سورو گنگولی کو ہارٹ اٹیک اور غازی پور بارڈر پر کشمیر سنگھ کی خودکشی... اعظم شہاب

جب سے کسانوں کا احتجاج شروع ہوا ہے ابھی تک پچاس سے زائد کسان اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اگر حکومت کو کسانوں سے گنگولی کے نصف بھی ہمدردی ہوتی تو کسانوں سے بات چیت کے ڈرامے کی قسط کب کی مکمل ہوچکی ہوتی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

ہمارا ملک یوں تو ہر روز نت نئے سانحات سے دوچار ہوتا رہتا ہے مگر دو روز قبل جو حادثہ پیش آیا اس نے واقعتاً ملک کو لرزہ براندام کر دیا۔ بی سی سی آئی کے سربراہ اور بی جے پی کے رتھ پر سواری کے لیے بے تاب سورو گنگولی کو دل کا دورہ پڑ گیا جو غالباً اس قدر شدید تھا کہ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ سمیت مرکزی وزیر داخلہ و ان کے صاحبزادے تک پر صدمے کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ انہوں نے فوری طور پر ٹوئٹ کرتے ہوئے سورو گنگولی کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ہماری بھی دعا ہے کہ موصوف جلد روبہ صحت ہوجائیں، مگر سربراہان کی ٹوئٹ سے ہمیں اس یقین میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

یہ ٹوئٹر دراصل ہے ہی اس قدر کرشماتی شئی کہ اس کے دائرے میں آنے اور لانے والے دونوں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی بیماری کی حالت میں ٹوئٹر کے دائرے میں داخل ہوتا ہے تو اسے شفا مل جاتی ہے اور اگر کوئی بعد ازمرگ داخل ہوتا ہے تو اس کی آتما کو یقینی طور پر شانتی مل جاتی ہے۔ ہمارے مفتی سکندر خان کا خیال یہ ہے کہ ٹوئٹر ’صحت یابی‘ و ’آتما کی شانتی‘ کی ٹوئٹ کے لیے علیحدہ سے چارجیز (فیس) وصول کرنے والا ہے، مگر مجھے مفتی صاحب کی باتوں پر یقین نہیں ہے۔

لیکن جس دن ہمارے مہان کرکٹر ٹوئٹر معاف کیجئے گا دل کے دورے کی زد میں آئے، عین اسی دن دہلی کی سرحد پر مہینے بھر سے شریان کو منجمد کر دینے والی سردی میں بیٹھے ایک 75 سالہ شخص نے اپنی جان دے دی۔ لیکن اس کے لیے کسی سربراہ مملکت کے کسی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک لکیر تک نہیں کھنچی۔ یہاں تک کہ کسی نے اس کی آتما کی شانتی کے لیے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ جبکہ اس خودکشی کی تمام ذمہ داری انہیں سربراہان پر عائد ہوتی ہے جو آج گنگولی کے ہارٹ اٹیک پر ان کی اہلیہ ڈونا گنگولی کو حوصلہ دیتے نہیں تھک رہے ہیں۔ خودکشی کرنے والے شخص نے اپنی خودکشی نوٹ میں حکومت کو اپنی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

اس خودکشی کرنے والا شخص کا نام کشمیر سنگھ تھا جو اترکھنڈ کا رہنے والا تھا۔ وہ حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف اپنے پورے اہلِ خانہ کے ساتھ دہلی کی سرحد پر بیٹھا ہوا تھا مگرحکومت کے ٹال مٹول کو دیکھ کر اس نے اپنی جان دے دی۔ اس نے اپنی خودکشی نوٹ میں لکھا کہ حکومت ناکام ہوگئی ہے، آخر ہم یہاں کب تک بیٹھے رہیں گے؟ حکومت ہماری بات نہیں سن رہی ہے، اس لیے میں اپنی جان دے رہا ہوں۔ میرا انتم سنسکار میرے بچوں کے ہاتھوں دہلی یوپی بارڈر پر ہونا چاہیے۔ میرے اہل خانہ یہیں احتجاج کرنے والے کسانوں کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ہمارے قومی میڈیا میں بھی یہ خبر کوئی خاطر خواہ جگہ حاصل نہیں کرسکی البتہ سوشل میڈیا پر ہنگامے کے بعد کچھ پرنٹ میڈیا نے اپنی لاج رکھنے کے لیے ایک باکس میں اس خبر کو ضرور سمیٹنے کی کوشش کی۔

اس کسان کی موت پر پردھان سیوک سے ردعمل کی امید تو خیر فضول ہی تھی، لیکن جن کسانوں کے طفیل آج ملک کو وزیر زراعت کا نام معلوم ہوسکا، وہ بھی اس پر کچھ نہیں بولے۔ ایسا شاید اس لیے ہوا کہ ہمارے پردھان سیوک کے پورے ٹولے کے نزدیک زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسان تو اینٹی نیشنل ہیں، خالصتانی ہیں، اپوزیشن کے بہکاوے میں آگئے ہیں۔ پھر بھلا دنیا کے سب سے بڑے دیش بھکتوں کو ایک اینٹی نیشنل، خالصتانی وبہکاوے میں آجانے والے کسان کی موت سے کیا فرق پڑتا؟ ہاں اگر اس کسان کی جگہ پر مغربی بنگال کا کوئی ایکٹر یا کریکٹر ہوتا تو ’شردھانجلی‘ کا ایک طوفان ضرور امڈ پڑتا کیونکہ وہاں اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ ممکن ہے اس کو آپ غلو قرار دیں مگر ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ہیں سوشانت سنگھ راجپوت کی خوکشی کو، پردھان سیوک خود اور ان کے آئی ٹی سیل نے سوشانت کی آتما کو شانتی دلانے کا بیڑہ اٹھایا ہوا تھا جو اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ بہار میں اس کے بیک فائر کا یقین نہیں ہوگیا۔

سورو گنگولی بی جے پی میں شامل ہونے ہی والے تھے کہ اس جانکاہ حادثے کا شکار ہوگیے۔ اس کا درد امت شاہ و ان کے صاحبزادے جئے سنگھ سے زیادہ اور بھلا کس کو ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے والد بنگال جیتنا چاہتے ہیں اور صاحبزادے بی سی سی آئی کے سکریٹری ہیں۔ بھلا یہ کون نہیں جانتا کہ بی سی سی آئی سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے۔ کارپوریٹ کا پورا پیسہ اسی بی سی سی آئی کے ذریعے ہی سیاست میں داخل ہوتا ہے۔ اب ایسے میں بھلا سورو گنگولی کے ہارٹ اٹیک پر حکومت کے ایوان میں زلزلہ آئے گا یا کسی بے نام وحکومت کے مخالف کسان کی خودکشی سے؟ جب سے کسانوں کا احتجاج شروع ہوا ہے ابھی تک پچاس سے زائد کسان اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اگر حکومت کو کسانوں سے سورو گنگولی سے نصف بھی ہمدردی ہوتی کسانوں سے بات چیت کے ڈرامے کی قسط کب کی مکمل ہوچکی ہوتی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next