مودی جی! کبھی لوگوں کے ’من کی بات‘ بھی سن لیجیے... اعظم شہاب

مودی جی کو معلوم ہونا چاہیے کہ ملک صرف کارگل کے شہیدوں کو ہی نہیں بلکہ پلوامہ اور لداخ کے شہیدوں کو بھی ہمیشہ یاد رکھے گا اور اس یاد کے لیے انہیں کسی پروچن یا یاد دہانی کی ضرورت نہیں ہوگی

پی ایم نریندر مودی
پی ایم نریندر مودی
user

اعظم شہاب

اپنے پردھان سیوک جی بھلے ہی کچھ نہ کریں لیکن ایک کام وہ بہت پابندی اورمستقل مزاجی سے کرتے ہیں اور وہ ہے ’من کی بات‘۔ آج یعنی کہ اتوارکو انہوں نے 67 ویں بار اپنے من کی بات کی جسے سرکاری ریڈیو، ٹی وی چینلس سے بالکل ’بھکتی بھاؤ‘ میں نشر کیا گیا۔ کاش کہ فلموں کی مانند اس من کی بات کا بھی کوئی باکس آفس رپورٹ ہوتی کہ پردھان سیوک جی اس کی روشنی میں اس کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ اپنے من کی اور ملک کے عوام کے من کی باتوں کا اندازہ لگا سکتے۔ لیکن چونکہ بدقسمتی سے ایسا کوئی عوامی نظام موجود نہیں ہے اس لیے الف لیلہ کی مانند قسط پر قسط آئے چلی جا رہی ہیں۔ غالباً اسی لیے اب یہ تفریح کے زمرے میں بھی شمار ہونے لگا ہے جس کا مشاہدہ ٹوئٹر پر کیا جاسکتا ہے۔ ٹوئٹر پر’من کی بات‘ کے اشتہار پر جن لوگوں نے اپنے من کی بات کی ہے ان میں سے بیشتر تو وہی ہیں جو اسے ’ملک کا سوبھاگیہ‘ قرار دینے کے کام پر مامور ہیں، مگر انہیں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اسے تفریح قرار دیتے ہیں۔

ایسے ہی لوگوں میں ایک صاحب ہیں انکوش گوئیل جو کہتے ہیں میرے پاس نریندرمودی کے بارے میں ایک لطیفہ ہے جو من کی بات میں بتاؤں گا۔ ایک صاحب اور ہیں جینتی لال ایس لمباچا۔ انہوں نے مودی جی کو ٹیگ کرتے ہوئے 17جولائی کو ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ مودی جی میں آپ کے ہی آبائی وطن کے قریب کا رہنے والا ہوں، آپ کے من کی بات پرمجھے عوام کے مسائل، اسپتالوں میں ان کے ساتھ ہو رہی زیادتی کے بارے میں کہنا پڑے گا۔ یہ ٹوئٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ پردھان سیوک کے من کی بات کا عوامی مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ایک صاحب نے تو موبائیل بردار ایک بندر کی تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے اسے من کی بات کرتے ہوئے بتایا ہے۔ یہ سب دیکھ کر یہ سبق ملتا ہے کہ چاہے آدمی خود کو کتنا ہی طاقتور تصور نہ کرلے، اس کی اوٹ پٹانگ حرکت اسے مضحکہ خیز یقیناً بنا دیتی ہیں۔

بہر حال آئیے ذرا مہاشے جی کے ’من کی بات‘ کی کچھ اہم باتوں پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ مودی جی نے اپنے من کی بات کی شروعات ’کارگل وجئے دیوس‘ کی مبارکباد دینے سے کی۔ انہوں نے کہا کہ کارگل کی جنگ جن حالات میں ہوئی، اسے ملک کبھی نہیں بھول سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے لوگ کارگل کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس سے متعلق ہیش ٹیگ چل رہا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ آج دن بھر کارگل کے شہیدوں کی بہادری کے کارنامے اور ان کی ماؤں کی قربانیوں کے بارے میں ایک دوسرے کو بتایا جائے۔ معلوم نہیں کس بدخواہ نے مودی جی کو اس بھرم میں مبتلا کر دیا کہ ملک اپنے کارگل کے شہید جوانوں کو بھول چکا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کو اس کا اعادہ کرنے کی آخر کیا ضرورت تھی؟ مودی جی کو معلوم ہونا چاہیے کہ ملک صرف کارگل کے شہیدوں کو ہی نہیں بلکہ پلوامہ کے شہیدوں کو بھی اور لداخ کے شہیدوں کوبھی ہمیشہ یاد رکھے گا اور اس یاد کے لیے انہیں کسی پروچن یا یاد دہانی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

لیکن اسی کے ساتھ مودی جی نے اپنی وہ آزمودہ بازی کھیل ہی دی۔ انہوں نے کہا کہ ’کارگل جنگ کے دوران اپنے جوانوں کی بہادری دیکھنے کے لیے وہ کارگل گئے تھے‘۔ جوانوں کی بہادری کو اپنے نام کرنے کی ایسی ہی کوشش پارلیمانی الیکشن کے دوران بھی ہوئی تھی جس کا انہیں خاطر خواہ فائدہ حاصل ہوا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ جیسے ہی مودی جی نے یہ زریں جملہ ادا کیا ہوگا بیشتر کو بہار کا الیکشن یاد آگیا ہوگا۔ خیر یہ مودی جی کا پرانا داؤ ہے جس سے اب ملک کے بیشتر لوگ واقف ہوچکے ہیں۔ بہر حال مودی جی نے یہ بھی کہا کہ جنگ کی حالت میں ہم جو بات کرتے یا کہتے ہیں اس کا سرحد پر ڈٹے جوانوں اور ان کے گھروالوں کے اعتماد پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ اب بھلا مودی جی کو یہ کون سمجھائے کہ انہیں یہ بات سب سے پہلے اپنے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو بتانی چاہیے تھی کہ چین سے وہ جو بات کر رہے ہیں اور اس بات کے نتیجہ خیز ہونے پر انہو ں نے جس بے یقینی کا اظہار کیا ہے، اس کا اثر لداخ میں ڈٹے فوجیوں اوران کے اہلِ خانہ پر ہوسکتا ہے۔ چونکہ ہم ایک دیش بھکت اورآشاودی (رجائیت پسند) ہیں اس لیے مودی جی کی اس تلقین کو راج ناتھ سنگھ کے لیے مخصوص سمجھتے ہیں۔

مودی جی نے اپنے من کی بات میں یہ بھی کہا کہ ملک کے کونے کونے میں ایسے کئی واقعات ہو رہے ہیں جو قابلِ تحسین ہیں۔ اس بات سے اگر ان کی مراد راجستھان میں حکومت گرانے کی کوشش سے ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان کے پروردہ وکیلوں سے لے کر ہائی کورٹ تک اور گورنر سے لے کر ایجنسیوں تک سب اسی کام میں جٹے ہوئے ہیں جس کی بی جے پی کی جانب سے خوب تحسین بھی ہو رہی ہے۔ لیکن اگر اس سے ان کا مطلب بہار و آسام کے سیلاب میں ڈوبتی عوام سے ہے تو اس سے قطعی اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی یہ بات بالکل سچ ہے کہ پورا ملک آج ان کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن یہ ان کی حکومت کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑی ہے۔ مدھیہ پردیش میں ان کی پارٹی نے کانگریس کی حکومت گرانے کے لیے نہ کورونا کی پرواہ کی اور نہ ہی ممبرانِ اسمبلی کو اغواء کرنے میں کوئی تامل کیا۔ لیکن اسی مدھیہ پردیش میں لاک ڈاؤن سے پریشان ہوکر اپنا پیٹ پالنے کے لیے سڑکوں پر ٹھیلے لگانے والوں کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اسے بھلے ہی ان کے شیوراج سنگھ چوہان جائز قرار دیں مگر پورے ملک میں اس پر تھو تھو ہوئی ہے۔

مودی جی کے قابلِ تحسین واقعات کے وقوع پذیر ہونے سے اگر مراد ہے اترپردیش میں اغواء شدہ جرنلسٹ کے تاوان کی ادائیگی کے بعد بھی موت سے ہے تو انہیں اس کی مزید وضاحت کرنی چاہیے۔ مودی جی کو کورونا سے بچاؤ کے لیے عورتوں کے ذریعے بنایا گیا ماسک تو مل گیا مگر ان تک اسی کورونا سے جوجھ رہے ڈاکٹروں ونرسوں کی وہ حالت زار نہیں پہنچی جس کے نتیجے میں لوگ انہیں اپنے کرائے کے گھروں سے نکال دیئے ہیں۔ غالباً کسی نے ہفتہ بھر قبل دہلی کے ایمس میں ایک جرنلسٹ کی خودکشی کے واقعے سے بھی انہیں آگاہ نہیں کیا، جس نے اسپتال کی بدانتظامی کے سبب دلبرداشتہ ہوکر چوتھی منزل سے کود کر اپنی جان دیدی۔ اور ہاں! شاید انہیں اس کی بھی خبر نہیں ملی ہوگی کہ مہاراشٹر میں الیکشن کمیشن اور ان کی پارٹی کے کارکنان کی ملی بھگت اجاگر ہوئی ہے جو نہ صرف غیردستوری ہے بلکہ غیراخلاقی بھی ہے۔

بہر حال مذکورہ بالا باتوں سمیت پورے من کی بات کی اس قسط میں وہی کچھ ہے جو پردھان سیوک جی کا خاصہ رہا ہے۔ سمّان، آتم سمّان، بدھائی، بلیدان، سوبھاگیہ، منوبل، سمرپت اورابھینندن جیسے الفاظوں کے ساتھ یہ من کی بات بھی بالکل اسی طرح ہوا میں معلق نظر آئی جس کا ملک سے، ملک کی عوام سے اور ملک کو درپیش مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی جیوتش نے پردھان سیوک کو یہ منتر بتایا ہے کہ آپ اپنے من کی بات سے ہی دیش کے من کی بات سے آزاد رکھ رسکتے ہیں اور پردھان سیوک جی اسی منتر پر عمل پیرا ہیں۔

    Published: 26 Jul 2020, 10:11 PM
    next