ندائے حق: لبنان میں سیاسی کشمکش جاری... اسد مرزا

لبنان میں بحران نے ایک بڑے المیہ کی شکل اختیار کرلی ہے، کیونکہ وہاں کے سیاست داں صرف اور صرف حکومت پر قبضہ کرنے کے لیے سیاسی شطرنج کھیل رہے ہیں اور کسی کو بھی عوام کی حالت زار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

اسد مرزا

حالیہ عرصہ میں جب کہ ساری دنیا کی توجہ افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں پر مرکوز ہے، اسی درمیان ایک اور عرب ملک میں جو انسانی المیہ روز بروز بد سے بدتر کی شکل اختیار کرتا چلا جا رہا ہے اس کی جانب بہت کم افراد کی نظر ہے یا فکر ہے۔ یہاں ہم بات کر رہے ہیں لبنان کی جو کہ گزشتہ دو سال کے عرصے میں ایک بحران کے بعد دوسرے بحران کا شکار ہوتا چلا گیا ہے۔

لبنان کی بدتر ہوتی صورت حال کوئی نئی بات نہیں ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے وہاں کی فرقہ پرست سیاسی تنظیموں اور بدعنوان سیاست دانوں اور بینکروں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ وہاں جاری معاشی بحران کرونا وبا کی وجہ سے اور زیادہ سنگین ہوگیا تھا اور اس میں آخری کیل گزشتہ سال اگست میں دارالحکومت بیروت میں ہونے والا بم دھماکہ ثابت ہوئی اور جسے ماہرین تاریخ نے اسے کسی بھی سب سے بڑے غیر نیوکلیائی دھماکے سے تعبیر کیا ہے۔


اس دھماکے نے حالات کو اور زیادہ سنگین بنا دیا۔ نیویارک ٹائمز اخبار کے مطابق اس دھماکے کی وجہ سے نہ صرف خام تیل کے ذخائر ختم ہوئے بلکہ اس کا اثر معیشت کے ہر شعبے پر ہوا جس کی وجہ سے مہنگائی چار گنا بڑھ گئی اور عوام کو کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ ادویات کی قلت سے بھی دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں بجلی اور پانی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی۔ ان سب مشکلات کے پیشِ نظر جو افراد ملک سے باہر جانا چاہتے تھے، وہ ایسا نہیں کرسکتے تھے کیونکہ پیٹرول کی بھی کافی قلت ہوگئی تھی۔

بی بی سی نیوز کے مطابق ان تمام دشواریوں کی وجہ سے لبنان کی تقریباً آدھی آبادی مفلسی کا شکار ہوچکی ہے اور حکومت مخالف مظاہروں میں شدت بڑھتی جا رہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ لبنان اس حالت میں ملک کے بدعنوان سیاست دانوں اور نا اہل حکومت کی وجہ سے پہنچا ہے۔ ایک بیان میں یونیسف(UNICEF) نے کہا ہے کہ ملک مکمل بدامنی کا شکار ہوسکتا ہے کیونکہ اسے ہر شعبے میں مدد درکار ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ نئی حکومت جلد از جلد قائم ہو اور وہ حکومت لبنان میں اصلاحات کے تئیں مکمل طور پر پابند ہو۔ موجودہ بحران سے اسی وقت نبرد آزما ہوا جاسکتا ہے جب اس کے لیے منظم سیاسی حکمت عملی وضع کی جاسکے جو کہ عوام کو پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات مہیا کراسکے اور ساتھ ہی ایک پائیدار حکومت قائم کرسکے۔


لبنان کے لیے متعین اقوامِ متحدہ کی خاص مشیر نجت روش دی کے بقول لبنان سیاسی اور داخلی انتشار کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے لبنان اور لبنانی عوام کو بچانے کے لیے کوئی مؤثر اور پختہ حکمت عملی وضع کرنا نہایت ضروری ہے اور یہ عمل فوراً شروع ہو جانا چاہیے۔

لبنان کی سیاسی صورت حال

دراصل لبنان میں گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے حکومت کو ایک عبوری حکومت چلا رہی ہے۔ اور سیاسی کھینچا تانی کے سبب وہ ایسی کوئی بھی حکمت عملی وضع نہیں کرسکتی ہے جو کہ معاشی اصلاحات کے لیے عالمی اداروں کو درکار ہیں۔ گزشتہ سال بیروت میں ہونے والے دھماکے کے بعد وزیر اعظم حسن دیاب نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ لیکن کسی دوسرے نئے سیاسی متبادل کی غیر موجودگی کے سبب وہ نگراں وزیر اعظم کے طور پر حکومت چلا رہے ہیں۔ موجودہ پارلیمان کی میعاد اگلے سال مئی میں ختم ہوجائے گا اور صدر مائیکل اون کی صدارت اکتوبر میں ختم ہونا ہے۔ ایک لبنانی رکنِ پارلیمان کا کہنا ہے کہ اگر ہم پارلیمان کی میعاد ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں تو بہت دیر ہوجائے گی ملک کو فوراً ہی کوئی مستحکم حکومت درکار ہے۔


اس کے ساتھ ہی سیاسی بحران میں مزید الجھنیں اس لیے بھی پیدا ہو رہی ہیں کہ موجودہ صدر اون اپنے بعد، اپنے داماد جبران باصل کو صدر کے عہدے پر فائز کرنا چاہتے ہیں، جس سے کہ وہ مستقبل میں قائم ہونے والی کسی بھی حکومت کی تشکیل میں اہم رول ادا کرسکیں۔ اور اس ضمن میں وہ آئین کا حوالہ دیتے ہیں کہ اگر کوئی عبوری یا نگران حکومت کسی نئے صدر کا انتخاب کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو صدر کو اختیار ہے کہ وہ اپنے عہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی اپنے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں۔ حزبِ اختلاف کا دعویٰ ہے کہ صدر اون جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ ملک میں کوئی مستحکم حکومت قائم نہ ہوسکے اور حقیقتاً ان کی یا ان کے بعد آنے والے صدر کی گرفت ملک کے سیاسی نظام پر قائم رہے۔

لبنان کی سیاسی جماعتیں

جہاں ایک جانب ملک کی سیکولر سیاسی جماعتیں 2022ء میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل متحد ہوکر ایک وسیع تر محاذ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہیں لبنان کی فرقہ پرست تنظیمیں عوامی رائے عامہ اپنے حق میں کرنے کے لیے عوام کو مالی اور دیگر مدد دے کر اپنے حامیوں کو لبھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔


درحقیقت لبنانی عوام فرقہ پرست تنظیموں کے خلاف بولنے یا کوئی بھی قدم اٹھانے سے مجبور ہیں کیونکہ 1990ء کے بعد سے جس طرح ان فرقہ پرست تنظیموں نے ملک کے عوام کو اپنے شکنجے میں کس رکھا ہے، اس سے وہ نفسیاتی طور پر ملک میں موجود فرقہ پرست تنظیموں کے زیرِ اثر آتے چلے گئے۔ اب وہ ان کے علاوہ کسی دوسری سیاسی تنظیم یا جماعت میں شامل ہونے کو گوارا نہیں کرتے۔ اس عمل کی شروعات 90 کی دہائی کے بعد ہوئی تھی، جب غیر ملکی طاقتوں نے لبنان کے عوام کو مختلف فرقوں میں تقسیم کرنے کی شروعات کی۔ اس سے قبل لبنان مذہبی بھائی چارے اور مشترکہ شناخت کے لیے جانا جاتا تھا، جس میں مسلم- عیسائی، شیعہ- سنی، کسی میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی تھی۔ لبنان کے دارالحکومت بیروت کو مشرقِ وسطیٰ کا پیرس کہا جاتا تھا اور وہاں کے بینکرس عالمی معاشی بازاروں میں بڑے پیمانے پر مالی کاروبار کرتے تھے۔

تاہم 1990 کے بعد سے غیر ملکی طاقتوں کے زیرِ اثر لبنانی عوام مختلف فرقوں میں تقسیم ہوتے چلے گئے۔ امل تحریک شیعوں کی نمائندہ تنظیم بن گئی اور Free Patriotic Movementکے جبران باسل نے اپنے آپ کو کرسچین فرقے کے نمائندے کے طور پر پیش اور قائم کرنے کی تحریک شروع کردی۔ جس طریقے سے گزشتہ 30 برس کے دوران لبنانی عوام نے اپنے آپ کو مختلف فرقوں اور تنظیموں میں محصور کرلیا ہے اس کے پیشِ نظر ایسا کوئی متبادل ابھرتا نظر نہیں آتا ہے جو کہ ایک مرتبہ پھر لبنانی عوام کو متحد کرسکے۔ کیونکہ موجودہ بحران میں بھی اپنی روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے عوام کی اکثریت انھیں فرقہ وارانہ تنظیموں کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ نو منتخب وزیر اعظم نجیب ملکاتی نے نئی کابینہ تشکیل دینے کا دعویٰ کیا ہے تاہم وہ کابینہ تب تک حلف نہیں لے سکتی جب تک کہ صدر اون اسے منظوری نہ دے دیں اور اس کے لیے ان کے مطالبات بھی موجود ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا ملکاتی صدر کے مطالبات مانتے ہیں یا نہیں یا پھر وہ کسی طریقے سے خود صدر اون کو اقتدار سے باہر کرپائیں گے یا نہیں۔


دریں اثنا لبنان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے مصر نے اسے گیس سپلائی کرنے کا وعدہ کیا ہے، اس کے ساتھ ہی EU تنظیم نے چالیس ملین ڈالر مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے اور امریکہ نے بھی دس ملین ڈالر مالی امداد مہیا کرائی ہے۔ لیکن یہ سب تدابیر صرف وقتی طور پر مدد گار ثابت ہوں گی اور جب تک لبنان کے بدعنوان سیاست دانوں اور بیوروکریٹس منظرِ عام سے غائب نہیں ہوتے تب تک لبنان کا حال یہی رہے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔