احمدآباد میں ’نمستے ٹرمپ‘ کے بعد ’نمستے کورونا‘ ... اعظم شہاب

اس بار ’من کی بات‘ میں مودی جی نے امید ظاہر کی ہے کہ عید تک کورونا کو شکست سے دوچار کردیا جائے گا۔ وزیراعظم خواب دیکھنے اور بیچنے دونوں کے ماہر ہیں، لیکن بدقسمتی سے حقائق اس کی تردید کرتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

عام حالات میں وزیر اعظم مودی کے پاس بہت سارے کام ہوتے ہیں مثلاً انتخابی تقریریں اور غیر ملکی دورے وغیرہ لیکن کورونا نے ان سب پر پابندی لگا دی ہے۔ اس لیے جب وہ بور ہونے لگتے ہیں تو انہیں اپنے ’من کی بات‘ کرنے کا خیال آجاتا ہے۔ پہلے یہ بات ہر ماہ ہوتی تھی لیکن اب ہفتہ وار ہونے لگی ہے۔ کورونا کی آمد کے بعد چوتھی بار انہوں نے قوم سے خطاب کیا۔ اس سے ایک دن قبل گاؤں کے سرپنچوں کو بھاشن دیا۔ اس سے پہلے وزرائے اعلیٰ سے خطاب کیا۔ اس سے بھی قبل سارک ممالک کے رہنماوں کو مخاطب کیا۔ گویا الفاظ کا ایک سیلاب مسلسل ہے جو کورونا سے بھی زیادہ تیزی پھیل رہا ہے۔ مودی جی اتنا کچھ بول چکے کہ اب نہ انہیں یاد رہتا ہے کہ کیا بول چکے ہیں اور نہ عوام یاد رکھتے ہیں کہ کیا سن چکے ہیں۔ سنتے سنتے لوگ پک چکے ہیں۔ عوام چاہتے ہیں کہ وزیراعظم کوئی ٹھوس کام کریں۔ کورونا کے دوران اور بعد میں آنے والی مصیبتوں کا مقابلہ کرنے کا لائحہ عمل بتائیں۔ لیکن نہ وہ منصوبہ بناتے ہیں اور نہ بتاتے ہیں۔ حزب اختلاف کے رہنما کپل سبل نے ایک دن قبل اس کا مطالبہ کیا تھا لیکن وزیر اعظم مرد ناداں پر زبان نرم نازک والی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

اس بار من کی بات میں مودی جی نے امید ظاہر کی کہ عید تک کورونا کو شکست سے دوچار کر دیا جائے گا۔ وزیراعظم خواب دیکھنے اور خواب بیچنے میں ماہر ہیں، لیکن بدقسمتی سے حقائق اس خیال کی تردید کرتے ہیں۔ ابھی ایک ہفتہ قبل 17 اپریل تک ان کی جنم بھومی ریاست آدرش گجرات کرونا سے متاثرہ ریاستوں کی فہرست میں چھٹے مقام پر تھا، لیکن دو دن قبل 24 اپریل کو وہ دوسرے مقام پر آگیا ہے۔ گجرات کی راجدھانی جہاں مودی جی کا گھر ہے، فی الحال کورونا کا سب سے خطرناک ہاٹ اسپاٹ بن گیا ہے جہاں ہر چار دن کے اندر متاثرین کی تعداد دوگنی ہوجاتی ہے۔ امریکہ اور یوروپ میں بھی مریضوں کی تعداد صرف چار دنوں میں دوگنی ہو رہی ہے۔ پچھلے ہفتے ایسی خبریں بھی آئیں کہ 19 اپریل سے 21 اپریل کے درمیان سرکار نے جانچ کی شرح 4 ہزار 2 سو یومیہ سے گھٹا کر2 ہزار 7 کردی۔ ظاہر ہے کہ جب ٹیسٹ کم ہوں گے تو متاثرین بھی کم ہی ہوں گے۔ لیکن اس سے قبل کہ چھپانے کی یہ کوشش کامیاب ہوتی، احمد آباد کے کمشنر نے بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی۔

ہوایوں کہ احمدآباد کے میونسپل کمشنر وجے نہرا نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ اگر کورونا وائرس کے معاملات میں گزشتہ چار روز سے جاری تشویشناک اضافہ آگے بھی جاری رہا تو وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 15 مئی تک 50 ہزار ہوجائے گی اور مئی کے اواخر تک اس کے 8 لاکھ تک بڑھ جانے کے خدشے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ فی الحال شہر میں 1638 کورونا کے مثبت افراد موجود ہیں۔ یہ تعداد گجرات میں سے سب سے زیادہ ہے اور اب تک 75 مریضوں کی موت بھی ہوچکی ہے جبکہ 105 افراد صحتیاب ہوکر گھر چلے گئے ہیں۔ جملہ 1459 متاثرین زیر علاج ہیں۔ گجرات کا دوسرا بڑا شہر سورت مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور وہاں اگلے ایک ماہ میں کورونا سے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرسکتی۔

یہ وہی احمد آباد ہے جہاں سول اسپتال میں مریضوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر تفریق کے الزامات لگے ہیں۔ 12 اپریل سے پہلے تک اس اسپتال میں کورونا سے متاثرہ ہندو اور مسلمان مریضوں کو ایک ہی وارڈ میں رکھا جا رہا تھا، تاہم اس کے بعد مریضوں کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کرکے علیحدہ علیحدہ وارڈز میں منتقل کردیا گیا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 12 اپریل کی شب وارڈ ’اے فور‘ میں موجود تمام مسلمان مریضوں کو جب وارڈ ’سی فور‘ میں منتقل کیا گیا تو انہیں یقین دہانی کی گئی کہ نئے وارڈ سی فور میں صحت کی بہتر سہولیات میسر ہیں، لیکن انتظامیہ منتقلی کی کوئی تسلی بخش وجہ نہیں بتا سکا۔ احمد آباد سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جی ایچ راتھوڈ نے انڈین ایکسپریس کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایک حکومتی نوٹیفیکیشن کی بنیاد پر مسلمانوں اور ہندووں کے لیے الگ الگ وارڈز بنائے گئے ہیں۔

اس بابت جب حکومت کی بدنامی ہونے لگی تو وزیر صحت کشور کانانی نے اس منتقلی کے لیے ڈاکٹروں کو ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ کاش کہ مودی جی کا ٹوئٹ اس وقت آتا کہ کورونا مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتا۔ تبلیغی جماعت کے مرکز کو بہانہ بنا کر ملک بھر میں نفرت کا ماحول گرم کیا گیا، جبکہ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق مرکز تبلیغ میں گجرات کا ایک بھی فرد موجود نہیں تھا۔ اس طرح اس غبارے کی ہوا بھی نکل جاتی ہے کہ ہندوستان بھر میں کورونا تبلیغی مرکز سے پھیلا۔ جس صوبے میں مرکز کا ایک بھی فرد موجود نہیں تھا وہ آخر دوسرے نمبر پر کیسے پہنچ گیا؟ یہ عجیب اتفاق ہے کہ ٹرمپ کے نیویارک کے بعد مودی کا احمد آباد بھی ہاٹ اسپاٹ بنتا جارہا ہے۔ یہ وہی شہر ہے جہاں ٹرمپ کو ہزاروں لوگوں نے نمستے کہا تھا اور جو مودی جی نے کہلوایا تھا۔ ٹرمپ صاحب تو لوٹ گئے، لیکن کرونا نے اس شہر کو نمستے کہہ دیا۔ کرونا ٹرمپ صاحب سے پہلے احمدآباد پہنچ چکا تھا یا ان کے ساتھ ہی طیارے میں آیا تھا، اس کے بارے میں تو کوئی کچھ بھی نہیں جانتا، لیکن احمداباد و سورت جیسے شہروں کے میونسپل کمشنرس یہ ضرور بتا رہے ہیں کہ آئندہ پندرہ بیس دنوں میں نمستے کورونا کی تعداد 8 کروڑ سے متجاوز ہوسکتی ہے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف گجرات بلکہ پورے ملک کے لیے بہت بڑی تباہی ہوگی۔ لیکن معلوم نہیں کیوں ہمارے پردھان سیوک جی اپنے ’گرہ راجیہ‘ کی اس حالتِ زار سے اپنی آنکھیں کیون موند رہے ہیں۔ نمستے ٹرمپ کے موقع پر غریبوں کی ایک پوری بستی کو اونچی اور طویل دیوار سے چھپایا تو جاسکتا ہے، لیکن نمستے کورونا ہر دیوار سے آزاد ہے۔ پردھان سیوک کو چاہیے کہ وہ اپنے من کی بات سے عوام کے صبر کا مزید امتحان لینے کے بجائے دیش کے عوام کے من کی بھی کچھ سن لیں کیونکہ بھکمری کی دستک اب مزید تیز ہوتی جا رہی ہے۔ یا کم ازکم احمدآباد و سورت کے میونسپل کمشنرس کی ہی کچھ سن لیں کہ جوایک بڑے خطرے کی آمد کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

    Published: 26 Apr 2020, 10:11 PM