اہنکار نہیں بلکہ مرکزی حکومت کی مجبوری ہے... اعظم شہاب

دھنا سیٹھ جو اربوں روپئے بی جے پی و مرکزی حکومت پر صرف کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں وہ اب سود سمیت وصول کریں گے ہی، سو یہی ہو رہا ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

...اور بالآخر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ کسانوں اور مرکزی حکومت کے درمیان آٹھویں دور کی بات چیت بھی بے نتیجہ ہی نکلی۔ اس سے قبل سات دور کی بات چیت ہوچکی ہے، جن کے حشر سے ہر کوئی واقف ہے۔ اب اعلان ہوا ہے کہ 15جنوری کو نویں دور کی بات چیت ہونے والی ہے۔ اس نویں دور کا کیا حشر ہوگا؟ اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا تو قبل ازوقت ہوگا لیکن قرائن بتا رہے ہیں ان سے بھی کوئی امید کی کرن نمودار نہیں ہونے والی ہے۔ کیونکہ وزیر زراعت پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ زرعی قوانین واپس نہیں لیے جائیں گے اور کسان اعلان کرچکے ہیں کہ ان کی واپسی کے بغیر وہ اپنے گھروں کو نہیں جائیں گے۔ ایسی صورت میں 15جنوری کی بات چیت کے نتیجے کا اندازہ لگانا کوئی راکیٹ سائنس نہیں ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ہریانہ کے کرنال ضلع کے کیملا گاؤں میں ریاستی بی جے پی حکومت نے آج کسانوں کو یہ اشارہ بھی دے دیا ہے کہ 15جنوری کی بات چیت کا کیا نتیجہ ہونے والا ہے اور یہ کہ بی جے پی کے نزدیک کسانوں کی کیا اہمیت ہے۔ کیملا گاؤں میں کسانوں پر یخ پانی کی بوچھاریں ماریں گئیں، آنسو گیس گولے داغے گئے اور انہیں مارپیٹ کر بھگایا گیا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹّر کے ذریعے بلائے گئے کسان مہاپنچایت کی مخالفت کر رہے تھے۔

بی جے پی ومرکزی حکومت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ میں اکثریت کے زعم میں وہ مغرور ہوچکی ہے۔ اس کے اندر اہنکار آچکا ہے اور اپنے اہنکار کے نشے میں ہی وہ زرعی قوانین کو واپس لینے سے انکار کر رہی ہے۔ لیکن اگر بی جے پی ومرکزی حکومت کے رویے پر تھوڑا سا ہی غور کرلیا جائے تو جو سچائی سامنے آئے گی وہ اس اہنکار وزعم کے بالکل برخلاف ہوگی جس کا الزام مرکزی حکومت و بی جے پی پر عائد کیا جا رہا ہے اور وہ سچائی یہ ہے کہ صنعتکاروں ودھنا سیٹھوں کے احسان کے سامنے وہ اس قدر بے بس و مجبور ہوچکی ہے کہ اس کے اندر ان کے مفاد کے خلاف جانے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ بی جے پی ومرکزی حکومت کی روح اس تصور سے ہی کانپ اٹھ رہی کہ اگریہ صنعتکار اس سے ناراض ہوگئے تو اس کی زندگی مشکل ہوجائے گی کیونکہ بی جے پی کی موجودہ پوزیشن انہیں دھناسیٹھوں کی مرہون منت ہے جو اس کے لیے ہمیشہ اپنے خزانوں کو منہ کھولے کھڑے رہتے ہیں۔ یہ صورت حال کیوں پیدا ہوئی اور دنیا کی سب سے بڑی اور مضبوط کہلانے والی پارٹی بی جے پی اس قدر بے بس کیوں ہوئی؟ آئیے ذرا ایک نظر اس پر ڈال لیتے ہیں۔

2011 میں کرپشن کے خلاف انا ہزارے کی جن لوک پال کے لیے شروع ہونے والی تحریک کو لوگ باگ بدعنوانی کے خلاف ایک احتجاج سمجھتے رہے ہیں، مگر عین اسی درمیان بی جے پی وملک کے دھنا سیٹھوں کے درمیان ہوئے معاہدے کے تحت بی جے پی کو ان دھنا سیٹھوں نے بھرپور چندے دینے شروع کردیئے۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ انا ہزارے کی جن لوک پال تحریک کے پسِ منظر سے بی جے پی نئے آب وتاب کے ساتھ ظاہر ہوئی۔ بی جے پی جب کانگریس کے مقابل میں کھڑی ہونے کے قابل ہوگئی تو ان دھنا سیٹھوں نے نریندرمودی کو پرموٹ کرنا شروع کیا جنہوں نے گجرات میں ان کے مفاد کی نگہبانی کرتے ہوئے ان کا اعتماد جیت لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لال کرشن اڈوانی وراج ناتھ سنگھ جیسے سینئر لیڈران کے بجائے بی جے پی کو نریندرمودی کو وزیراعظم کا امیدوار بنانا پڑا۔ اس وقت تک بی جے پی پر ان دھنا سیٹھوں کی گرفت کافی مضبوط ہوچکی تھی اور 2014 آتے آتے ان کے خزانوں کے دہانے بی جے پی کے لیے کچھ اس طرح کھل گئے کہ پورا کا پورا کارپوریٹ طبقہ بی جے پی کو کامیاب کرانے میں جٹ گیا۔ اس کے تحت پہلے میڈیا کو بی جے پی کے تابع لایا گیا اور پھر اس کے بعد عوام کو نریندرمودی کی شکل میں امید کی ایسی کرن دکھائی گئی کہ عوام کو لگنے لگا کہ اب دودھ کی نہر ٹھیک ان کے دروازے سے ہی گزرنے والی ہے۔

2014 سے 2019 تک نریندرمودی کے ذریعے دھناسیٹھوں کے مفاد کی نگہبانی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک مواصلات سے لے کر پٹرولیم تک، ریلوے سے لے کر دفاعی شعبے تک میں صنعتکاروں کا عمل دخل بڑھ گیا۔ پردھان سیوک نے خود ان صنعتکاروں کے کاروبار کی تشہیر کرنی شروع کر دی اور بیرون ملک انہیں ٹھیکے دلانے لگے۔ اس کے بدلے میں ان صنعتکاروں کے خزانوں کے دہانے مزید وا ہوئے اور 2019 کے انتخابات سے قبل ایسا بھی وقت آیا کہ بی جے پی خود کو دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے بڑی مالدار پارٹی کہلوانے لگی۔ مودی حکومت کی یہ صنعتکاروں کے مفاد کی نگہبانی ہی تھی کہ ایک جانب الیکٹورل باؤنڈ کے ذریعے ان دھناسیٹھوں کے چندوں کو ہرطرح کی بازپرس سے آزاد کیا گیا تو دوسری جانب سے عوام سے پائی پائی کا حساب مانگا جانے لگا۔ اب شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان الکیٹورل باؤنڈ کا 90 فیصد حصہ بی جے پی کے ہی حصے میں آیا۔

قصہ مختصر یہ کہ پارٹی فنڈ کے چندوں سے لے کر پی ایم کیئر فنڈ تک میں ان صنعتکاروں نے اپنے خزانوں سے بی جے پی کی بھرپور مدد کی جس کے نتیجے میں آج بی جے پی ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کی سب سے مالدار پارٹی کہلاتی ہے۔ بی جے پی کے لیے لاکھ دو لاکھ افراد کی ریلی کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوگیا جبکہ اس کے لیے دوسری پارٹیوں کے پیسنے چھوٹ جاتے ہیں۔ اب ایسی صورت میں یہ دھنا سیٹھ جو اربو ں روپئے بی جے پی ومرکزی حکومت پر صرف کیے ہیں یا کررہے ہیں وہ سود سمیت وصول کریں گے ہی، سو یہی ہورہا ہے۔ ورنہ کیا یہ ممکن تھا کہ ایک منتخب حکومت ملک کے 70 فیصد لوگوں کے خلاف جاتے ہوئے محض 2 فیصد لوگوں کے مفاد کے لیے اڑ جائے؟ اس لیے یہ کہنا کہ بی جے پی ومرکزی حکومت اپنے اہنکار وگھمنڈ کی وجہ سے کسانوں کے مطالبات کو تسلیم نہیں کر رہی ہے اور زرعی قوانین واپس نہیں لے رہی ہے، سچائی نہیں ہے۔ سچائی یہی ہے کہ مرکزی حکومت اپنے صنعتکار دوستوں کے سامنے بے بس ومجبور ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کسانوں کے مطالبات کے لیے بات چیت کی بے نتیجہ سیریل نہیں شروع ہوتی اور بی جے پی ریاستوں میں ان کے احتجاج کو کچلنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next