راج ٹھاکرے اور بی جے پی: ملے سر ہمارے تمہارے... اعظم شہاب

راج ٹھاکرے کا بی جے پی کے سرمیں سرملانا اوراس کے بعد نتن گڈکری سے دوگھنٹے تک ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی کی جانب سے انہیں کوئی بڑا آفردیا گیا ہے۔

راج ٹھاکرے، تصویر آئی اے این ایس
راج ٹھاکرے، تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

یہ 2019 کے پارلیمانی الیکشن سے عین قبل کی بات ہے جب مہاراشٹر ہی نہیں پورے ملک میں راج ٹھاکرے کے جلسہ عام نے بی جے پی کو زبردست مشکلات میں مبتلا کر دیا تھا۔ چونکہ اس وقت شیوسینا بی جے پی کی اتحادی تھی، اس لئے وہ بھی راج ٹھاکرے کے نشانے پر آجاتی تھی لیکن اصل ہدف بی جے پی ہی تھی۔ راج ٹھاکرے کا جلسہ عام ممبئی سمیت مہاراشٹر کے بھی کچھ شہروں میں ہوا تھا اس لئے توقع کی جا رہی تھی کہ بی جے پی شیوسینا اتحاد کو زبردست نقصان ہوگا۔ انہیں جلسوں میں راج ٹھاکرے کا مراٹھی کا ایک جملہ ’لاؤ رے تو ویڈیو‘ (لگا ذرا وہ ویڈیو) ضرب المثل بن گیا تھا۔ پھر اچانک یہ ہوا کہ ای ڈی نے راج ٹھاکرے کو سمن دے کر تفتیش کے لئے طلب کرلیا۔ معاملہ کوہِ نورمل کے ری ڈیولپمنٹ کے پروجیکٹ میں شراکت کا تھا جبکہ راج ٹھاکرے کا دعویٰ تھا کہ وہ اس شراکت سے ایک سال قبل ہی علاحدہ ہوگئے تھے۔ بہر حال ای ڈی کی جانب سے راج ٹھاکرے کی طلبی ہوئی اور پھر راج ٹھاکرے کی قوتِ گویائی کچھ ایسی سلب ہوئی کہ پارلیمانی انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر ان کی گمشدگی پر بات کی جانے لگی۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں اس شرط پر خلاصی ملی تھی کہ بی جے پی کے خلاف وہ اپنی مہم بند نہیں کریں گے، دیگر صورت میں ان کے خلاف 80 لاکھ روپئے کی منی لانڈرنگ کا کیس تیار ہے۔

مہاراشٹر میں ایک تہوار ہوتا ہے ’گڈی پاڑوا‘ جو 2 اپریل کو منایا جاتا ہے۔ 2019 سے مسلسل خاموشی کے بعد راج ٹھاکرے اس تہوار کے موقع پر دو روز قبل ممبئی کے شیواجی پارک میں عوامی طور پر نمودار ہوئے اور ایک جلسہ عام سے خطاب کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس جلسہ عام میں راج ٹھاکرے کو سننے کے لئے پورے مہاراشٹر سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ راج ٹھاکرے کے خطاب کا آہنگ اس موقع پر بھی وہی تھا، لیکن دلچسپ بات یہ رہی کہ ان کا پورا تان ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کی تنقید پر ٹوٹا۔


انہوں نے این سی پی سے لے کر شیوسینا تک، وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے سے لے کر نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار و کانگریس تک پر خوب جم کر تنقیدیں کیں۔ ان کا مذاق اڑایا، نقل اتاری یہاں تک کہ وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے پر عوام کو دھوکہ دینے کا الزام تک لگایا اور خوب تالیاں بجوائیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ رہی کہ بی جے پی کے خلاف انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ یہی بی جے پی اور اس کے لیڈران تھے جن کا 2019 میں راج ٹھاکرے بخیہ ادھیڑ دیا کرتے تھے اور ان کی ویڈیوز کوعوام کو دکھاکر انہیں ملک دشمن اور عوام دشمن اور جھوٹا ثابت کرتے تھے اور اب یہی بی جے پی اور اس کے لیڈران ہیں جن کے بارے میں اس بار وہ مکمل خاموش رہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟ یہ جاننے کے لئے پارلیمانی انتخابات کے دوران ریاست کی سیاسی سرگرمیوں پر ایک نظر ڈال لینا کافی ہوگا۔ پارلیمانی انتخابات کے دوران جب شیوسینا بی جے پی کی اتحادی تھی تو راج ٹھاکرے کی پارٹی کا این سی پی و کانگریس کے ساتھ اتحاد کی خبریں گشت کر رہی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ این سی پی کے تمام سرکردہ لیڈران اور کانگریس پارٹی کے بھی بہت سے لیڈر راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نونرمان سینا کو اپنے اتحاد میں شامل کرنا چاہتے تھے لیکن ماضی میں اس کی متشددانہ کارروائیوں کی وجہ سے کچھ لیڈران اس کے مخالف تھے۔


اس دوران اویسی صاحب کی مجلس اتحاد المسلمین بھی خوب سرگرم تھی اور وہ بھی اتحاد میں شامل ہونے کے لئے پرتول رہی تھی۔ لیکن چونکہ مجلس کو کچھ لوگ مسلمانوں کی پارٹی سمجھ رہے تھے اور اس کی شمولیت کی وجہ سے بی جے پی کو ووٹوں کے پولرائزیشن کا موقع ملنے کے خدشے کے پیشِ نظر مجلس کو اتحاد میں نہیں لیا گیا۔ پھر جب بات مہاراشٹر نونرمان سینا کو اتحاد میں شامل کرنے کی اٹھی تو اسے بھی مجلس کا ہم پلہ قرارد ے کر یہ طئے ہوا کہ چند ماہ بعد ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں اسے ساتھ لیا جائے گا۔ لیکن پارلیمانی انتخابات کے دوران ہی راج ٹھاکرے کو ای ڈی نے طلب کرلیا۔ جس کے بعد راج ٹھاکرے مکمل طور پر خاموش ہوگئے اور بی جے پی کی مخالفت بند کر دی اور ان کا کانگریس و این سی پی کے ساتھ اتحاد کا معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔

راج ٹھاکرے کے خاموش ہو جانے پر بی جے پی نے راحت کی سانس لی اور اسمبلی انتخابات میں اس کو 106 سیٹیں حاصل ہوگئیں۔ اُدھر کانگریس و این سی پی نے شیوسینا کو ساتھ ملاکر مہاوکاس اگھاڑی بنالی دوسری جانب سے بی جے پی نے راج ٹھاکرے کو ساتھ ملانے کی کوشش شروع کردی۔ اس کوشش کا بی جے پی کو خاطر خواہ فائدہ ہوا اور راج ٹھاکرے کی پارٹی نے کچھ بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرلیا۔ لیکن قسمت کی ستم ظریفی ایسی تھی کہ راج ٹھاکرے کی پارٹی کوئی بہت نمایاں کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ ایسی صورت میں راج ٹھاکرے کے لئے اپنی پارٹی کی بقاء کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ اس کے بعد بی جے پی کے ریاستی لیڈران کا راج ٹھاکرے کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھ گیا اور پھر بات یہاں تک آن پہنچی کہ راج ٹھاکرے کا جو تیر پہلے بی جے پی کو چھلنی کر رہا تھا، اس کا نشانہ اب مہاوکاس اگھاڑی کی جانب ہوچکا ہے۔


ایسا نہیں ہے کہ راج ٹھاکرے نے صرف مہاوکاس اگھاڑی پر تنقیدیں شروع کردیں ہیں بلکہ انہوں نے بی جے پی کی زبان بھی بولنی شروع کر دی ہے۔ اپنے شیواجی پارک کے جلسہ عام میں انہوں نے مدارس ومساجد کے خلاف بھی زہر اگلا۔ انہوں نے کہا کہ ”ممبئی میں مساجدومدارس میں ملک مخالف سرگرمیاں شروع ہوئیں ہیں۔ وہاں کس طرح ملک مخالف سازشیں ہو رہی ہیں اس کی معلومات ممبئی پولیس دے گی۔ ملک مخالف کارروائیوں کے لئے پاکستان کی ضرورت نہیں ہے، ان مساجد ومدارس میں ملک مخالف سرگرمیاں انجام دینے والے موجود ہیں۔ اگر اس کے بارے میں معلومات آپ کے سامنے آجائیں تو آپ کو شاک لگ جائے گا“۔ ظاہر ہے مساجد ومدارس کو ملک مخالف سرگرمیوں کا مرکز قرار دینا بی جے پی کی روایت رہی ہے، لیکن اب راج ٹھاکرے بھی بی جے پی کے سر میں سر ملا دیا ہے۔

راج ٹھاکرے کی اس زہرافشانی کا جواب این سی پی کے ریاستی ہاؤسنگ وزیر جیتندراوہاڈ نے دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ”راج ٹھاکرے اپنے اس بیان سے سماج میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ راج ٹھاکرے آگ نہ لگائیں، اس سے ان کا مقصد صاف نظر آرہا ہے۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ اگر کسی مسجد ومدرسہ میں کوئی ہتھیار تو دور ایک استرا بھی مل جائے تو میں سیاست چھوڑ دوں گا“۔ جیتندر اوہاڈ کے اس بیان سے راج ٹھاکرے یا ان کی پارٹی کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یہ بات اب صاف ہوگئی ہے کہ مہاراشٹر میں راج ٹھاکرے بی جے پی کی سیاسی مدد کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے لئے بی جے پی کی جانب سے راج ٹھاکرے کو کوئی بڑا آفر دیا گیا ہے اور اسی ضمن میں انہوں نے گزشتہ دنوں بی جے پی کے سینئر لیڈر نتن گڈکری سے دو گھنٹے تک ملاقات بھی کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔