پی ایم مودی نے یو پی میں جس نہر کا افتتاح کیا اس میں تو پانی ہی نہیں، بچے کھیل رہے کرکٹ!

الیکشن قریب ہے اور ووٹر کو دکھانا ہے کہ یو پی میں بہت تیزی سے عوامی فلاح کے کام ہوئے ہیں، اسی کوشش میں پی ایم مودی اور سی ایم یوگی تیز رفتاری کے ساتھ مختلف منصوبوں کا افتتاح کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اسی سریو نہر کا افتتاح کیا ہے، نہر میں پانی نہیں ہے اس لیے بچے کرکٹ کھیلتے نظر آ رہے ہیں
وزیر اعظم نریندر مودی نے اسی سریو نہر کا افتتاح کیا ہے، نہر میں پانی نہیں ہے اس لیے بچے کرکٹ کھیلتے نظر آ رہے ہیں
user

کے. سنتوش

وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ 11 دسمبر کو اتر پردیش کے بلرام پور سے 9800 کروڑ کی سریو نہر قومی منصوبہ افتتاحی تقریب میں مخالفین پر خوب طنز کسے۔ سماجوادی پارٹی کے قومی سربراہ اکھلیش یادو پر اشاروں اشاروں میں طنز کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’صبح دہلی سے نکلنے کے بعد انتظار کر رہا تھا کہ کب کوئی آئے گا، کہے گا کہ مودی جی اس منصوبہ کا فیتہ تو ہم نے کاٹا تھا۔‘‘ پی ایم مودی اتنے پر ہی خاموش نہیں ہوئے، انھوں نے کہا کہ ’’ہو سکتا ہے بچپن میں اس منصوبہ کا فیتہ بھی انھوں نے ہی کاٹا ہو۔‘‘ جمع کی گئی بھیڑ سے پی ایم کی لچھے دار تقریر پر خوب تالیاں بجیں، لیکن جن 9 اضلاع سے سریو نہر گزر رہی ہے، وہاں کے 29 لاکھ سے زیادہ کسان آدھی ادھوری بے پانی والی نہر کو لے کر اپنی پیشانی پیٹ رہے ہیں۔

انتخابی ضابطہ اخلاق سے پہلے تیز رفتاری کے ساتھ رسم رونمائی تقریب اور افتتاحی تقریب کا انعقاد ہو رہا ہے۔ لیکن ان کی زمینی حقیقت کو لے کر پی ایم مودی اور سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے آنکھیں موند رکھی ہیں۔ سریو نہر منصوبہ سال 1978 میں شروع ہوا۔ 43 سال بعد تام جھام کے ساتھ اس کا افتتاح تو ہوا، لیکن شمالی یو پی کے بہرائچ، شراوستی، بلرام پور، گونڈا، سدھارتھ نگر، بستی، سنت کبیر نگر، گورکھپور اور مہاراج گنج سے گزرنے والی 6623 کلو میٹر لمبی نہر اب بھی ادھوری ہے۔ نہر میں جہاں پانی ہے، اس سے فصل ڈوب رہی ہے، تو کئی مقامات پر نہر کا وجود صرف کاغذوں میں ہے۔ پھر بھی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا دعویٰ ہے کہ ’’39 سال میں منصوبہ پر 52 فیصد کام ہوا تھا، باقی کام ساڑھے چار سال میں ہوا۔‘‘


گونڈا ضلع میں سریو نہر بلاک-1 پرسا گوڈری سے دھنئی پٹی رجبہوا تک جانے والے نہر پروجیکٹ کی کھدائی کا کام سال 2003 میں شروع ہوا۔ 78 کروڑ روپے سے بننے والی 22 کلومیٹر لمبی نہر میں تاخیر سے اخراجات میں اضافہ ہوا، نتیجتاً پرسا گوڈری-دھنئی پٹی نہر کا فاصلہ پورا نہیں ہو سکا۔ حالانکہ کاغذوں میں نہر سال 2005 میں ہی پوری ہو گئی۔ 55 لاکھ کی فرضی ادائیگی بھی ہو گئی۔ معاملہ کھلا تو سال 2017 میں محکمہ آبپاشی کے اس وقت کے ایگزیکٹیو انجینئر سمیت چار لوگوں کے خلاف مقدمہ ہوا۔ لیکن معاملہ ٹھنڈے بستے میں چلا گیا۔ اتنا ہی نہیں، پرسا گوڈری، دھانی دھنکھر، سالپور کے کسانوں سے بغیر نوٹس کے زمین لے لی گئی۔ ناراض کسانوں کا اب بھی مظاہرہ چل رہا ہے۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جن 10 ہزار کسانوں نے زمین دی، ان کے کھیتوں تک پانی پہنچا ہی نہیں۔ پرسا گوڈری کے کسان بونی مادھو سنگھ، کملیش کمار شکلا اور راجندر سنگھ وغیرہ نئے سرکل ریٹ پر معاوضہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گونڈا کی سماجوادی پارٹی لیڈر زیبا رضوان کہتی ہیں کہ ’’ادھورے سریو نہر میں پانی چھوڑے جانے سے نہریں کٹ گئیں اور فصلیں ڈوب گئیں۔‘‘ نہر کی بہتر نگرانی کے لیے گونڈا اور ایودھیا میں دو چیف انجینئر کی تعیناتی کا بھی کوئی اثر نظر نہیں آتا ہے۔ بستی ضلع میں بھان پور تحصیل کے پرسا لگڑا گاؤں کے سابق پردھان سیتارام پرساد کہتے ہیں کہ ’’کھیتوں میں نہر کھود دی گئی۔ کئی کسانوں کی زمین تحویل میں لی گئی، لیکن معاوضہ نہیں ملا۔‘‘


وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ضلع گورکھپور میں ادھوری نہر میں بچے کرکٹ کھیلتے نظر آ جاتے ہیں۔ یہاں کے کیمپیئر گنج علاقے میں آخری سرے تک پانی پہنچانے میں ابھی دو مہینے سے زیادہ وقت لگے گا۔ بستی-مہنداول-کیمپیئر گنج-تمکوہی (بی ایم سی ٹی) راستہ کی دونوں جانب نہر بنائی گئی ہے لیکن ابھی تک اس راستہ پر پل کی تعمیر نہیں ہو سکی ہے۔ پل کی تعمیر کا کام پورا کیے بغیر ٹیل تک پانی نہیں پہنچایا جا سکے گا۔

بیکنٹھ پور-رجواہا برانچ کی لمبائی تقریباً 60 کلومیٹر ہے۔ ابھی تک اس علاقہ میں نہر کا کام پورا نہیں ہو سکا ہے۔ محکمہ زراعت کے ایگزیکٹیو انجینئر سنتوش کمار کا دعویٰ ہے کہ ’’رابطہ کے راستوں پر پلیا بنائی جا چکی ہے۔ بی ایم سی ٹی راستہ پر پل بنانے کا کام کورونا کے سبب پیچھے ہوا ہے۔ جلد ہی کام مکمل کر زراعت کے لیے نہر میں پانی کا بہاؤ شروع کر دیا جائے گا۔‘‘ دوسری طرف سماجوادی پارٹی لیڈر ونے شنکر تیواری کہتے ہیں کہ ’’دکچھنانچل میں کئی سال قبل سے ہی نہر میں پانی آ رہا ہے۔ لیکن بے وقت پانی آنے سے کسانوں کی فصلیں ڈوب گئیں۔‘‘


کانگریس کے ریاستی نائب صدر وشو وجے سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’1978 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ رام نریش یادو نے منصوبہ شروع کیا لیکن یو پی میں غیر کانگریسی حکومتوں نے لگاتار اَن دیکھی کی۔ بغیر سوچ والی حکومتوں نے دیرینہ منصوبہ کو نقصان پہنچایا۔ اس نہر کا افتتاح کسانوں کے ساتھ مذاق ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔