یوگی حکومت کے اشتہار میں کولکاتا کی تصویر! یوپی کے ’وکاس‘ پر اپوزیشن کا طنز

یوگی حکومت اپنے ایک اشتہار کے حوالہ سے حزب اختلاف کے نشانہ پر آ گئی ہے، اس اشتہار میں جن تصاویر کا استعمال کیا گیا ان کا تعلق کولکاتا سے ہے

تصویر ٹوئٹر
تصویر ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: اتر پردیش میں برسراقتدار یوگی حکومت کے ایک اشتہار کے حوالہ سے حزب اختلاف کی جماعتیں حملہ آور ہو گئی ہیں۔ انگریزی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ میں شائع اشتہار میں جن تصاویر کا استعمال کیا گیا ہے وہ مغربی بنگال کے کولکاتا سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس معاملہ پر ٹی ایم سی، سماجوادی پارٹی وغیرہ نے بی جے پی پر طنز کیا ہے۔

ٹی ایم سی نے اتر پردیش اور بی جے پی کے وکاس (ترقی) کے دعووں کو کھوکھلا قرار دیتے ہوئے سیاسی ہنگامہ شروع کر دیا ہے۔ ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ اور ممتا بنرجی کے بھتیجے نے یوگی حکومت پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے لئے یوپی کو بدلنے کا مطلب ممتا بنرجی کی قیادت میں بنگال میں کئے گئے بنیادی ڈھانچہ سے تصاویر کو چوری کرنا اور انہیں اپنے اشتہار میں استعمال کرنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ڈبل انجن ماڈل بی جے پی کے سب سے مضبوط صوبہ میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔


سماج وادی پارٹی نے بھی اس معاملہ پر یوگی حکومت کو نشانہ بنایا اور ایک خبر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’وزیر اعلیٰ یوگی کے جھوٹ کی پھر پول کھل گئی ہے۔ اشتہارات میں عوام کا پیسہ پانی کی طرح بہانے والوں کے پاس دکھانے کے لئے اپنا کیا ہوا کوئی کام نہیں، تو کولکاتا میں تعمیر شدہ فلائی اوور کی تصویر چھاپ کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ یہ شرمناک ہے اور بی جے پی حکومت جھوٹ بولنے میں نمبر ایک ہے۔‘‘

عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے بھی یوگی حکومت کے اشتہار پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا، ’’ایسا وکاس نہ سنا ہوگا نہ دیکھا ہوگا۔ کولکاتا کا فلائی اوور کھینچ کر لکھنؤ لے آئے ہمارے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ جی۔ بھلے ہی اشتہار میں لے آئے لیکن لائے تو۔‘‘


بعد میں انڈین ایکسپریس کی جانب سے یوگی حکومت کے اشتہار پر وضاحت پیش کی گئی ہے۔ اخبار نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’اخبار کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعہ تیار کردہ اتر پردیش کے اشتہار کے کور کولاج میں نادانستہ طور پر ایک غلط تصویر شامل کی گئی تھی۔ اس غلطی پر ہم معذرت خواہ ہیں۔ تصویر کو اخبار کے تمام ڈیجیٹل ایڈیشنز سے ہٹا دیا گیا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔