یوگی کے اترپردیش میں ’ٹھونک دو‘ کا راج!...نواب علی اختر

اترپردیش میں مجرم افراد کھلے عام گھوم رہے ہیں اور خلاف قانون سرگرمیوں کو پوری شدت سے جاری رکھے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج اتر پردیش کو ’جنگل راج‘ بتایا جا رہا ہے۔

تصویرسوشل میڈیا
تصویرسوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

مٹھ کی گدی چھوڑ کر وزارت اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہونے والے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جب بھی موقع ملتا ہے، ریاست کے نظم ونسق کو بہتر بنانے کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں یہاں تک کہ نظم ونسق کے لیے ’خون خرابہ کو صحیح ٹھہراتے ہوئے ‘جرائم پیشہ کے انکاؤنٹر تک کو ضروری بتاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے محکمہ پولیس کو ’آزادی‘ دے رکھی ہے اور اسی لئے وزیراعلیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے یوپی پولیس یوگی کے ’ٹھونک دو‘ والے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے لگا تار’ٹھونک‘ رہی ہے مگر جرائم رکنے کے بجائے تقریباً ہر روز ریاست میں قتل، عصمت دری، رہزنی جیسے گھناؤنے جرائم بڑھتے جا رہے ہیں اور یوگی کی پولیس پوری طرح بے بس نظر آرہی ہے۔ ابھی چند روز قبل کی بات ہے جب یوپی پولیس کی طرف سے ایڈوائزری جاری کرکے لوگوں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے سنسان راستوں کا استعمال نہ کرنے اور عام راستوں پر ہی جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس ایڈوائزری سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ریاست میں نظم ونسق کی صورتحال کیا ہے۔

یوگی کے یوپی میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کے تعلق سے مختلف رپورٹوں میں مختلف حقائق کا اکثر انکشاف ہوتا رہتا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے بارہا یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اترپردیش کو جرائم سے پاک بنانے کے لیے مسلسل جدوجہد کی جا رہی ہے اور جرائم پیشہ افراد کا گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ مگر شرپسند عناصر لگاتار حکومت اور انتظامیہ کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں۔ جس وقت ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی تھی، ریاستی پولیس کو وسیع تر اختیارات دیئے گئے تھے جس کے نتیجہ میں ریاست میں ایک سے زائد انکاؤنٹر ہوئے اور کچھ افراد کو موت کے گھاٹ بھی اتار دیا گیا تھا۔ جب انکاؤنٹروں کے تعلق سے حکومت سے سوال کیا گیا تو اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ جرائم پیشہ افراد کے تعلق سے سخت رویہ ضروری ہے تاکہ لوگوں کو پرسکون زندگی فراہم کی جاسکے لیکن ریاست کی حقیقی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔

پولیس فورس کو مستعد اور متحرک بنانے کے ریاستی حکومت کے دعوے بالکل کھو کھلے ثابت ہوئے ہیں اور ان میں کسی طرح کی سچائی نظر نہیں آتی۔ دو روز قبل ریاست کی صنعتی راجدھانی کانپور میں ایک انکاؤنٹر ہوتا ہے اور وکاس دوبے نامی جرائم پیشہ کے گھر پر چھاپہ مارنے پر وہاں سے فائرنگ ہوتی ہے اور 8 پولیس اہلکار شہید ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک انکاؤنٹر ہی اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کی صحیح عکاسی کرنے کے لیے کافی ہے۔ ریاست میں جرائم پیشہ کے خلاف نام نہاد سخت کارروائی کے باوجود برائے نام بھی پولیس کا خوف ان میں نہیں رہ گیا ہے اسی لئے انہیں گولیوں سے نشانہ بنانے سے بھی مجرمین گریز نہیں کر رہے ہیں۔ اترپردیش میں مجرم افراد دھڑلے سے گھوم رہے ہیں اور خلاف قانون سرگرمیوں کو پوری شدت سے جاری رکھے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج اترپردیش کو’جنگل راج‘ بتایا جارہا ہے اورعوام گالی اور گولی سے بری طرح دہشت میں ہیں۔ا

ترپردیش میں پولیس محکمہ کے کام کاج میں سرکاری مداخلت بھی ایک سنگین مسئلہ ہے اور اسی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ اپنی سرگرمیوں کو کسی روک ٹوک کے بغیر جاری رکھ پاتے ہیں۔ حکومتوں کو اس کا سختی سے نوٹس لینے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اترپردیش میں پولیس محکمہ حکومت کی ایماء پر کم اور سیاسی مداخلت کے ذریعہ زیادہ کام کرتا ہے جس کا نتیجہ انکاؤنٹر کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ سیاسی مداخلت کی وجہ سے ہی پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے جواب طلبی بھی ممکن نہیں ہو پا رہی ہے جبکہ جواب طلبی ضروری ہے۔ وقفہ وقفہ سے اترپردیش میں پیش آنے والے واقعات سے سارا ملک واقف ہے کہ کس طرح وہاں قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ کہیں جرائم پیشہ افراد سرگرم ہوتے ہیں تو کہیں خود پولیس اہلکار قانون کی دھجیاں اڑانے سے گریز نہیں کرتے اور وہ من مانے انداز میں کام کرتے ہیں۔ پولیس کے ذریعہ چوراہوں اور بازاروں میں کھلے عام ’جیب بھرائی‘ کی روایت کا بھی جرائم کو بڑھاوا دینے میں اہم رول ہے۔

نیشنل کرائم بیورو کے اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ تقریباً ہر جرم میں اترپردیش ملک کی دوسری تمام ریاستوں سے سر فہرست ہے۔ چاہے قتل ہو، اقدام قتل ہو، عصمت دری ہو، اغوا ہو، تاوان کی وصولی ہو یا پھر کوئی اور جرم ہو، ہر معاملے میں اترپردیش سر فہرست ہے۔ ریاستی حکومت کو صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری کا احساس کرنے اور جرائم پر قابو پانے کے لیے بیان بازی سے اوپر اٹھ کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ واقعی جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیوں کو روکا جاسکے اور عوام کو ’گالی گولی‘ سے آزاد پرسکون ماحول فراہم کیا جاسکے۔ مگرایسا ہونا مشکل نظرآتا ہے کیونکہ پچھلے 4 سالوں کا ریکارڈ دیکھا جائے تو شرپسند عناصر کے حوالے سے یوگی حکومت کی کارکردگی صفر نظر آئے گی۔ زیادہ تر واقعات میں سیاسی انتقام کے تحت ہی ’کارروائی‘ دیکھنے کو ملے گی ورنہ کیا وجہ ہے کہ موب لنچنگ، گئو رکشا کے نام پرخون خرابہ جیسے واقعات مسلسل جاری ہیں۔

    Published: 5 Jul 2020, 6:11 PM
    next