!وکاس دوبے کے 'قتل' پر انسانی حقوق کا ماتم کیوں... نواب علی اختر

یوگی حکومت کے تین سالوں میں انکاؤنٹر میں 112 ہلاکتیں ہوئیں۔ اس دوران یوگی کے 1977 کے فساد میں ملوث ہونے کی داخلی جانچ کی رسم بھی پوری ہوگئی اور وزیر اعلیٰ کے خلاف کچھ بھی غلط نہیں ملا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

اترپردیش کی یوگی حکومت میں قانون کا قتل ایک عام بات ہوگئی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ریاست کے غنڈہ عناصر کو بڑی حد تک سیاسی سرپرستی حاصل ہوتی ہے اور اسی وجہ سے یہ عناصر پولیس سے دوستیاں گانٹھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ عناصر ہیں جنہیں سیاسی قائدین بھی اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں اور انہیں کے ذریعہ پولیس عملہ بھی خوش رہتا ہے۔ ہسٹری شیٹر وکاس دوبے کے فرار اور مبینہ انکاؤنٹر کے معاملے میں جو حقائق سامنے آئے ہیں ان سے یہ تمام الزامات درست ثابت ہوجاتے ہیں کہ پولیس مجرمین کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے ان کو قانون اور کسی بھی طرح کی قانونی کارروائی سے بچانے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ اس کی مثال ایک تھانے میں سابق وزیر کے قتل کا مقدمہ ہے۔ وکاس دوبے نے تھانے میں گھس کر ایک وزیر کو قتل کر دیا تھا۔ تاہم جب اس کا مقدمہ عدالت میں چلا تو بشمول پولیس تمام گواہان اپنے بیانات سے منحرف ہوگئے۔ کسی نے بھی دوبے کے خلاف گواہی نہیں دی اور نتیجہ میں وہ عدالت سے بری ہوگیا۔

ایسے ہی کئی اور معاملے ہیں جن میں وکاس دوبے اور سیاستدانوں اور پولیس اہلکاروں کے روابط اور ساز باز کے واضح اشارے موجود تھے لیکن ایسا لگتا ہے کہ سیاستدانوں اور پولیس اہلکاروں نے اب اس باب کو ہی ختم کردینے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ ان کے کردار بے داغ بنے رہیں اور ان کی کالی کرتوتوں کا بھانڈہ نہ پھوٹ سکے۔ اترپردیش کو جرائم اور مجرمین سے پاک بنانے کا راگ الاپنے والے آدتیہ ناتھ کی حکومت میں قانون جس طرح ایک مجرم کے سامنے بے بس نظرآئی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اب نہ صرف یو پی حکومت بلکہ مرکز کو بھی اس سارے معاملے پرصفائی دینا چاہیے لیکن یہ تب ہوگا جب یوگی حکومت اپنے قول وفعل میں پائے جانے والے تضادات ختم کرے گی۔ وکاس دوبے کے ساتھ بالی ووڈ کی فلموں جیسی کہانی کو انجام دیا گیا ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح سے جرائم کی دنیا کے بے تاج بادشاہوں کو کسی موڑ پر پولیس اور سیاستدان اپنے لئے استعمال کرتے ہیں اور پھر جب کام ختم ہوجاتا ہے تو اپنے کردار کو بے داغ رکھنے کے لیے مجرم کو ’ٹھوک‘ دیا جاتا ہے۔

اترپردیش میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جرائم پر قابو پانے کے نام پر پولیس کو انکاؤنٹر ’ٹھونک دو‘ کی کھلی چھوٹ دی جس پر کافی تنازعہ بھی ہوا۔ اعدادوشمار کی بات کریں تو یوگی حکومت کے تین سالوں میں انکاؤنٹر میں 112 ہلاکتیں ہوئیں۔ اس دوران یوگی کے 1977 کے فساد میں ملوث ہونے کی داخلی جانچ کی رسم بھی پوری ہوگئی اور وزیراعلیٰ کے خلاف کچھ بھی غلط نہیں ملا۔ یوگی کے دور اقتدار میں ہوئے انکاؤنٹروں پر اکثر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ یو پی میں جہاں پولیس انکاؤنٹر میں اموات کے معاملے بڑھے ہیں۔ وہیں پورے ملک کی بات کریں تو انکاؤنٹر میں ہلاکتوں کے معاملات کم ہو رہے ہیں۔

جنوری 2019 کو حکومت نے راجیہ سبھا کو بتایا تھا کہ 2018 میں ہندوستان میں 22 فرضی انکاؤنٹر ہوئے۔ ان میں17 یعنی 77 فیصد سے بھی زیادہ اتر پردیش میں ہوئے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے ایک آر ٹی آئی کے جواب میں بتایا تھا کہ ہندوستان میں 2000 سے 2018 کے درمیان 18 سالوں میں 1804 انکاؤنٹرہوئے۔ ان میں 811 فرضی انکاؤنٹر یعنی 45 فیصد صرف اتر پردیش میں ہوئے۔ یوگی حکومت آنے سے پہلے ملک میں سب سے زیادہ آسام، میگھالیہ، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ میں انکاؤنٹر ہوتے تھے۔ چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ نکسل متاثر ہیں۔ وہیں آسام اور میگھالیہ بھی شدت پسندی سے متاثر رہے ہیں۔ یوگی حکومت آنے کے بعد اترپردیش میں مذکورہ ریاستوں سے بھی زیادہ انکاؤنٹر ہونے لگے۔

ان تمام حالات کے لیے راست طور پر ہمارا سسٹم ذمہ دار ہے کیونکہ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ یہ سسٹم پہلے مجرم بناتا ہے اور اس کے بعد جب اسے سوٹ نہیں کرتا تو ختم کرنے میں لگ جاتا ہے۔ کانپور میں مارے گئے سی او دیویندر مشرا 1998 میں کانپورمیں سپاہی تھے،اس وقت وکاس دوبے اور انسپکٹر ہری موہن یادو کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ اس دوران مشرا نے فائرنگ کی جو کسی وجہ سے ’مس‘ ہو گئی۔ اس کے بعد دونوں میں ہاتھا پائی ہوگئی۔ اس معاملے میں وکاس دوبے کو اسمیک کی پڑیا کے ساتھ بند کردیا گیا جس میں آسانی سے ضمانت ہو جاتی ہے۔ اگر قانون کی پاسداری کرتے ہوئے دوبے کے ساتھ کارروائی کی جاتی تو اسے احساس ہوتا کہ اس نے غلط کیا ہے لیکن جب ’معمولی‘ جرم میں بچوں کی طرح پھنسایا جاتا ہے تو اس شخص کے اندر انتقامی جذبہ پیدا ہونا فطری ہے۔ کانپور کی واردات صرف پولیس اور کریمنل کی لڑائی نہیں ہے بلکہ اس میں ذاتی دشمنی کا بھی دخل ہے اور شاید اسی لئے دوبے سی او دیویندر کے راڈار پر تھا، ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایم ایل اے سے لیٹر لکھوا کر سی او خود اسے ڈی جی آفس پہنچائیں۔

دوبے انکاؤنٹر پر میڈیا ایک بڑا طبقہ خود کو انسانی حقوق کا طرفدار ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی میڈیا جب جرائم کی دنیا کی چھوٹی مچھلیاں ماری جا رہی تھیں تب اسے کوئی پرواہ نہیں تھی، چند لوگوں کے ذریعہ اٹھائی گئی آواز نقارخانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ گئی تھی۔ ملک کا مین اسٹریم میڈیا اس وقت ہی یہ آواز اٹھاتا تو شاید اس کا کچھ اثر ہوتا۔ آج ان کے ذریعہ کیا جارہا واویلا اس لئے بے معنی ہوجاتا ہے کیونکہ اس سے پہلے کے واقعات کی پیروی کر کے اسے دبانے کا کام کیا جاتا رہا۔ مگر آج جب انہیں احساس ہو رہا ہے تو ان کی آواز بھی دبائی جا رہی ہے۔ چیخ چیخ کر انسانی حقوق کی دہائی دی جا رہی ہے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ انسانی حقوق اس وقت کہاں تھا جب ایک ریاست کا وزیراعلیٰ کہتا ہے’ٹھونک دو‘!۔ انسانی حقوق کو لے کرایک مخصوص طبقہ میں اس وقت جتنی بے چینی دیکھی جا رہی ہے وہ اس سے پہلے ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کیوں نہیں ہوئی۔ اس واقعہ کے بعد ایسے میڈیا کو اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    next