کیوں نہ کہوں: اردوآن صاحب قوم پرستی کی افیم دینا بند کیجیے... سید خرم رضا

اردوآن صاحب اپنے سیاسی مفادات اور وقتی مقبولیت کے لئے معصوم لوگوں کو قوم پرستی کی افیم دینا بند کیجیے۔ مسجدوں کی تعداد میں اضافہ کے بجائے ان میں جانے والوں کو اچھا اور خوشحال انسان بنانے پر توجہ دیجئے

ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوآن
ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوآن
user

سید خرم رضا

گزشتہ ایک ماہ کے اندر انقلاب برپا ہو گیا ہے، مسلمانوں کی عزت میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے، اب محسوس ہی نہیں ہو رہا کہ مسلمانوں کے کبھی برے دن بھی تھے یا ان کو حقیر نظروں سے بھی دیکھا جاتا تھا۔ اس کا سہرا اگر کسی کے سر جاتا ہے تو وہ ہیں ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن۔ انہوں نے گزشتہ ماہ استنبول کے اس آیا صوفیہ میوزیم کو عدالتی حکم کے بعد واپس مسجد میں تبدیل کر دیا تھا، جس کو مصطفی کمال اتاترک یعنی بابائے ترک نے مسجد سے میوزیم میں تبدیل کیا تھا۔

اس قدم کی زبردست پذیرائی اور عالمی مقبولیت کے بعد طیب اردوآن نے اب ایک اور ہزار سال پرانے بازنطینی چرچ جس کو پہلی جنگ عظیم کے بعد میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا، اس کو بھی ایک گزٹ نوٹیفیکیشن کے ذریعہ دوبارہ مسجد میں تبدیل کر دیا ہے۔ آیا صوفیہ ہو یا استنبول کا یہ کیریا میوزیم ان کی تاریخ تقریباً ایک ہی ہے۔ دونوں پہلے چرچ تھے پھر یہ مسجد میں تبدیل ہوئے اور اس کے بعد پہلی جنگ عظیم کے بعد ان کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا اور اب ایک مہینے کے اندر رجب طیب اردوآن کے دور حکومت میں پھر سے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔


آیا صوفیہ کے مسجد میں تبدیلی کے ایک ماہ بعد ہی اس دوسرے میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پچھلے قدم سے رجب طیب اردوآن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، مسلمانوں کی عزت میں اضافہ ہوا ہے اور ترکی عوام کے تمام مسائل حل ہو گئے ہیں۔ رجب طیب اردوآن کو ایک خاص طبقہ میں ایسے اقدام سے ضرور مقبولیت حاصل ہوئی ہو، لیکن پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ یوروپی ممالک میں جہاں کی نوتعمیر شدہ مساجد کی تصاویر ہم شئیر کرتے ہیں اور ہم یہ بتانے میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ اس جماعت میں فلاں صاحب برطانیہ سے ہیں اور فلاں صاحب جرمنی سے ہیں، ہم وہاں کی کھلی سوچ اور خیالات کو اپنے ممالک میں مثال کی طرح پیش کرتے ہیں۔ اب ایسا سب کچھ کرنے سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا ہوگا اور شائد اس وقت ہمیں اپنے گریبان کی جانب دیکھنے کی بھی ہمت نہ ہو۔

پوری دنیا میں میں چل رہی قوم پرستی کی ہوا حکمرانوں کے لئے تریاق کا کا م کر رہی ہے۔ حکومتیں جو عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ نہیں کر رہیں یا کرنے کے لئے اہل نہیں ہیں وہ تمام حکومتیں عوام کو قوم پرستی کی افیم کھلا رہی ہیں۔ ترکی کا حال بھی یہی ہے۔ ترکی کے صدر اردوآن کی مقبولیت میں زبردست زوال نظر آ رہا ہے، ترکی کی معیشت کا برا حال ہے، گزشتہ ڈیڑھ سال میں اردوآن کو کئی انتخابات میں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، یہ وہ ساری وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اچانک طیب اردوآن کو آیا صوفیہ اور دوسرے میوزیم یاد آ رہے ہیں۔


تاریخ گواہ ہے کہ جو بھی حکمراں مسائل کو حل کرنے کے بجائے قوم پرستی یا مذہب کی افیم کھلانے کی کوشش کرتا ہے اس کے ان اقدام کا نقصان آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے اور پاکستان اس کی مثال ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں خاص طور سے مرحوم جرنل ضیاءالحق کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ضیاءالحق کی قوم پرستی کی افیم کا نقصان آج تک پاکستان بھگت رہا ہے۔ ضیاء الحق نے بھی جمعہ کی سرکاری تعطیل، بلا سودی نظام، شرعی نظام وغیرہ کا اس قدر ڈھنڈورا پیٹا تھا کہ اس وقت تو عوام ان کی دیوانی ہوگئی تھی لیکن بعد میں ہر گھر میں بندوق پہنچ گئی تھی اور سب خود کو صحیح اور دوسرے کو غلط قرار دے کر مارنے کے لئے تیار رہتے تھے۔

اردوآن صاحب عوامی مسائل حل کیجیے اور جب عوام معاشی طور پر مستحکم ہوگی اور تعلیمی اعتبار سے اعلی ہوگی، تبھی مسلمانوں کو پوری دنیا میں عزت ملے گی۔ چرچ سے مسجد اور میوزیم سے مسجد کا کھیل بند کیجیے، اس سے پورے دنیا کے مسلمانوں کے لئے پریشانیاں ہی کھڑی ہوں گی۔ اگر واقعی دنیا اور مسلمانوں کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ترکی کو معاشی اور تعلیمی طور پر مضبوط کیجیے، نہیں تو تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اپنے سیاسی مفادات اور وقتی مقبولیت کے لئے معصوم لوگوں کو قوم پرستی کی افیم دینا بند کیجیے۔ مسجد کی تعداد میں اضافہ نہ کیجیے، جو ہیں ان میں جانے والوں کو اچھا اور خوشحال انسان بنانے پر توجہ دیجئے۔ دل کشادہ کیجیے ایسا کرنے سے ہی آپ دوسروں کے دل میں جگہ بنا سکتےہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 23 Aug 2020, 6:07 PM