گجرات کے اسپتال میں مریضوں کے’ یقین‘ کا قتل... نواب علی اختر

کیا حادثہ پر صرف دُکھ کا اظہار کرنے اور معاوضہ کا اعلان کرد ینے سے مہلوکین اور ان کے کنبے کو ہونے والے نقصانات کی بھر پا ئی ہو سکتی ہے؟

تصویر نواب اختر
تصویر نواب اختر
user

نواب علی اختر

وزیراعظم نریندرمودی کے آبائی صوبہ گجرات کی راجدھانی احمد آباد کے ایک کووڈ اسپتال میں گزشتہ ماہ آگ لگنے سے 8 مریضوں کی درد نا ک موت جتنی تکلیف دہ ہے اس سے زیادہ شرمنا ک ہے۔ اسپتال مینجمنٹ کی لاپرواہی کورونا وباء کے موجودہ دور میں جن اسپتالوں کو سب سے زیادہ احتیاط، ہوشیاری اور سلیقے مندی کی جگہ کے طور پر دیکھا جاتا تھا وہاں بھی اس طرح کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں، تو اسے کیا کہا جاسکتا ہے؟

احمد آباد کے نورنگ پورا میں واقع اسپتال کے آئی سی یو میں آگ لگی اور وہ پورے اسپتال میں پھیلتی چلی گئی۔ رات میں اس وقت عام طور پر لوگ نیند میں ہوتے ہیں اور اچانک کسی حادثے کی صورت میں اپنے بچاؤ کی پوری کوشش بھی نہیں کرپاتے یہی وجہ ہے کہ 8 لوگوں کی جان چلی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اسپتال میں آگ بجھانے کے معقول انتظام نہیں تھے حالانکہ بعد میں فائر بریگیڈ کے دستے نے آگ پر قابو پا لیا اس کے باوجود یہ افسوسنا ک ہے کہ جس اسپتال میں یہ حادثہ ہوا وہ خاص طور سے کووڈ-19 کے مریضوں کے علاج کے لئے تیار کیا گیا تھا۔

ظا ہر ہے جب خصوصی انتظام اور تحفظ کے باوجود اسپتال میں لاپرواہی کا یہ عالم ہے تو اور کہاں سے امید کی جا سکتی ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں اگر ایسی لاپرواہی کے ساتھ اسپتال چل رہے ہیں تو چھوٹے شہروں اور قصبوں کے اسپتالوں میں کتنی لا پرواہی ہوسکتی ہے۔ اس کا اندازہ آسانی سے لگا یا جا سکتا ہے۔ کووڈ جیسی ہولناک وبا کے لیے مقرر اسپتالوں میں تو چھوٹی موٹی لا پرواہی کی بھی گنجائش نہیں رہنی چا ہیے۔ جب کوئی مریض علاج کے لیے اسپتال پہنچتا ہے تو وہ خود کو ڈاکٹروں اور اسپتال کے ذمہ داروں کو سونپ دیتا ہے، اسے اسپتال پر یقین ہوتا ہے، اگر اس یقین کا قتل ہوجاتا ہے تو اس کا اثر پورے محکمہ صحت پر پڑھتا ہے۔

گجرات کی بی جے پی حکومت نے ایک روایتی انداز میں معاملے کی جانچ کرانے اور حادثے میں جان گنوانے والوں کے کنبوں اور زخمیوں کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے بھی اپنی آبائی ریاست میں ہوئی اموات پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ مگر کیا حادثہ پر صرف دکھ کا اظہار کرنے اور معاوضہ کا اعلان کردینے سے مہلوکین اور ان کے کنبے کو ہونے والے نقصانات کی بھرپائی ہوسکتی ہے؟ سوال یہ ہے کہ ایسا کسی بڑے اور جان لیوا حادثے کے بعد ہی متعلقہ محکموں کی سرگرمیاں کیوں نظر آتی ہیں۔

گزشتہ سال مئی مہینے میں گجرات کے ہی سورت کے ایک کو چنگ سینٹر میں آگ لگنے سے 22 طلباء جل کر ہلاک ہو گئے تھے تب ایسے حادثوں کو روکنے کے لئے انتظام کرنے کو لے کر بڑی بڑی با تیں کہی گئی تھیں مگر ایسا لگتا ہے کہ اس حادثے کو بھلا دیا گیا ہے۔ ویسے بھی اسپتال میں اگر نظام سے متعلق ہر چیز کی بر وقت جانچ کرلی جائے اور اس میں آئی خرابیوں کو درست کرلیا جائے تو اس طرح کے حادثوں سے بچا جا سکتا ہے لیکن ملک کے اسپتالوں میں اس طرح آگ لگنے کے واقعات بار بار سامنے آنے کے باوجود باقی مقامات پر کوئی سبق نہیں لیا جاتا اور ضروری احتیاط نہیں برتی جاتی۔

احمد آباد میں کووڈ کے مریضوں کے علاج کے لیے خاص طور سے مخصوص اس اسپتال میں آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جارہی ہے۔ عام طور پر کثیر منزلہ عمارتوں میں شارٹ سرکٹ کو ہی آگ لگنے کی وجہ بتائی جاتی ہے۔ مگر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ وقت رہتے ایسے طریقے نہیں اپنائے جاتے جس سے شارٹ سرکٹ نہ ہو اور آگ لگنے جیسے حادثے سے بچا جا سکے۔ اب اس سے بڑی بات کیا ہو سکتی ہے کہ لوگ جن اسپتالوں میں اپنی جان بچانے کی امید میں جاتے ہیں وہاں کئی مرتبہ جان لیوا حادثے ان کا پہلے سے ہی انتظار کر ر ہے ہوتے ہیں۔

عام طور پر ایسے سبھی معاملات میں اسپتال مینجمنٹ کی لاپرواہی کا خمیازہ اسپتال آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسا شاید ہی کبھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ حکومت کی طرف سے سبھی اسپتالوں کے مینجمنٹ پر باقاعدہ نگرانی کو ایک ڈیوٹی کی طرح انجام دیا جائے تا کہ ہر سطح پر چو کسی برتنے اور گڑبڑیوں کو وقت پر درست کرنے کا دباﺅ بنا رہے۔ بس ایک ضابطہ ایک رہنما ہدایت جاری کردی جاتی ہے لیکن اس پر کتنا عمل ہوتا ہے کیا اس پر نگرانی کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسپتالوں میں آگ لگنے اور لوگوں کے مارے جانے کے واقعات بار بار سامنے آتے رہتے ہیں۔

Published: 10 Sep 2020, 7:11 PM
next