ملزمین کو انعام، یہ کیسا ہے رام راج!... نواب علی اختر

اس معاملے نے جھارکھنڈ کے اس واقعہ کی یاد دلادی جس میں موب لنچنگ کے ملزمین ضمانت پر جیل سے رہا ہونے کے بعد سیدھے مرکزی وزیر کی رہائش پر پہنچے تھے جہاں ان تمام ملزمین کو ہار پہنا کر ’شاباشی‘ دی گئی تھی

تصویر نواب اختر
تصویر نواب اختر
user

نواب علی اختر

تقریباً دو سال پہلے بلند شہر میں گئو بھگتوں نے یہ شور مچایا کہ گئو کشی ہوئی ہے جب کہ ایک مستعد اور غیر متعصب پولیس انسپکٹر سبودھ سنگھ ہجوم کو امن و سکون کی تلقین کرنے وہاں پہنچے تو ان کو حملہ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔ در اصل اس پولیس افسر کی تلاش بہت دن سے ہو رہی تھی، کیونکہ اس نے ہجومی تشدد کے شکار محمد اخلاق کے معاملہ میں اپنی غیر جانبداری کا ثبوت دیتے ہوئے بتا دیا تھا کہ جس گوشت کے سلسلے میں جھگڑا ہوا وہ گائے کا نہیں تھا۔ اخلاق کے قتل میں مقامی بی جے پی لیڈر کا بیٹا بھی ملوث ہے حالانکہ اس مقدمہ کی پیش رفت کی کوئی خبر نہیں مل ر ہی ہے۔ واقعہ کے فوری بعد سبودھ سنگھ کا تبادلہ بلند شہر کردیا گیا اور موقع ملتے ہی ان کو ہلاک کردیا گیا۔

اسی قتل کا کلیدی ملزم شکھر اگروال ایک این جی او’ جن کلیان یوجنا سمیتی‘ میں شامل ہو گیا۔ اس معاملے میں بھی بی جے پی نے وہی کیا جو اب تک کرتی آئی ہے کہ سماج میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنے والے کو انعام و اکرام سے نوازا جائے۔ بھگوا پارٹی نے انسپکٹر کے قتل کے ملزم کو اس تنظیم کا جنرل سکریٹری بنا دیا۔ سمیتی کا کام یہ بتایا گیا ہے کہ وہ بی جے پی کی ذیلی تنظیم ہے اور وزیر اعظم کی فلاحی اسکیموں پر نظر رکھتی ہے۔ تشدد کے ملزم شخص کو ایک اہم منصب کے لئے نامزد کرنا اس کی پذیرائی کے مترادف ہے جسے کسی حال میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔

بھگوا تنظیم کے اس قدم پر اترپردیش سے لے کردہلی تک سیاسی زلزلہ آگیا۔ بی جے پی پر لعن و طعن کے درمیان پارٹی کے ضلع صدر نمودار ہوئے اور صفائی دینے لگے۔ وہیں مذکورہ این جی او نے بھی انسپکٹر کے قتل کے ملزم کو تنظیم سے باہر کرنے کا اعلان کردیا۔ جس نیم سرکاری تنظیم میں وہ کام کرنے لگا تھا اس کا پرانا نام ’پردھان منتری جن کلیان کاری یوجنا جاگ روکتا ابھیان‘ ہے۔ اس معاملہ کا پتہ اس وقت چلا جب ایک تصویر منظرعام پر آئی۔ 14جولائی کو ایک تقریب ہوئی تھی جس میں بلند شہر بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر انل سسودیا نے شکھر اگروال کو مبارکباد پیش کی تھی۔

بلند شہر میں تشدد کا واقعہ جس میں پولیس انسپکٹر سبودھ کی جان گئی تھی 2018ء میں اس وقت ہوا تھا جب واقعہ سے کچھ فاصلے پر تبلیغی جماعت کا ایک بڑا پروگرام ہو رہا تھا۔ اس مقدمہ میں شکھر اگروال اور پانچ دوسرے لوگ ماخوذ ہیں۔ یہ ملزم اس ہجوم میں شامل تھا جو آتشیں اسلحہ اور دوسرے ہتھیاروں سے لیس تھا اور جس نے پولیس دستے پر حملہ کیا تھا۔ فی الوقت سبھی ملزم ضمانت پر ہیں۔ اس واقعہ میں افواہ یہ اڑائی گئی تھی کہ گئو کشی کی گئی ہے اور اس واقعہ کے خلاف ہجوم کو اکٹھا کیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے گوشت کے کچھ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے درختوں پر لٹکا دیئے تھے، گوشت کی بڑی برآمدگی نہیں ہوئی تھی۔ درختوں پر گوشت کے لوتھڑوں کا لٹکا ہونا بتاتا تھا کہ یہ سب سازش ہے۔ کسی جانور کے باقیات آس پاس کہیں سے برآمد نہیں ہوئے تھے۔

اس سلسلے کی ایک دلچسپ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ مذکورہ این جی او کی سرگرمیوں پر عملدر آمد کے لئے ایک مشاورتی کمیٹی بھی ہے جس میں دیگر لوگوں کے علاوہ بی جے پی مرکزی لیڈرگری راج سنگھ، دھرمیندر پردھان، نریندر تومر، شیام جاجو اور رمیش پوکھریال نشنک شامل ہیں۔ ان میں کچھ لوگ مرکز کی مودی حکومت میں وزیر بھی ہیں۔ اس معاملے نے جھارکھنڈ کے اس واقعہ کی یاد دلا دی جس میں موب لنچنگ کے ملزمین ضمانت پر جیل سے رہا ہونے کے بعد سیدھے مرکزی وزیر کی رہائش گاہ پر پہنچے جہاں مرکزی وزیر نے تمام ملزمین کو ہار پہنا کر’شاباشی‘ دی تھی۔

سلسلہ در سلسلہ واقعات ہیں۔ محمد اخلاق قتل کے مقدمہ کے فیصلہ کی نوبت نہیں آئی ہے اور سبودھ کے خون ناحق کے سلسلے میں پولیس نے اس انداز کا رویہ نہیں اختیار کیا جیسا کہ پولیس افسروں کی ہلاکت پر عام طور سے اختیار کیا جاتا ہے۔ پولیس کے ایک بڑے افسر نے حال ہی میں اس واقعہ کا ذکر کیا تھا لیکن مقتول پولیس افسر سے ہمدردی کا فقدان صاف نظر آتا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ملزموں کو اقتدار کا تحفظ فراہم ہوتا ہے۔ اگر ایسے مجرم کو اس طرح کا اعزاز ملے گا تو یقیناً اس سے ہمارے پولس افسران کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ آخریہ کیسا رام راج ہے!۔

Published: 23 Jul 2020, 7:11 AM
next