شی جن پنگ سے پردھان سیوک کا روحانی رشتہ... اعظم شہاب

جب ہندوستان اورچین کے درمیان آفیسرسطح کی تمام بات چیت ناکام ہو رہی ہیں تو پھر پردھان سیوک جی خود چینی صدر سے بات کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ چینی صدر سے تو ان کا روحانی رشتہ ہے۔

شی جنپنگ سے پردھان سیوک کا روحانی رشتہ
شی جنپنگ سے پردھان سیوک کا روحانی رشتہ
user

اعظم شہاب

ہمارے پردھان سیوک جی کا چین کے صدر شی زن پنگ سے روحانی رشتہ ہے۔ یہ بات ہم یوں ہی نہیں بلکہ پردھان سیوک کے اس بیان کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں جو انہوں نے مئی 2015 میں چین کے دورے کے دوران شنگھائی میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی تھیں۔ یقین نہ ہو تو ان کی وہ تقریر آپ خود ہی سن لیں جو خوش قسمتی سے ابھی تک یوٹیوب پر موجود ہے۔بس یوٹیوب پرجاکر صرفChina Diaries: Modi Speech ٹائپ کردیں، ان کی تقریر کی ویڈیو سامنے آجائے گی۔

جس وقت پردھان سیوک جی یہ کہتے ہیں کہ ”دو دیشوں کے مکھیا، اتنا آتمیتا (روحانی تعلق)، اتنی نکٹتا(قربت)، اتنا بھائی چارہ، یہ اپنے آپ میں، جو پرمپراگت روپ سے(روایتی طور پر) ویشوک سمبندھوں کی چرچا ہوتی ہے، اس سے پلس ون ہے۔ اور یہ پلس ون سمجھنے کے لیے کئی یوں کو ابھی سمئے لگے گا“۔ تو پردھان سیوک جی کا باڈی لینگویج خوشیوں کی پھلجھڑیاں چھوڑ رہا ہوتا ہے۔

آپ بھی سنیں21 منٹ کی پردھان سیوک جی کی شی زن پنگ کی محبت میں ڈوبی ہوئی والہانہ تقریر

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اچانک پردھان سیوک جی اور شی زن پنگ کے روحانی رشتے کا تذکرہ کیوں کرنکل آیا جبکہ چین ہندوستان کے سرحدی علاقوں پر دراندازی کیے ہوئے ہے اور لداخ میں ہمارے 22-20 فوجی جوانوں کو مار ڈالا ہے۔ ایسی صورت میں تو چین اور ہندوستان کی دیرینہ دشمنی، دراندازی اور دغا بازی کی بات ہونی چاہیے؟ تو جناب اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے آج ہی یہ خبر اخبارات میں پڑھی یا ٹی وی چینلوں پر دیکھی ہوگی کہ ہندوستان اور چین کے درمیان لیفٹیننٹ جنرل سطح کی بات چیت آج پھر ہو رہی ہے اور ہندوستان کو اپریل 2020 سے قبل کی صورت حال سے کم کچھ بھی منظور نہیں۔ یعنی کہ اپریل 2020 سے پہلے کی جو حالت تھی، اسی کو برقرار رکھنے یا اسی کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے یہ بات چیت ہو رہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ یہ پہلی بات چیت نہیں ہے۔ اس سے قبل چار بار اس طرح کی فوجی سطح کی بات چیت ہوچکی ہے اور یہ تازہ بات چیت پانچویں بار ہے۔ اس سے قبل بات چیت کے جتنے بھی دور ہوئے، ان تمام میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ اب تو خبر یہ بھی آگئی ہے کہ چین نے لیپولیکھ میں بھی اپنے ہزار سے زائد فوجی تعینات کر دیئے ہیں۔ گویا کہ صورت حال نہ صرف یہ کہ جوں کی توں برقرار ہے بلکہ مزید تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔

گزشتہ 26 جولائی کو کارگل کے وجے دیوس کے موقع پر من کی بات کرتے ہوئے مہاشے جی نے پاکستان کی دغا بازی کی بات کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسے وقت میں جب اٹل بہاری واجپئی جی ہندوستان و پاکستان کے درمیان رشتے بہتر بنانے کی کوشش کر رہے تھے تو پاکستان نے دغا بازی کرتے ہوئے کارگل پر حملہ کر دیا تھا۔ یہ سچ بھی ہے۔ اس وقت صرف ہندوستان ہی نے نہیں بلکہ پوری دنیا نے پاکستان کی دغا بازی کو محسوس کیا تھا۔ لیکن ہمارے بہادر فوجیوں نے پاکستانی فوج کو نہ صرف شکست دی تھی بلکہ وہ علاقے بھی دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیے تھے جن پر پاکستانی فوج نے قبضہ کرلیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان کارگل میں حملہ کرکے دغابازی اور دھوکہ کا مرتکب ہوسکتا ہے تو پھر لداخ میں ہمارے آٹھ سے دس کلومیٹر اندر تک آکر اور ہمارے فوجیوں کو شہید کر کے چین نے ہم سے کون سا رشتہ نبھایا ہے؟ پھر ہمارے پردھان سیوک جی چین کی دغا بازی کی بات کیوں نہیں کرتے؟ وہ اس معاملے میں خاموش کیوں ہیں؟ اور صرف وہی نہیں بلکہ بی جے پی کے وہ تمام لیڈر بھی جو وقت بے وقت کچھ بھی بول دینے کے عادی ہیں، وہ بھی اس معاملے میں خاموش ہیں۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ پردھان سیوک جی نے بی جے پی کے تمام لیڈروں کو چین کے معاملے میں خاموش رہنے کی تاکید تک کر رکھی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہندوستان اور چین کے درمیان آفیسر سطح کی تمام بات چیت ناکام ہو رہی ہے۔ چین جارحیت پر جارحیت کیے جارہا ہے، ہمارے وزیر دفاع تک اس بات چیت کے نتیجہ خیز ہونے پر اپنی بے یقینی کا اظہار کرچکے ہیں تو پھر پردھان سیوک جی کیوں حرکت میں نہیں آرہے ہیں؟ کیوں وہ خود چینی صدر سے بات چیت نہیں کر رہے ہیں جب کہ وہ اپنے شی زن پنگ کے درمیان روحانی رشتے کا خود اعتراف کرچکے ہیں؟ کیوں وہ اس رشتے کو بروئے کار لاتے ہوئے چینی صدر کو نہیں سمجھا رہے ہیں کہ وہ ہندوستان کی سرحدوں پر دراندازی کو روک دیں؟ اسی رشتے کی بناء پر پردھان سیوک جی نے احمدآباد کے سابرمتی میں چینی صدر کو جھولا جھلایا تھا، ڈھوکلا کھلایا تھا، ناریل پانی پلایا تھا۔ گزشتہ سال اکتوبر میں تامل ناڈو کے ملاپورم میں ورلڈ ہریٹج سائٹ دکھاتے ہوئے خود گائیڈ کے فرائض تک انجام دیئے تھے، پھر بھلا وہ اپنے اس رشتے کو ہندوستان کی سلامتی کے لیے کیوں استعمال نہیں کر رہے ہیں؟ اگر ہمارے پردھان سیوک جی شی زن پنگ سے بات چیت کریں تو چینی صدر کچھ تو پردھان سیوک کے رشتے کا پاس کریں گے، آخر رشتے یک طرفہ تو ہوتے نہیں ہیں۔ وہ کچھ تو سوچیں گے کہ اس بارے میں؟ اس لیے اس مرحلے پر پردھان سیوک کی خاموشی صرف ہمارے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہمارا ایسا ماننا ہے کہ اگر ہمارے پردھان سیوک چینی صدر سے بات چیت کریں تو بہت ممکن ہے کہ ہندوستان اور چین کے درمیان جو سرحدی تنازعہ چل رہا ہے اس کا کوئی مستقل حل نکل جائے اور مستقل نہ سہی تو عارضی ہی نکل آئے۔ ایسی صورت میں آئندہ مزید پائیداری کے لیے بھی کوشش کی جاسکتی ہے۔

    Published: 2 Aug 2020, 6:59 PM
    next