام کے مسائل اور پریشانیوں میں حد درجہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ اپنے گھر کے بجٹ کو سنبھالنے کی کوششوں میں اتنے الجھا دیئے گئے ہیں کہ وہ حکومت سے سوال کرنے کی حالت میں بھی نہیں رہ گئے ہیں۔ ان حالات میں مودی حکومت اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھاتی جا رہی ہے اور من مانے فیصلے بھی کیے جا رہے ہیں۔ عوام کو جوابدہی کا تصور ہی ختم کردیا گیا ہے اور اگر اپوزیشن کی جانب سے کبھی کبھار کوئی سوال کیا جاتا ہے اور اپنے وجود کا احساس دلانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کرکے انہیں خاموش کروا دیا جاتا ہے یا پھر مقدمات درج کر کے الجھا دیا جاتا ہے۔

آج سارے ملک کا جو حال ہے وہ انتہائی گہما گہمی اور افرا تفری والی تصویر پیش کرتا ہے۔ حکومت کے پاس عوامی مسائل پر توجہ دینے کو ضروری نہیں سمجھتی۔ حکومت اکسائز ڈیوٹی کے نام پر اپنے خزانے بھرنے میں لگی ہوئی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کالا بازاری عناصر من مانے انداز میں بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔ لوگ کسی طرح اپنی گزر بسر کر ر ہے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاون کے بعد تجارت اور کاروبار یکسر متاثر ہو کر رہ گیا ہے۔ چھوٹے موٹے تاجروں کے لئے اپنا گزر بسر بھی مشکل ہوگیا ہے۔ آج کروڑہا لوگ ملازمتوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ حکومتیں اس سلسلہ میں اقدامات کا اعلان تو کرتی ہیں لیکن حقیقی معنوں میں درکار تعداد میں لوگوں کو راحت نہیں مل پا رہی ہے۔ ایسے میں مہنگائی نے بھی رہی سہی کسر پوری کردی ہے اور ضرورت کی تقریباً ہر شئے عوام کی پہنچ اور رسائی سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔

قومی اہمیت کے حامل جو مسائل ہیں ان پر ایک جامع حکمت عملی کے ساتھ توجہ کے ساتھ حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کی قوت خرید میں اضافہ کرتے ہوئے مارکیٹوں کے حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس سے روزگار کی فراہمی کا مسئلہ بھی کچھ حد تک بہتر ہوسکتا ہے۔ سرکاری تیل کمپنیوں کو بھی حکومت ایک فارمولے کے تحت قیمتوں کے معاملے میں پابند کرسکتی ہے اور اسے ایسا کرنا بھی چاہیے۔ فیول کی قیمتوں کو قابو سے باہر ہونے سے بچاتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کو روکا جاسکتا ہے۔ عوام کی مالی حالت کو دیکھتے ہوئے حکومت کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت ہے جس سے پورے ملک کو خوش ہونے کا موقع مل سکتا ہے، رام مندر کی تعمیر سے صرف ایک طبقہ ہی آپ کی ’جے جے کار‘ کرے گا۔

next