’تیل کا کھیل‘ اور عوام کی جلتی امیدیں...نواب علی اختر

کورونا وباء کے دور میں حکومتوں سے عوام کو امداد کے نام پر چند روپئے فراہم کرتے ہوئے خود کو شاباشی دی جاتی ہے لیکن اس سے کئی گنا زیادہ پیسہ ٹیکس اور محصول کے نام پر وصول کیا جاتا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

ایسے وقت میں جبکہ ساری دنیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی تباہی اور معاشی نقصانات کی وجہ سے حکومتیں عوام کو مختلف انداز سے راحتیں پہنچانے میں مصروف ہیں اور ہر ممکن کوششیں کر رہی ہیں وہیں ہمارے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے ذریعہ عوام کی جیبوں پر بڑی خاموشی سے ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ حالانکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بہت زیادہ کم ہوگئی ہیں۔ اس کے باوجود ملک میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ یہ منظم اور خاموش انداز میں عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے جیسا عمل ہے ۔

مرکزی حکومت کی جانب سے تیل کمپنیوں پر عملاً کنٹرول ختم کر دیا گیا ہے اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو عالمی مارکیٹ سے مربوط کر دیا گیا ہے ۔ عالمی مارکیٹ میں جب کبھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اس کا راست بوجھ عوام پر تھوپ دیا جاتا ہے اور حکومت بری الذمہ ہوجاتی ہے اور جب بھی تیل کی قیمتوں میں کمی آتی ہے جیسے اب آئی ہوئی ہے ،حکومت اس کا فائدہ بھی عوام کو منتقل کرنے کی بجائے اکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کرتے ہوے عوام کو اس راحت سے محروم کر دیتی ہے اور خود اپنے خزانے بھرنے میں جٹ جاتی ہے ۔ سرکاری خزانہ کی لوٹ مار ملک کے چنندہ اور مٹھی بھر کارپوریٹ تاجر اور کمپنیاں کرتی ہیں۔ ان سے قرضہ جات کی واپسی کی جو شرح ہے وہ انتہائی کم ہے اس سے حکومتوں کی ساز باز کے اندیشے تقویت پاتے ہیں۔

کسی اعلان کے بغیر خاموشی سے یہ اضافہ کیا جا رہا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا راست اثر نہ فیول کی خریدی سے بلکہ دوسری اشیائے ضروریہ کی خریدی سے بھی عوام پر ہی پڑتا ہے ۔ عوام کی جیبیں خالی ہوتی ہیں۔ ڈیزل کی قیمت میں جیسے ہی اضافہ ہوتا ہے اشیائے ضروریہ کی منتقلی پر اس کا اثر ہوتا ہے اور اس کی بھرپائی بھی عوام سے زائد قیمتیں وصول کرتے ہوئے کی جاتی ہے ۔ یہ ایک متواتر لوٹ ہے جو عوام کو سہنی پڑتی ہے اور لچھے دار جملوں میں الجھا کر عوام کو اس کا احساس تک ہونے نہیں دیا جا رہا ہے ۔ حکومتیں تیل کی قیمتوں کو عالمی منڈی کی صورتحال سے جب مربوط کرتی ہیں تو انہیں اندرون ملک بھی پٹرول اور ڈیزل کو جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں لاتے ہوئے اس کی ایک شرح اور حد مقرر کرنے کی ضرورت ہے ۔

ملک بھر میں کورونا وائرس کے قہر کی وجہ سے کروڑہا افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔ بے شمار لوگ پہلے ہی روزگار سے محروم ہو چکے ہیں اور مزید کروڑوں لوگوں کا روزگار بھی داو پر لگا ہوا ہے ۔ ایسے میں عوام کے پاس اشیائے ضروریہ کے حصول کیلئے ہی پیسے نہیں ہیں اور حکومتیں ان کو راحت پہنچانے کی بجائے انہیں لوٹنے میں مصروف ہیں۔ کورونا وباء کے دور میں حکومتوں سے عوام کو امداد کے نام پر 500 روپئے یا 1500 روپئے فراہم کرتے ہوئے خود کو شاباشی دی جاتی ہے لیکن اس سے کئی گنا زیادہ پیسہ ٹیکس اور محصول کے نام پر وصول کیا جاتا ہے ۔ یہ عوام سے ہمدردی کے نام پر ایک دھوکہ ہے اور اس کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ۔ پٹرول اور ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی کی ایک حد مقرر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مارکیٹ کے حالات کے اعتبار سے عوام کو بھی قدرے راحت مل سکے ۔

جس وقت نریندر مودی حکومت نے مرکز میں اقتدار سنبھالا تھا اس وقت تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں بہت زیادہ تھیں اس کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمت آج کی قیمت سے کم تھی ۔ عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھانے کے ماہر نریندر مودی نے ہمیشہ اپنی تقاریر کے ذریعہ عوام کو گمراہ کیا اور ان کو بیوقوف بنایا ۔ کل انہوں نے یوروپی اقوام میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کا اترپردیش کی اموات سے تقابل کیا ۔ وائرس کے جو اثرات ہیں وہ موسمی تغیر کی وجہ سے ہر مقام پر مختلف ہوتے ہیں۔ ہندوستان کی سبھی ریاستیں اس وائرس سے متاثر ہیں لیکن ہر ریاست میں اس کے اثرات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

سارا ملک کورونا وائرس کی وجہ سے پریشانیوں کا شکار ہے ۔عوام جہاں مہنگائی کی وجہ سے پریشان تھے وہیں اب کورونا وائرس اور اس کے بعد کئے گئے لاک ڈاون کی وجہ سے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی طرح لاک ڈاون نے رہی سہی کسر پوری کردی اور ملک کی معیشت بے تحاشہ متاثر ہوئی ہے ۔ عوام کا روزگار متاثر ہوگیا ہے ۔ کروڑ وں لوگ آمدنی سے محروم ہوگئے ہیں۔ ایسے میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اور خاموشی سے اضافہ کرتے ہوئے حکومت ان کی جیبوں پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے جہاں اموات کا تقابل کیا ہے وہیں انہیں پٹرولیم اشیا کی قیمتوں کا تقابل کرتے ہوئے عوام کو راحت دینے کے لیے اکسائز ڈیوٹی میں کمی کا اعلان بھی کرنا چاہئے ۔

Published: 28 Jun 2020, 8:40 PM