سچن-سندھیا، جدید میر جعفر و میر صادق سے ہوشیار... ظفر آغا

کانگریس اور سیکولر ہندوستان کو سندھیا اور پائلٹ جیسے میر جعفر و میر صادق سے سخت خطرہ ہے جن سے کانگریس کو اور ہندوستان دونوں کو بچانے کی سخت ضرورت ہے۔

تصویر Getty Images
تصویر Getty Images
user

ظفر آغا

سچن پائلٹ، سچن پائلٹ، سچن پائلٹ! جی ہاں، آپ ٹی وی کھولیے، اخبار اٹھائیے یا کوئی ویب سائٹ دیکھیے، بس ایک نام ہے سچن پائلٹ، جس کی گونج ہے۔ لیکن یہ سچن کی دن رات میڈیا تسبیح کیوں! کیا سچن پائلٹ نے کوئی انقلاب بپا کر دیا؟ کیا سچن پائلٹ نے کوئی ایسا کارنامہ سرانجام دے دیا جس کے سبب راجستھان کے عوام کی زندگیوں میں کایا پلٹ ہو گئی؟ میڈیا میں ایسی کوئی بات سچن کے تعلق سے نظر نہیں آتی ہے۔ صرف ایک ہی بات کا ذکر ہے اور وہ یہ کہ نوجوان کانگریس لیڈر سچن پائلٹ راجستھان کے وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں لیکن 'بوڑھے' کانگریسی لیڈر اشوک گہلوت نے ان کا راستہ روک رکھا ہے۔ میڈیا کے مطابق آخر سچن پائلٹ کے صبر کا پیمانہ چھلک اٹھا اور انھوں نے کانگریس ایم ایل اے ساتھیوں کے ساتھ اشوک گہلوت کی سرکار کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ لیکن ان کی بغاوت دو تین دن کے اندر ٹائیں ٹائیں فش ہو گئی اور اب پارٹی ان کے خلاف سخت ڈسپلنری قدم اٹھانے کو تیار ہے جس کے خلاف وہ ان کے ساتھی راجستھان ہائی کورٹ چلے گئے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان کے مقدمے کی جو دہلی کے بڑے وکیل ہریش راوت اور مکل روہتگی پیروی کر رہے ہیں ان کا بی جے پی سے گہرا تعلق ہے۔ پھر کانگریس نے کچھ آڈیو ٹیپ بھی ریلیز کیے ہیں جن میں سچن پائلٹ کے ساتھی مرکزی وزیر شیخاوت کے ساتھ گہلوت سرکار گرانے کی سازش کر رہے ہیں۔

یہ ہے سچن پائلٹ کی بغاوت کی کہانی۔ یعنی سچن پائلٹ اشوک گہلوت کے خلاف ذاتی اقتدار کی لڑائی لڑ رہے تھے۔ ان کی بغاوت میں نہ تو کسی قسم کا نظریاتی عنصر تھا اور نہ ہی عوام کی خدمت کا کہیں کوئی جذبہ تھا۔ لب و لباب یہ کہ سچن اقتدار کی ہوس میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی سے ہاتھ ملانے کو راضی تھے۔ اب آپ سمجھے ہندوستانی میڈیا سچن پائلٹ کے قصیدے کیوں پڑھ رہا ہے۔ دراصل ہندوستانی میڈیا کو ہر اس شخص سے پریم ہونے لگتا ہے جو کسی بھی طرح کانگریس اور گاندھی خاندان کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سچن پائلٹ کی بغاوت سے دونوں ہی کاموں میں مدد ملی ہے۔ بس اسی لیے سچن پائلٹ میڈیا اور مودی بھگتوں کی آنکھ کا تارا بن گئے ہیں۔

حقیقت صرف یہ ہے کہ سچن پائلٹ دراصل بی جے پی کی کانگریس مٹاؤ تحریک کے محض ایک مہرا ہیں جن کا استعمال بی جے پی راجستھان میں کانگریس کا قلع ڈھانے کے لیے کر رہی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ سنہ 2014 میں نریندر مودی نے برسراقتدار آنے کے بعد کانگریس مکت بھارت کا نعرہ بلند کیا تھا۔ یعنی مودی کو اس بات کا اندازہ تھا کہ ان کی حکومت اور بی جے پی-سنگھ کے ہندو راشٹر پروجیکٹ کو اگر کہیں سے خطرہ ہے تو وہ صرف کانگریس ہی ہے۔ کیونکہ بھلے ہی 2014 کے بعد سے بی جے پی ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہو گئی ہو لیکن کانگریس آزادی کے بعد سے حال تک ملک کی سب سے بڑی پارٹی رہی ہے۔ کانگریس کی ایک سنہری تاریخ ہے۔ اس نے آزادی کے قبل جنگ آزادی میں ملک کی قیادت کی اور گاندھی، نہرو، پٹیل و آزاد جیسے درجنوں بے لوث لیڈر ملک کو دیئے۔ پھر آزادی کے بعد جواہر لال نہرو کی قیادت میں جمہوریت کے قیام سے لے کر آئین اور ایک سیکولر و ماڈرن ہندوستان کی تخلیق میں سب سے نمایاں رول ادا کیا۔ اس کے ساتھ کانگریس نے ہی ملک میں ہندو-مسلم-سکھ-عیسائی ہر قوم اور ہر ذات کے لوگوں کو برابری کے حقوق دیئے اور جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تقریباً 70 برس تک آزادی کے بعد سنگھ اور بی جے پی ملک کو ہندو راشٹر بنانے میں ناکام رہی۔

بس یہی ہے کانگریس کا قصور کہ اس نے آزادی کے بعد ہندوستان کو ہندو راشٹر بننے سے روکا کیوں۔ اس لیے کانگریس کو فنا کرنا ہی بی جے پی کا اولین مقصد ہے۔ کیونکہ جب تک کانگریس باقی ہے تب تک ایک سیکولر اور جدید ہندوستان کا خطرہ باقی رہے گا اور اس سے سنگھ اور بی جے پی کا ہندو راشٹر پروجیکٹ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے نریندر مودی نے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ بلند کیا اور بی جے پی سنہ 2014 سے اب تک اسی کام کو سرانجام دینے میں مصروف ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کانگریس کو ختم کیسے کیا جائے! اس کے دو سب سے کارگر نسخے ہیں۔ اولین کانگریس سے کسی طرح گاندھی خاندان کی قیادت ختم کی جائے، کیونکہ گاندھی خاندان کے افراد ہی وہ ہیں جن کے تئیں ہندوستانی عوام کو اب تک عقیدت ہے۔ نہرو سے لے کر سونیا تک تمام افراد وہ ہیں جنھوں نے ملک کے لیے کچھ کیا ہے۔ ملک کے لیے اپنی جان کی قربانی دی ہے۔ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے ہندوستان کے لیے اپنی جانیں گنوا دیں۔ جواہر لال نے ایک جدید ہندوستان کا تصور اور بنیاد رکھی۔ اندرا گاندھی نے غریبی کے خلاف اہم قدم اٹھائے۔ راجیو کی بدولت ہندوستان میں آئی ٹی انقلاب آیا۔ پھر سونیا گاندھی نے یو پی اے حکومت کے دوران ملک کی تقریباً 12 فیصد آبادی کو غریبی کی سطح سے بلند کر ان کو راحت دی۔ ان کی خدمات کے سبب عوام آج بھی گاندھی خاندان میں عقیدت اور ان کے وارثوں کو امید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور یہ بات بی جے پی و نریندر مودی کو کھٹکتی ہے۔ اسی لیے 'کانگریس مکت بھارت' کے لیے پہلے کانگریس کو گاندھی خاندان سے مکت کرنا ضروری ہے۔ اسی لیے سنگھ اور سنگھی میڈیا دن رات جواہر لال نہرو سے لے کر راہل اور پرینکا گاندھی تک پورے گاندھی خاندان کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے۔ کیونکہ اگر یہ خاندان کمزور ہوا تو کانگریس کمزور ہوگی اور اس طرح کانگریس مکت بھارت یعنی ہندو راشٹر کو تقویت ملے گی۔

کانگریس کو کمزور کرنے کا دوسرا سب سے آسان طریقہ ہے کہ مرکز میں اقتدار کھونے کے بعد سے کانگریس کے پاس جن جن ریاستوں میں اقتدار بچ گیا ہے ان تمام ریاستوں میں کسی نہ کسی طرح کانگریس کی ریاستی سرکار گرا کر وہاں پر بی جے پی حکومت قائم کرو۔ سنہ 2014 میں جب سے مودی برسراقتدار ہوئے ہیں تب سے یہ کام جاری ہے۔ اب تک کم از کم نصف درجن ریاستوں میں بی جے پی اس عمل میں کامیاب ہو چکی ہے۔ پہلے تو کانگریس کے اہم لوگوں کو خرید کر ان کو بی جے پی میں شامل کرواکر چناؤ جیتنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ مثلاً آسام میں یہ کام اہم کانگریسیوں کو توڑ کر کیا گیا۔ پھر نارتھ ایسٹ کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں خرید و فروخت کر یہ کارنامہ سرانجام دیا گیا۔ اسی طرح گوا میں جب کانگریس سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری تو گورنر کا استعمال کر وہاں کانگریس کی حکومت بننے میں اڑنگے لگائے گئے۔ پھر کانگریسیوں کی خرید و فروخت کر وہاں بی جے پی کی حکومت قائم کی گئی۔ اسی طرح کرناٹک میں کانگریس برسراقتدار آ گئی لیکن جلد ہی وہاں پیسوں کے زور پر کانگریس میں پھوٹ پیدا کر کرناٹک کی کانگریس سرکار کا خاتمہ کر دیا گیا۔ ابھی چند ماہ قبل مدھیہ پردیش میں وجے راجے سندھیا کے ساتھ ان کے لوگوں کو ملا کر مدھیہ پردیش کانگریس حکومت کا خاتمہ کیا گیا۔ اب راجستھان میں سچن پائلٹ کے ذریعہ وہی کوشش تھی جو فی الحال ناکام ہو گئی ہے۔

الغرض بی جے پی 'کانگریس مکت بھارت' مشن کو پورا کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے، اور اس مشن کو پورا کرنے کے لیے وہ سندھیا، پائلٹ یا ان کے جیسے اقتدار کے لالچی تمام مہروں کا استعمال کرنے کو ہر وقت تیار ہے۔ ایسے تمام افراد محض ذاتی اقتدار کے لیے کانگریس کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کو میر جعفر و میر صادق کی طرح تیار ہیں، جن کو وطن، عوام اور کانگریس سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ ان کا مشن بی جے پی سے ہاتھ ملا کر ذاتی اقتدار کے لیے 'کانگریس مکت بھارت' مشن کو کامیاب بنانا ہے۔ بھلے ہی میر جعفر و میر صادق کی طرح آخر بی جے پی ان کو بھی کیوں نہ نگل جائے۔ لیکن فی الحال کانگریس اور سیکولر ہندوستان کو سندھیا اور پائلٹ جیسے میر جعفر و میر صادق سے سخت خطرہ ہے جن سے کانگریس کو اور ہندوستان دونوں کو بچانے کی سخت ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ آزاد ہندوستان کے میر جعفر و صادق کامیاب ہوتے گئے تو ہندو راشٹر کا خطرہ بڑھتا چلا جائے گا جس کا سب سے بڑا شکار اس ملک کی اقلیتیں ہوں گی۔

    Published: 19 Jul 2020, 9:11 AM
    next