ندائے حق: عرب بہار پر خزاں کا سایہ... اسد مرزا

دس برس قبل جس طریقے سے مختلف مسلم ممالک میں عرب بہار کو لے کرجمہوریت کے تئیں ایک امید قائم ہوئی تھی، وہ حالیہ عرصہ میں تین مسلم ممالک میں رونما ہونے والے واقعات سے دم توڑتی نظر آرہی ہے

عرب بہار / Getty Images
عرب بہار / Getty Images
user

اسد مرزا

حالیہ عرصے میں ہندوستانی ذرائع ابلاغ میں صرف اور صرف افغانستان سے متعلق خبریں اور مباحثے نظر آرہے ہیں۔ لیکن اسی درمیان ایک دوسرے مسلم ملک میں رونما ہونے والے واقعات کو سرسری طور پر ہی کور کیا گیا، جبکہ اس کے مرتب کردہ اثرات کافی دور رس تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔ یہاں ہم بات کر رہے ہیں تونیسیا (Tunisia) کی جہاں تقریباً دس سال پہلے یعنی دسمبر 2011ء میں عرب بہار کا آغاز ہوا تھا اور جس کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ عرب بہار کے زیر اثر زیادہ تر مسلم ممالک میں جمہوری ادارے تقویت حاصل کریں گے اور ہوسکتا ہے کہ ایک دن ان میں سے بیشتر ممالک میں ایک جمہوری حکومت قائم ہوجائے۔

تونیسیا کے حالات

تاہم گزشتہ مہینے کے اواخر میں تونیسیا میں پیش آنے والے حالات نے عرب بہار سے حاصل ہونے والے فوائد پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، کیونکہ اب ایسا لگ رہا ہے کہ عرب بہار پر خزاں کا سایہ گہراتا جارہا ہے۔ گزشتہ 25 جولائی کو تونیسیا کے صدر قیس سعید نے دنیا کو ششدر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ پارلیمان اور کیبنٹ کو منسوخ کرکے ہنگامی صورتِ حال کے پیشِ نظر حکومت کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں۔


تونیسیا پر نظر رکھنے والے ماہرین کے لیے یہ اقدام کوئی نیا نہیں تھا کیونکہ گزشتہ دس سال کے عرصے میں تونیسیا میں دس حکومتیں تبدیل کی جاچکی ہیں۔ ان مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر حالات اسی طرح سے چلتے رہے تو تونیسیا ایک مرتبہ پھر داخلی انتشار کا شکار ہوکر کسی جابر حاکم کے ہاتھوں میں آکر آمریت کی طرف گامزن ہو جائے گا۔ دراصل گزشتہ دس سال کے سیاسی واقعات نے زیادہ تر تونیسیائی شہریوں کو جمہوریت اور اس سے متعلق دیگر تنظیموں اور بالخصوص ملک کی سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کے تئیں ایک بدگمانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے صدر سعید کے اعلان کے بعد ملک میں ہر طرف ایک خوشی اور جوش کا ماحول تھا۔

صدر کے حمایتیوں کا کہنا تھا کہ ان کے اقدام نے ملک کو داخلی انتشار سے بچالیا ہے اور ملک کو ان کے جیسے ہی کسی سخت گیر رہنما کی ضرورت ہے۔ اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے The Economistمیگزین نے اپنے حالیہ اداریہ میں لکھا ہے کہ ملک کو کسی سخت گیر رہنما یا فرد کی نہیں بلکہ سیاسی ماحول اور جماعتوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ صدر سعید 2019 میں 70 فیصد ووٹ حاصل کرکے صدر کے عہدے پر فائز ہوئے تھے جس کے معنی ہیں کہ انھیں عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم صدارتی حکم کے مطابق حکومت سے بے دخل کی جانے والی انہادا جماعت اور حزبِ اختلاف کی دیگر سیاسی جماعتوں کا الزام ہے کہ صدر سعید کا یہ فیصلہ غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے۔


اس پس منظر میں زیادہ افراد کی امیدیں، قومی افہام و تفہیم کے لیے سرگرم ان چار جماعتوں پر ہیں جنھیں Quartet for National Dialogue کہا جاتا ہے اور جو اس سے پہلے اسلامی اور سیکولر جماعتوں کے درمیان معاہدہ کرانے میں کامیاب ہوچکی ہیں جس کے لیے انھیں 2013 میں نوبل امن انعام سے بھی نوازا جاچکا ہے اور اب بھی ان سے یہی امید ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر اسلامی اور سیکولر جماعتوں اور صدر کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرپائیں گی۔

دراصل تونیسیا میں گزشتہ تین سال سے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے تھے۔ ملک کی معیشت میں گراوٹ رونما ہورہی تھی، بے روزگاری اور مہنگائی بڑھتی چلی جارہی تھی۔ جس میں مزید اضافہ کورونا وبا نے بھی کیا۔ عوام حکومت پر قابض انہادا پارٹی سے خائف ہوتے جارہے تھے اور پارلیمان میں صدر اور انہادا پارٹی کے ممبران کے درمیان روز بہ روز ٹکراؤ میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اور دونوں ہی آئین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سابق صدر بین علی کے تخت پلٹ کے بعد جو آئین ملک میں نافذ کیا گیا تھا اس میں ایسی بہت سی شقیں شامل کرلی گئی تھیں جو کہ اصلاً اختیار نہیں رکھتیں یا پھر وہ صدر اور سیاسی جماعتوں یا حکمران جماعت کو برابر کے اختیارات دے رہی تھیں ناکہ کسی Checks & Balanceنظام کو قائم کر رہی تھیں جو کہ کسی بھی جمہوریت کے فعال کردار ادا کرنے کے لیے لازم ہوتا ہے۔


عرب ممالک کا ردِ عمل

درحقیقت مصر اور سوڈان کے بعد تونیسیا تیسرا ملک ہے جہاں کہ اخوان المسلمین یا مسلم برادرہڈ سے تعلق رکھنے والی کسی سیاسی جماعت کو حکومت سے بے دخل کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں سوائے قطر کے زیادہ تر عرب ممالک اخوان سے تعلق رکھنے والی ہر جماعت اور تنظیم کو خطے کی سیکوریٹی اور امن کے لیے خطرہ مانتے ہیں۔ زیادہ تر عرب مبصرین اور سیاسی تجزیہ نگار اخوان کو خطے میں لاقانونیت اور بدنظمی پھیلانے کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور ابھی بھی تونیسیا کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اسے مصر میں 2013 کے حالات سے موازنہ کرتے ہیں۔

متحدہ امارات کی سینئر صحافی امل عبداللہ الہدایتی کی رائے ہے کہ گزشتہ دس سالوں کے درمیان ایک یا دیگر تونیسیائی حکومتیں اخوان کی قیادت میں قائم ہوئیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہ لے پائیں۔ سعودی صحافی عبدالعزیز فلس نے اسکائی نیوز عربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دراصل تونیسیا میں اخوان کے ناکام ہونے کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ درحقیقت بنیادی جمہوری اصولوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں، جس میں کہ ذرائع ابلاغ کی آزادی، عدلیہ کی غیر وابستگی اور معاشی اور سماجی حقوق کو یقینی بنانا شامل ہوتے ہیں۔


ایک دوسرے سعودی صحافی ریحان الراشد کا کہنا ہے کہ انھیں تونیسیا میں اخوان کی حکومت سے بے دخل کیے جانے پر کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ یہ اخوان کا شیوہ ہے کہ جب بھی وہ کسی ملک میں برسرِ اقتدار آئے ہیں تو ان ممالک میں بدنظمی اور غیر قانونی ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، یہی کچھ تونیسیامیں بھی ہو رہا تھا اور درحقیقت صدر سعید نے یہ قدم اٹھاتے ہوئے تونیسیا کو مزید خلفشار کا شکار ہونے سے بچالیا ہے۔ بحرین کے سینئر سیاسی مبصر سلمان الشعیر کے مطابق زیادہ اسلامی جماعتیں چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی صرف اقتدار پر قابض ہوکر اس سے منسلک فوائد حاصل کرنا چاہتی ہیں اور تونیسیا کے واقعات سے ہر عرب ملک کو سبق لینا چاہیے۔

اگر ان تمام عرب بیانات اور ردِ عمل کا غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو یہ ثابت ہوجائے گا کہ یہ تمام ردِ عمل ان عرب ممالک سے آرہے ہیں جہاں پر یا تو بادشاہت قائم ہے یا پھر کوئی آمر حکمراں اور اس کے علاوہ یہ تمام تجزیہ ان مغربی ماہرین کی رائے کے عکاسی کرتے ہیں جو کہ شروع سے ہی اخوان المسلمین کے مخالف رہے ہیں اور اسے اپنے مقاصد اور اصولوں کے خلاف مانتے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی حالت میں یہ نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی ایسی مسلم جماعت کسی بھی اسلامی ملک میں برسرِ اقتدار آئے جو کہ مسلم اصولوں پر قائم ہو اور جسے عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو، کیونکہ انھیں ہمیشہ یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ اگر ایسا کوئی بھی عمل مستقل طور پر رائج ہوگیا تو اس سے مغربی ممالک کو کیا نقصانات ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں ہے۔


اس کے علاوہ ان ممالک کے عوام کا ماننا ہے کہ جہا ں کہیں بھی کوئی ایسی حکومت قائم ہوتی ہے جو کہ اسلامی اقدار کی بات کرتی ہے تو اس کے مؤثر طور پر کام کرنے میں ہزار مشکلات حائل کی جاتی ہیں اور اسے یکسوئی سے اپنے اصولوں پر کام کرنے کا نہ تو موقع ہی دیا جاتا ہے اور نہ ہی وقت کہ وہ کوئی ایسے کام کرسکے جو کہ عوام کے حق میں جاتے ہوں اور ان کی فلاح و بہبود کو تقویت دیتے ہوں۔ اور یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب وہ حکومت یکسوئی سے اپنے منصوبوں اور وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہوسکے لیکن درحقیقت ہوتا یہ ہے کہ ایسی حکومت کو داخلی اور باہری ایسے مسائل میں الجھا دیا جاتا ہے کہ اس کی تمام تر توانائی صرف اپنے اقتدار کو قائم رکھنے میں صرف ہوجاتی ہے اور مغربی میڈیا اسے بھی اس کی ناکامی کی تصویر بناکر اس کے خلاف مہم چلا کر عوامی رائے اس کے خلاف بنانے میں کافی اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ یہ کام وہ اپنے آقاؤں کے اشارے پر کرتا ہے جو کہ تمام ممالک پر اپنا قبضہ قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔