اللہ یہ کیسی عید، پروردگار ایسی عید پھر کبھی نہ آئے... ظفر آغا

اس سال کا رمضان بھی بس یوں ہی سادہ سا کٹ گیا۔ نا تراویح اور نہ ہی وہ افطار کی رونق۔ اس بار تو جیسے دنیا ہی بدل گئی۔ ایسے میں بھلا عید کی خوشی کیسی اور کوئی عید منَائے بھی تو کیسے!

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

اللہ، یہ کیسی عید آئی پروردگار! نہ مسجد میں نماز، نہ بازار میں خریداری، نہ چاند رات کی بے چینی، نہ وہ گلے ملنا اور نہ ہی وہ گلے مل کر عطر سے معطر ہو جانا... کچھ بھی تو نہیں۔ گھروں میں بند، سیوئیاں بھی بے مزہ۔ وہ شام کی دعوتیں، وہ گھر گھر جا کر عید ملنا، سب خواب ہو گیا۔ ارے رمضان بھی بس یوں ہی سادہ سا کٹ گیا۔ نا تراویح اور نہ ہی وہ افطار کی رونق۔ اس بار تو جیسے دنیا ہی بدل گئی۔ ایسے میں بھلا عید کی خوشی کیسی اور کوئی عید منائے بھی تو کیسے! عجب عالم ہے اس کورونا وائرس کی وبا سے دنیا کا۔ اور ہندوستان تو دنیا میں سب سے جدا نظر آ رہا ہے اس وبا میں۔ ارے آپ نے پہلے کبھی یہ سنا تھا کہ انسان چلتے چلتے مر جائے۔ ایک حاملہ عورت 200 کلو میٹر پیدل چل کر سڑک کے کنارے بچہ جنے اور کچھ گھنٹوں بعد نومولود بچے کو گود میں لے کر پھر پیدل چل پڑے۔ سولہ مزدور پیدل چلتے چلتے تھک کر ریل کی پٹری پر مدہوش نیند میں سو جائیں اور پھر ٹرین ان کو کچل دے۔ مزدور اپنی بچی کھچی آمدنی سے سائیکل خرید کر سینکڑوں میل کے سفر پر سائیکل سے نکل پڑے۔ بیچ میں داروغہ جی ان کی آخری امید وہ سائیکل ضبط کر لیں۔

ایسے قصے کہانیاں تو مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی کہانیوں میں پڑھنے کو ملتی تھیں۔ لیکن اب یہ سب ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ کبھی کبھی تو یقین نہیں آتا۔ منٹو نے تو جو ہجرت کے قصے لکھے وہ سنہ 1947 کے بٹوارے کے بعد فرقہ پرستی کے جنون میں پیش آنے والے واقعات تھے۔ انگریز ملک کو بانٹ کر اور فرقہ پرستی کی آگ میں جھونک کر جا چکے تھے۔ ہندوستان اور پاکستان میں جو حکومتیں تھیں وہ نہیں کے برابر تھیں۔ چند ماہ پرانی ان حکومتوں کی کوئی اتھارٹی نہیں تھی۔ پھر بھی خود مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو پاکستان سے آئے مہاجروں کے لیے جگہ جگہ کیمپ لگوا رہے تھے۔ ان کے دکھ درد بانٹ رہے تھے۔ جو بن پڑتا تھا کر رہے تھے۔ آج تو اس ملک کے حالات بالکل جدا ہیں۔ مودی کا سارے ہندوستان میں ڈنکا بج رہا ہے۔ اقتدار میں ایک بااثر حکومت موجود ہے۔ ہندوستان دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے۔ اگر مودی حکومت چاہے تو ان بھوکے پیاسے مہاجر مزدوروں کا کھانے پینے سے لے کر ان کے گاؤں دیہاتوں تک بھجوانے کا انتظام پلک جھپکتے کر سکتی ہے۔ لیکن ان کو گھر پہنچوانا تو درکنار، مودی حکومت نے ایک ماہ تک مزدوروں کو پیدل چلوانے کے بعد ٹرینوں کا انتظام کیا تو ان سے کرایہ وصولا گیا۔ اس پر یہ ستم کہ کھانے کے نام پر پچاس روپے ان بے آسرا مفلسوں سے اور دھروائے گئے۔ جب شور مچا تو اعلان ہوا کرایہ کم کر دیں گے۔ ارے صاحب اس حکومت کو شرم نہیں آتی۔ حکومت کا یہ فرض تھا کہ وہ ان کو مفت بھیجے۔ اور تو اور جب خود وزیر اعظم نے ملک کی معیشت کی امداد کے لیے بڑے فخر سے 20 لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کیا تو ان لاکھوں سڑک پر چلنے والے غریب مزدوروں کے لیے ہمدردی کا ایک لفظ بھی نہ ادا کیا۔ ان بھوکوں، بے روزگار اور بے سہاروں کے لیے وزیر خزانہ نے بڑے فخر سے کہا کہ ان کی مدد کے لیے منریگا اسکیم کی رقم میں اضافہ کر دیا جائے گا۔ ارے یہ بیچارے پہلے زندہ سلامت گھر تو پہنچیں اور پھر اس لائق تو بچیں کہ وہ منریگا اسکیم کے لیے پھاؤڑا چلا کر مزدوری کر سکیں۔ جی، دلّی ہنوز دور است۔

مودی سرکار نے ان پیدل چل رہے مزدوروں کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک کیا ہے، اس کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ صاحب کیا یہ منٹو کی کہانیوں جیسا المیہ نہیں ہے۔ اور اس المیہ کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ کبھی ان چائے بیچنے والے وزیر اعظم کے دل میں غریبوں کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔ دراصل یہ سرکار غریب دشمن سرکار ہے۔ بھلا یہ سرکار ان غریبوں کو دے گی کیا جو سرکار ریل بھاڑے کے نام پہ ان کی جیبوں سے پچاس روپیہ زیادہ وصول کرنے کو تیار تھی۔ اور تو اور وہ آر ایس ایس جو خود کو دنیا کی سب سے بڑا این جی او کہتے نہیں تھکتی ہے، اور اس کے 'سویم سیوک' زلزلوں اور طوفانوں کے بعد لوگوں کی امداد کے لیے نکل پڑتے ہیں، اس آر ایس ایس اور اس کے سویم سیوکوں کا بھی کہیں اتہ پتہ نہیں۔ بھارتیہ سبھیتا اور جن سیوا کا ہر وقت جاپ کرنے والے سویم سیوک ان غریبوں کی مدد کرتے کہیں نظر نہیں آتے۔ اور بھلا وہ ان دلتوں اور پچھڑوں کی مدد کریں بھی کیوں! یہ جس 'بھارتیہ سبھیتا' میں یقین رکھتے ہیں وہ 'سبھیتا' ہزاروں سال پرانے ذات پات اور انسانی اونچ نیچ کے نظام میں جکڑی 'سبھیتا' ہے۔ اس 'سبھیتا' میں دلت پچھڑوں اور ان کے جیسے غریبوں کو انسان ہی کب سمجھا جاتا ہے۔

اسی آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ محترم یوگی آدتیہ ناتھ نے تو ان مزدوروں کی 'خدمت' میں نئے ریکارڈ قائم کر دیئے۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے پرینکا گاندھی نے جب ان پیدل چل رہے مزدوروں کے لیے بسوں کا انتظام کیا تو یوگی حکومت نےد ہلی-یو پی سرحد پر ان بسوں کو یہ کہہ کر روک دیا کہ ان کے پاس تو یو پی میں داخل ہونے کا پرمٹ نہیں ہے۔ جب پرینکا نے شور مچایا تو حکومت نے کہا اجازت کے لیے پہلے بسوں کی لسٹ جمع کیجیے۔ جب لسٹ دی گئی تو حکومت نے یہ عذر پیش کر دیا کہ ان میں تو بسوں کے علاوہ ٹیمپو، ٹرک وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ارے بھائی، ان سے کوئی پوچھے مقصد تو یہ تھا کہ یہ مزدور پیدل نہ چلیں، کسی بھی ذریعہ سے پیدل چلے بغیر اپنے گھروں کو پہنچ جائیں۔ وہ ٹرک ہو یا ٹیمپو، بیچارا مزدور پیدل نہ چلے۔ لیکن بھلا یوگی جی کا دل ان مزدوروں کے لیے کیسے پسیجتا! وہ اسی نظریہ حیات اور 'بھارتی سبھیتا' میں یقین رکھتے ہیں جس میں ان غریب مزدوروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس لیے ان کی رائے میں یہ مزدور پیدل ہی چلیں تو ٹھیک ہے۔ تب ہی تو یوگی جی کانوڑیوں پر ہوائی جہاز سے پھول برسانے کے لیے کروڑوں خرچ کر سکتے ہیں لیکن کانگریس کو مزدوروں کے لیے مہیا کردہ بسوں کو یو پی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ادھر مودی جی غیر ممالک میں پھنسے ہندوستانیوں کے لیے ہوائی جہازوں کا انتظام کر سکتے ہیں، لیکن مزدوروں کے لیے ریل کرایہ نہیں معاف کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مودی ہوں یا یوگی ہوں، ان کو غریبوں کا ووٹ تو چاہیے لیکن ان کے وقت پر ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔

بھائی، کس کس کا رونا روئیے اور کس کس کی شکایت درج کیجیے۔ ایک کانگریس پارٹی کو چھوڑ کر اس ملک کی کون سی سیاسی جماعت یا سماجی تنظیم ان غریب مزدوروں کے حق میں کھڑی ہوئی۔ سونیا گاندھی سے لے کر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی تک ہر کسی نے کم سے کم ان مزدوروں کا دکھ بانٹنے کی کوشش تو کی۔ سونیا گاندھی نے فوراً وزیر اعظم کو خط لکھ کر درخواست کی، حکومت غریبوں کی مدد کرے۔ راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کر ان مزدوروں کو سیدھے پیسہ پہنچانے کا مشورہ دیا۔ جب راہل مزدوروں سے ملنے خود پہنچے اور ان کو پہنچوانے کے لیے کاروں کا انتظام کیا تو راہل گاندھی کا مذاق بنایا گیا اور گاڑیاں ضبط کر لی گئیں۔ پرینکا گاندھی نے 'جنتا کچن' چلوا کر لاکھوں کو کھانا بنٹوایا اور بسوں کا انتظام کیا۔ کسی اور کو اتنا بھی خیال نہیں آیا۔

ادھر سماجی انصاف کا دم بھرنے والی 'دلت مہارانی' مایاوتی اور ان کی بہوجن سماج پارٹی کا اس پورے کرائسس میں کہیں اتہ پتہ نہیں ہے۔ پیدل چل رہے لاکھوں دلتوں کا ووٹ بٹورنے والی مایاوتی نے ان مزدوروں کے حق میں ایک بیان بھی دینا گوارہ نہیں کیا۔ دیتی بھی کیوں، سماجی انصاف کا ڈھول پیٹ کر ان کا ووٹ تو مل ہی جاتا ہے۔ اسی طرح پچھڑوں کے مسیحا ملائم سنگھ اور اکھلیش یادو اس ملک میں موجود ہیں یا کہیں باہر تشریف رکھتے ہیں، اس کا بھی گمان کرنا مشکل ہے۔ ان کو بھی رو پیٹ کر پچھڑوں کا ووٹ تو مل جاتا ہے تو پھر ان غریبوں کے لیے پسینہ بہانے کی کیا ضرورت۔ ادھر 'اتی پچھڑوں' کا دم بھرنے والے نتیش کمار کا سرے سے کہیں پتہ ہی نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ سماجی انصاف ان سب کے لیے ایک ڈھونگ ہے اور ووٹ بٹورنے اور اپنا اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

بیچارہ غریب مزدور تب ہی تو پیدل چل رہا ہے۔ کبھی ریل سے کچل کر مر رہا ہے تو کبھی ٹرک اس کو کچل رہا ہے۔ اس کی حاملہ عورت سڑک پر بچہ جن رہی ہے اور اس کے بچے سینکڑوں میل پیدل چل رہے ہیں اور اس ملک کے ماتھے پر شکن بھی نہیں پڑتی۔ بھلا ایسے ماحول میں کیسی عید اور کہاں عید کی خوشیاں۔ بس اتنی دعا ضرور ہے کہ ایسی عید پھر کبھی نہ آئے۔

Published: 24 May 2020, 10:11 AM