’’اقرباء میرے کریں قتل کا دعویٰ کِس پر‘‘… نواب علی اختر

دو حکومتوں کی سیاسی لڑائی میں اپنے پیاروں کی لاشیں اور محنت سے تیار کیے آشیانے کو خاک میں ملتے دیکھنے والوں کو انصاف ملنا تو دور کی بات، الٹے انہیں ہی مجرم بنا کرجیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا گیا۔

تصویر نواب اختر
تصویر نواب اختر
user

نواب علی اختر

رواں سال قومی راجدھانی کے شمال مشرقی دہلی میں ہوئے خوفناک فرقہ وارانہ فسادات کے دوران مسلم اکثریتی جعفرآباد علاقے میں خونریزی، املاک کی تباہی، فساد اور پرتشدد واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس میں سرکاری اندازے کے مطابق 53 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ یہ فساد بنیادی طور پرایک مخصوص ذہنیت کے انتہا پسندوں کی بھیڑ کے ذریعہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کی وجہ سے ہوئے۔ ہلاک ہونے والے 53 افراد میں سے دو تہائی مسلمان تھے جنہیں گولی مار دی گئی تھی، تلوار سے کاٹ کر آگ میں جلا دیا گیا۔ اس فساد نے پورے ملک کے انصاف پسندوں کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کردیا تھا اور پھر ہر طرف سے احتجاج اور صدائے انصاف بلند ہونے لگی جس کی وجہ سے دہلی پولیس اور اس کی سرپرست اعلیٰ مرکز کی بی جے پی حکومت کی نیند حرام ہو گئی۔

اس فساد میں دہلی پولیس کا جس قدر شرمناک چہرہ سامنے آیا اس نے مکمل طور پر مرکزی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کردیا تھا۔ ایسی صورت میں دہلی کی کیجریوال حکومت اور مرکز کی مودی حکومت پر بڑی ذمہ داری تھی کہ وہ فساد کے متاثرین کے زخموں پر مرحم رکھے اور قصورواروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے غیر جانبداری کا مظاہرہ کریں، مگر ہماری سیاست کا بھی جواب نہیں ہے۔ دو حکومتوں کی آپسی سیاسی لڑائی میں اپنے پیاروں کی خون میں سنی لاش اور محنت ومشقت سے تیار کیے گئے آشیانے کو خاک ہوتا دیکھنے والوں کو انصاف ملنا تو دور کی بات، الٹے انہیں مجرم بنا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا گیا۔ اس معاملے میں کیجریوال حکومت نے مظلوموں کے ساتھ انصاف اور قصورواروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا خوب ڈھنڈورا پیٹا، مگراس نے بھی وہی کیا جو دوسری حکومتوں کے دور میں ہوتا رہا ہے۔

اب تک کی بیشتر رپورٹوں میں یہی کہا گیا ہے کہ دہلی کے حالیہ فسادات کے لیے بی جے پی اوراس کے لیڈروں کے ساتھ ساتھ دہلی پولیس بھی ذمہ دار ہے جو مرکزی حکومت کے تابع ہے۔ اس پورے معاملے کو لے کر مرکزی اور دہلی حکومت آپس میں لڑ رہی ہیں۔ کیونکہ شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات اور قومی شہریت ایکٹ ( سی اے اے) مخالف احتجاج سے متعلق 85 معاملات میں حکومت کی کھال بچانے کے لیے مرکزی حکومت کے کہنے پر دہلی پولیس نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں تشارمہتہ اور امن لیکھی سمیت 6 سینئر وکلاء کو اسپیشل وکیل کے طور پر مقرر کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ ان معاملات میں اعلیٰ عدالتوں میں مرکز کے وکلاء پیروی کریں۔ حالانکہ دہلی حکومت نے مرکزی حکومت کے ماتحت دہلی پولیس کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

کیجریوال حکومت کے اس فیصلے کے بعد دہلی اور مرکزی حکومت کے درمیان ایک بار پھر جنگ کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام ریاست میں مرکزی حکومت کے نمائندہ لیفٹیننٹ گورنر(ایل جی) انیل بیجل نے دہلی حکومت کی تجویز کو خارج کردیا اور پھر اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس فائل کو طلب کر کے کہا ہے کہ وہ دہلی حکومت کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں اور معاملے کو صدرجمہوریہ کے پاس بھیجنے کی سوچ رہے ہیں۔ اسی معاملے پر جمعہ کو دہلی کے وزیر داخلہ منیش سسودیا اور لیفٹیننٹ گورنر انیل بیجل کے درمیان خفیہ میٹنگ بھی ہوئی جو تنازعہ کی نذر ہوگئی۔ واضح رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر مرکز کے تابع ہوتا ہے اور ایل جی کے پاس آئین میں خصوصی طاقت ہوتی ہے کہ وہ ریاستی حکومت کے کسی بھی فیصلے کو خارج کرنے کے لیے صدرجمہوریہ سے سفارش کرسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سفارش صدر کو ضرور بھیجی جاتی ہے مگراصل میں ایسے تمام فیصلے صدر کے نام پر وزارت داخلہ لیتی ہے جس کے مکھیہ آج کل امت شاہ ہیں۔

معلوم ہوکہ کچھ دن پہلے شمال مشرقی دہلی کے فسادات سے متعلق 750 معاملات کو دیکھنے کے لیے دہلی پولیس نے دہلی حکومت سے مرکزی حکومت کے 11 اور وکلاء کو نچلی عدالت میں مقرر کرنے کو کہا تھا مگر کیجریوال حکومت نے اسے مسترد کر دیا۔ بعد میں مرکزی حکومت نے ایل جی کے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دہلی حکومت کے فیصلے کو مسترد کرکے اپنے وکلاء کو مقرر کر دیا۔ اس وقت بھی دہلی حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان کافی تنازعہ ہوا تھا۔ اب اعلیٰ عدالتوں کے لئے بھی مرکزی وزارت داخلہ اپنے وکلاء کو مقرر کرنا چاہتی ہے جسے لے کر دہلی حکومت نے اپنی توہین کہہ کر مرکز کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔ پچھلے چند مہینوں میں جب نچلی عدالتوں کے کیس اپیل میں ہائی کورٹ گئے تو دہلی حکومت کے وکیل اور مرکزی حکومت کے وکلاء میں مارپیٹ کی نوبت تک آگئی تھی۔

متعدد مواقع پرعدالت میں ہی دہلی حکومت اور مرکزی حکومت کے وکیلوں میں جم کر کہا سنی ہوئی ہے۔ ایک معاملے میں تو اتنی زیادہ کہا سنی ہوگئی کی بات سامنے آئی کہ تشار مہتہ یہ کہہ کرکورٹ سے باہر چلے گئے کہ وہ اپنی اتنی بے عزتی برداشت نہیں کرسکتے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں کشمیر کی حاملہ خاتون صفورا زرگر اور فیصل کو ضمانت ملی ہے۔ شاید اسی لئے مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ ان معاملات میں اب اس کا ’اصل‘ کردار سامنے آسکتا ہے اس لیے کسی طرح اپنے وکیل لگائے جائیں جو متاثرین کو انصاف کی بجائے معاملے کو دوحکومتوں کی لڑائی کا رُخ دے کر’ تاریخ پر تاریخ‘ کی روایت کو آگے بڑھایا جا سکے۔غور طلب ہے کہ دہلی فسادات میں الزامات لگتے رہے ہیں کہ مرکزی حکومت کے اشارے پر دہلی پولیس غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کر رہی ہے۔ ایسے الزامات بھی لگے ہیں کہ بے گناہ لوگوں کو پھنسایا جارہا ہے اور بی جے پی کے قریبی قصورواروں کو بچایا جا رہا ہے۔

وہیں دہلی حکومت کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ وہ متاثرین کو انصاف دلانے میں’ایماندار‘ نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عدالتوں میں کارروائی لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ اب تک دہلی پولیس ان (مرکزی حکومت) کے فرمان پرعمل کرتی رہی ہے اس کے ساتھ ہی اب مرکزی حکومت معاملے کی پیروی کرنے کے لیے وکیل بھی اپنے ہی رکھنے پر بضد ہے۔ ان حالات میں مظلومین کو اب انصاف ملنے کی امید کرنا وقت کا ضیاع ہوسکتا ہے۔ اس موقع پر یہی کہا جائے گا کہ تمہیں قاتل، تمہیں رہبر، تمہیں منصف ٹھہرے... اقرباء میرے کریں قتل کا دعویٰ کس پر!۔ اس سنگین معاملے میں پورے حالات کو سمجھنے کے لئے مذکورہ شعر کافی ہوسکتا ہے۔

Published: 19 Jul 2020, 7:11 PM
next