حضور! میڈیا کی حرکتوں پر ’از خود نوٹس‘ کب لیا جائے گا؟... اعظم شہاب

میڈیا کے خلاف ملک کو گمراہ کرنے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے جرم میں باقاعدہ مقدمہ درج ہونا چاہیے؟ مگر کیا حکومت وعدالت اس معاملے میں (از خود) نوٹس لینے کی متحمل ہوسکتی ہے؟

تصویر بشکریہ نیوز لانڈری
تصویر بشکریہ نیوز لانڈری
user

اعظم شہاب

کورونا کی وبا کے ابتدائی دور میں جب اس کا پورا ٹھیکرا تبلیغی جماعت کے سر پھوڑا جا رہا تھا، ایک مشراجی نے تو اسے کورونا جہاد تک قرار دے دیا تھا۔ ان کے مطابق تبلیغی جماعت نے ایک منصوبے کے تحت دھماکہ خیز اشیاء کی جگہ پر اب ’مہاماری‘ کا ہتھیار استعمال کر رہی ہے جو چین نے فراہم کیا ہے۔ یہ سن کر بغیر کورونا کے ہی چکر سے آنے لگے تھے کہ مشراجی کو بھی کیا خوب دور کی سوجھی۔ انہیں ہمارے قومی میڈیا نے یہ تو بتا دیا کہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں کورنا مثبت تبلیغی جماعت کے ارکان چھپے ہوئے ہیں مگر یہ نہیں بتایا کہ یہ لوگ اچانک لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہاں پھنس گئے تھے۔ ہاں میڈیا نے ’پھنس جانے‘ کی خبر بھی بتائی، مگر یہ خبر سبری مالا مندر کی تھی۔ یعنی کہ سبری مالا مندر میں لوگ پھنسے ہوئے تھے اور تبلیغی جماعت کے مرکز میں چھپے ہوئے۔

یہ بات کسی ایک مشراجی کی نہیں تھی بلکہ دوبے جی، کپور جی، شرما جی، ٹھاکر جی سب یہی راگ چھیڑے ہوئے تھے۔ لیکن بھلا انہیں یہ کون سمجھائے کہ زمین کے نیچے اور آسمان کے اوپر کی بات کرنے والے ان سیدھے سادے لوگوں کو بلی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ حکومت کو اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے، سڑکوں پر لاکھوں مزدورں کے پیدل اپنے اپنے وطن جانے کی خبروں اور بغیر کسی تیاری کے 21 دن میں کورونا کی جنگ جیتنے کی دعوے پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ کورونا جہاد کا شوشہ چھوڑا گیا تھا، جسے ہماری دیش بھکت میڈیا نے ہر اس شخص تک پہنچانے کی کوشش کی جو پروچن کی جگہ پر حکومت سے ٹھوس اقدام کی توقع کر رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ جہاد کا نام ہی ہمارے دیش کے تمام دکھ کو ’ہرن‘ کر لیتا ہے تو کورونا کیا چیز تھی۔ سو یہی ہوا کہ پورا ملک کورونا کا تعلق تبلیغی جماعت سے جوڑنے لگا اور ایک ایسا ماحول بن گیا جس میں تبلیغی جماعت کے نام پر مسلمانوں سے نفرت کا بھرپور کاروبار ہوا۔

بہرحال اب یہ بات عدالتی سطح پر تسلیم کی جاچکی ہے کہ تبلیغی جماعت کے خلاف کورونا کے حوالے سے چلائی جانے والی مہم اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے تھی۔ بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے گزشتہ روز تبلیغی جماعت کے 29 غیرملکی کارکنان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرتے ہوئے ان کے خلاف عائد تمام الزامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ حکومتوں کو ایسی صورت میں کسی بلی کے بکرے کی ضرورت ہوتی ہے جب انہیں کسی مشکلات کا سامنا ہو۔ تبلیغی جماعت کے ارکان کو بلی کا بکرا بنایا گیا ہے اور میڈیا میں ان کے خلاف پروپگنڈہ چلایا گیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ ظاہر ہے کہ مرکزی حکومت اور ہمارے قومی میڈیا کی پالیسیوں کے خلاف ہے، اس لیے نہ تو الاماشاء اللہ ہمارے قومی میڈیا میں کوئی بحث ومباحثہ ہوگا اور نہ ہی وہ’میڈیا یودھا‘ کہیں نظر آئیں گے جو اس وبا کی تان تبلیغی جماعت کے حوالے سے مسلمانوں پر توڑتے ہوئے نہیں تھکتے تھے۔ لیکن یہ عدالتی فیصلہ بہرحال اس موقف کی تائید کے لیے کافی ہے کہ میڈیا نے اس معاملے میں تعصبانہ رویہ اختیار کیا تھا اور یہ منصوبہ بند تھا۔

پرشانت بھوشن کے ٹوئٹ پر ہماری عدالت عظمیٰ بذات خود توجہ دیتے ہوئے انہیں مجرم قرار دے چکی ہے۔ ہمارے فاضل ججوں کا اس معاملے میں موقف یہ ہے کہ اس سے عدالت کا وقار مجروح ہوا ہے جو توہین عدالت ہے۔ جبکہ ملک کا ہرقانونی ماہر اس فیصلے کو غلط قرار دے رہا ہے۔ تو ایسے میں یہ سوال پید ا ہوتا ہے کہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے تبلیغی جماعت کو بلی کا بکرا بنانے والے اور اس پروپیگنڈہ کو چلانے والا میڈیا کیا عدالتی توہین کی مرتکب نہیں ہوا ہے؟ ایسی صورت میں تو میڈیا کے خلاف ملک کو گمراہ کرنے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے جرم میں باقاعدہ مقدمہ درج ہونا چاہیے؟ مگر کیا حکومت وعدالت اس معاملے میں سوموٹو لینے کی متحمل ہوسکتی ہے؟

یہی نہیں بلکہ اب ایک نیا شوشہ سامنے آیا ہے او ر میڈیا اس معاملے میں وہی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے جو اس کی منافرت کی پالیسی کے مطابق ہے۔ دہلی سے آئی ایس آئی ایس سے تعلق کے الزام میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کے حوالے سے ہندوستان میں دہشت گردی کا ایک نیا ماڈیول پیش کیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس ماڈیول میں کسی نہ کسی طور پر مسلمانوں کی پشت پناہی کو ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جبکہ ملک کے وزیر داخلہ تک اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ملک میں آئی ایس آئی ایس کا کوئی ماڈیول موجود نہیں ہے۔ اور ویسے بھی ایک مرچکی کالعدم تنظیم سے بھلا کون بیوقوف ہے جو اپنے آپ کو جوڑنے کی کوشش کرے گا یا اس کے لیے کام کرے گا؟ کیا یہ اس مفروضے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش نہیں ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ دہشت گردی میں ابھی بھی ملوث ہے؟ میڈیا میں ان گرفتار شدگان کو دہشت گرد قرار دیا جاچکا ہے جبکہ ابھی تک ان کا معاملہ عدالت تک پہنچا بھی نہیں؟ کیا ایسی صورت میں میڈیا پر کوئی اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر ہوتی ہے تو پھر عدالت سے ہمارا ایک حقیر سا سوال ہے کہ حضور! میڈیا کی ان حرکتوں پر سوموٹو کب لیا جائے گا؟

Published: 23 Aug 2020, 8:09 PM
next