لکھنو کی ’شاہینوں‘ کے ساتھ پولیس مظالم کا ایک سال مکمل!

جس دن وزیر اعظم نریندر مودی یا وزیر داخلہ امت شاہ نے یہ کہا کہ سی اے اے پرعمل شروع ہو رہا ہے، اسی دن سے گھنٹہ گھر پر دوبارہ تحریک شروع ہوجائے گی۔

تصویر نواب اختر
تصویر نواب اختر
user

نواب علی اختر

اترپردیش کی راجدھانی لکھنو کے’شاہین باغ‘ یعنی گھنٹہ گھر (حسین آباد) کو اترپردیش حکومت نے پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہاں متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف 2020 میں خواتین نے مظاہرہ کیا تھا، اس مقام پر اب ہرطرف صرف خاک ہی نظر آرہی ہے۔ دہلی کے شاہین باغ دھرنے سے متاثر ہوکر لکھنؤ کی خواتین نے 17 جنوری 2020 کی شام سے گھنٹہ گھر پر سی اے اے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ شروع کیا تھا۔ اترپردیش حکومت جو روز اول سے ہی سی اے اے مخالف تحریک کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، اس نے اس دھرنا کو ختم کرنے کے لیے ہر ہتھکنڈا اپنایا مگر لکھنو کی ’شاہینوں‘ نے کے حوصلوں کے سامنے سبھی دم توڑ گئے۔

خواتین کو قانون کا خوف دکھایا گیا اور دھرنے کے مقام پر پولیس کے ذریعہ مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی بھی کی گئی لیکن خواتین کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور زًبردست حمایت کی وجہ سے دھرنا لگاتار مضبوط ہوتا رہا بلکہ دو دن بعد 19 جنوری 2020 سے گھنٹہ گھر سے تقریباً 13 کلو میٹر دور گومتی نگرعلاقے میں واقع اجریاؤں میں خواتین نے سی اے اے کے خلاف دھرنا شروع کر دیا۔ پرانے لکھنؤ کے تاریخی گھنٹہ گھر پر خواتین کے جمع ہو کر دھرنا شروع کرنے کی خبر سے انتظامیہ کے ہوش اڑ گئے تھے۔ چونکہ دہلی میں شاہین باغ کی تحریک زور شور سے جاری تھی، انتظامیہ کو خوف تھا کہ کہیں لکھنؤ ایک اور شاہین باغ نہ بن جائے۔

اگر چہ گھنٹہ گھر پر پہلے دن صرف 25-30 خواتین ہی موجود تھیں لیکن انتظامیہ اس دھرنے کو ختم کرنے کے لیے سرگرم تھا۔ احتجاجی خواتین کا کہنا تھا کہ شاہین باغ (دہلی)، الہ آباد( روشن پارک) اور کانپور( محمد علی پارک) کا دھرنا بھی سی اے اے واپس ہونے کے بعد ہی ختم ہوگا۔

اس بیان کے بعد پولیس مزید سرگرم ہوگئی۔ گھنٹہ گھر کی بجلی کاٹ دی گئی، خواتین نے موم بتیاں جلا کر اور موبائل کی روشنی میں رات بسر کی۔ سرد راتوں میں آگ جلانے کے لیے لائے گئے کوئلے پر پولیس نے پانی ڈال دیا۔ ان حالات میں 18 جنوری کی صبح ہونے تک پورے شہر میں خواتین کے دھرنے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی۔ امور خانہ داری میں مصروف رہنے والی خواتین نے بھی گھنٹہ گھر کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے بھی اپنا پہرہ سخت کر دیا اور دھرنے کی جگہ کو چاروں طرف سے گھیر دیا۔ حسین آباد جہاں شام ہوتے ہی تاریخی مقامات اور قابل دید روشنی دیکھنے کے لیے آنے والے سیاحوں کی بھیڑ رہتی تھی وہاں اب پی اے سی اور آر اے ایف کی ٹکڑیاں فلیگ مارچ کرتی نظر آرہی تھیں۔

اس کے باوجود حکومت کی تانا شاہی کے خلاف اپنے غصہ کا اظہار کرنے والے لوگوں کے آنے کا سلسلہ نہیں رکا تو انتظامیہ نے گھنٹہ گھر احاطے میں مردوں کے داخلے پر پابندی لگا دی۔ مظاہرے میں شریک افراد کی پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کا بھی چالان کیا جانے لگا اور کئی لوگوں کو موقع پر حراست میں بھی لیا گیا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے سی اے اے مخالف خواتین کی بھیڑ ہزاروں میں تبدیل ہوگئی۔ سرد رات میں درجہ حرارت 7-8 ڈگری تھا لیکن پولیس نے گھنٹہ گھر پر شامیانے نہیں لگنے دیئے۔ اتنا ہی نہیں وہاں کھانے پینے کا سامان بھی جانے سے روکا جا رہا تھا۔ خراب موسم کے پیش نظر خواتین نے وہاں کچھ کمبل کا بندوبست کیا لیکن جیسے ہی کمبل گھنٹہ گھر پہنچے، پولیس نے انہیں چھیننا شروع کردیا۔ پولیس نے کمبل چھین کر اپنی گاڑیوں میں رکھ لیے۔ کمبل چھین کر لے جاتی پولیس کے پیچھے کمبل کے لیے دوڑتی خواتین کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس کے بعد پولیس انتظامیہ کے اس غیر انسانی سلوک کی شدید مذمت کی گئی۔

پولیس کی سختی کے باوجود خواتین نے 26 جنوری 2020 کو گھنٹہ گھر پر یوم جمہوریہ کی تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا، خواتین کا پروگرام کامیاب بھی رہا۔ یوم جمہوریہ کی صبح گھنٹہ گھر پر مظاہرین کا ایک بے مثال سیلاب امنڈ پڑا۔ صبح وہاں مظاہرین نے پرچم کشائی کی اور قومی ترانہ گایا۔ لیکن خواتین کی تحریک روک پانے میں ناکام انتظامیہ نے یوم جمہوریہ سے پہلے مظاہرین کی گرفتاریاں شروع کردی تھیں۔ طلبا رہنما پوجا شکلا سمیت کئی مظاہرین کو 25 جنوری کو صبح حراست میں لے کر جیل بھیج دیا گیا۔ حالانکہ اس موقع پر پولیس کی بدسلوکی کو نظر انداز کرتے ہوئے خواتین نے گھنٹہ گھر پر موجود پولیس اہلکاروں کو پھول پیش کیے۔

گھنٹہ گھر دھرنے کو بڑھتا دیکھ کر انتظامیہ نے سماجی کارکنوں اور مذہبی رہنماؤں کو نوٹس بھیج کر مظاہرے میں شامل نہ ہونے کی ہدایت دینا شروع کر دیا۔ پولیس انتظامیہ کی جانب سے لکھنؤ یونیورسٹی کے سابق ڈپٹی وائس چانسلر پروفیسر روپ ریکھا ورما، رہائی منچ کے صدر محمد شعیب، میگسیسے ایوارڈ یافتہ سندیپ پانڈے، سابق آئی پی ایس ایس آر دارا پوری، مولانا سیف عباس اور ڈاکٹر کلب سبطین نوری کو مظاہرے میں شامل نہیں ہونے کے نوٹس بھیجے گئے۔

گھنٹہ گھر پر دوماہ سے زیادہ چل رہے دھرنے کو ختم کرانے کے لیے 19 مارچ کو دوپہر دو بجے اچانک پولیس آدھمکی۔ پولیس اہلکاروں نے احتجاجی خواتین سے ان کا احترام چھینا اور وہاں خواتین کی جانب سے لگائے گئے عارضی ٹینٹ کو بھی پولیس نے تباہ کر دیا اس کے باوجود دھرنا جاری رہا۔ ایسے وقت جب اس دھرنے کو ختم کرانے میں سرکاری نظام پوری طرح ناکام ہوگیا تھا، اسی اثنا میں وزیر اعظم مودی کی جانب سے ’جنتا کرفیو‘ کا اعلان کر دیا گیا۔ اس پر بھی جب مظاہرین کمزور نہیں پڑے تب انتظامیہ نے بات چیت کا راستہ اپنایا اور خواتین کو کورونا کا خوف دکھا کر دھرنا ملتوی کرنے پر راضی کرلیا۔ خواتین سے وہاں سے جاتے وقت کہا کہ دھرنا ختم نہیں ہو رہا ہے بلکہ کورونا وائرس کے قہر کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے ملتوی کیا جا رہا ہے۔ اس دوران مظاہرین کے ساتھ پولیس کا ’معاہدہ‘ بھی ہوا تھا کہ وبا کے بعد وہ اپنی جگہ واپس آسکتی ہیں۔

گھنٹہ گھر سے جاتے وقت خواتین مظاہرین وہاں کی سیڑھیوں پر اپنے اسٹیج پر دوپٹے رکھ دیئے تاکہ دھرنا ختم نہ مانا جائے۔ انتظامیہ نے سمجھوتہ کیا کہ احتجاجی خواتین کا اسٹیج اور دوپٹہ نہیں ہٹایا جائے گا لیکن لاک ڈاؤن کا اعلان ہوتے ہی انتظامیہ نے کووڈ۔ 19 کی صفائی کے نام پر خواتین کے ذریعہ چھوڑا اسٹیج اور دوپٹے وہاں سے ہٹا دیئے۔ اس کے علاوہ پولیس نے وہاں سے کچھ دوری پر اپنے کیمپ لگا دیئے لیکن اب گھنٹہ گھر پر ہی پولیس کیمپ لگا ہے اور اب وہاں ہر وقت پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ سیاحت کا مرکز ہونے کے باوجود گھنٹہ گھر پرعام شہریوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ گھنٹہ گھر پر مظاہرے کا ایک سال پورا ہوگیا ہے۔ گھنٹہ گھر کو پولیس نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے لیکن متنازعہ قانون کے مخالفین کے حوصلے اب بھی بلند ہیں۔ گھنٹہ گھر تحریک میں’جھانسی کی رانی‘ کہی جانے والی عظمیٰ پروین کہتی ہیں کہ وہ اس سال بھی یوم جمہوریہ پر وہاں پرچم کشائی کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ جس دن وزیر اعظم نریندر مودی یا وزیر داخلہ امت شاہ نے یہ کہا کہ سی اے اے پرعمل شروع ہو رہا ہے، اسی دن سے گھنٹہ گھر پر دوبارہ تحریک شروع ہو جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next