کربلا تاریخ کا انقلاب آفریں واقعہ... نواب علی اختر

انسانی تاریخ میں کیا کوئی ایسا واقعہ ہے جس میں ظلم کا اس طرح بازار گرم کیا گیا ہو؟ ظلم کی انتہا کرب وبلا ہے، جہاں انسانیت کانپ اٹھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی تہذیب و تمدن اس عظیم قربانی سے متاثر ہوا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

انسانی تاریخ کے سیل رواں میں حق وباطل کے درمیان بے شمار واقعات کا ایک طویل سلسلہ ملتا ہے،کتنے واقعات غبار وقت کی گرد میں گم ہوکر رہ گئے ، زمانہ ایسے تاریخی واقعات کو کبھی نہ بھلا سکا جو اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے۔ سانحہ کربلا انسانی تاریخ کا ایسا ہی انقلاب آفریں تاریخی اور آفاقی واقعہ ہے ، جس کی نظیر تاقیامت نہ مل سکے گی۔ یوں تو خلقت آدم سے قربان گاہ راہ عشق میں انبیاء کرام اور صالحین خدا کے ذریعہ امتحان وقربانیوں کی عملی شہادتیں پیش کی جاتی رہی ہیں ، مگر مورخ زمانہ سید الشہداء امام حسین ؑ جیسا عظیم کردار پیش نہ کرسکا۔ عقل حیران ہے کہ اب سے1400سال پہلے سن 680 میں کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں نواسہ رسول نے اپنے بہتر ساتھیوں کے ہمراہ جوقربانی پیش کی تھی، وہ کتنی عظیم تھی کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی اس واقعہ کی یاداسی طرح تازہ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے ذاتی غموں کو وقت کے ساتھ بھول جاتا ہے، اس کی یاد کو زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رکھ پاتا، اسے صبر آہی جاتا ہے، مگر خون شہید ان راہ حق کی تاثیر کچھ اور ہی ہے، یہ دستور قدرت ہے کہ وہ اپنی راہ میں ہوئے شہیدوں کے ذکر کو معراج عطا کرتی ہے۔

محرم ہرسال آتا ہے اور دنیامیں مختلف تہذیبوں وتمدن کے اقوام انسانیت کے اس عظیم اور لافانی کردار کو اپنے طریقہ سے نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں جس سے انسانی شعور کی بیداری، اصول پسندی اور حق شناسی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ ریگزار کربلا پریہ خونی انقلاب جس نے اپنے دور کے بدعنوان وباطل قوتوں کے مظہر یزید کے ایوانوں میں انقلا ب برپا کردیا اور مردہ ضمیر انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ بظاہر واقعہ جنگ صبح عاشورہ سے شروع ہو کر عصر تنگ ہونے تک چند پہروں کا واقعہ تھا مگریہ اپنے دامن میں اصول، حق وصداقت، عدل وانصاف اور اقدار انسانیت کے تحفظ کی راہ میں فدا کاری ایثار وقربانی ،صبر و تحمل اورمعراج شہادت کے ایسے آفاقی اثرات چھوڑ گیا جس کی مثال تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔

حسینؑ جس نے آغوش ختم المرتبت حضرت محمد میں آنکھیں کھولی ہوں ، سیدہ عالم حضرت فاطمہ ؑ کی گود میں پرورش پائی ہواور فاتح اسلام شیرخدا علی ؑ ابن ابی طالب جیسے عظیم باپ کا خون جس کی رگوں میں دوڑرہا ہو، وہ بھلاایک فاسق وفاجر ، دشمن اسلام وانسانیت کے مطالبہ بیعت کو کیوں کر قبول کرتا۔ امام حسین ؑ جنھوںنے اپنے نانا کے دین کے تحفظ وبقا انسانیت کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا، آبروئے وفا عباس جیسا بھائی فدا کردیا،اپنا کڑیل جوان اکبر بھی دے دیا۔ اپنے بھائی حسن ؑ کی نشانی قاسم کا فدیہ بھی پیش کیا، بہن زینب ؑ کے بچے عون ومحمد بھی قربان کردیئے۔ یہاں تک کہ چھ مہینہ کا شیر خوار ننھا اصغر کا فدیہ بھی پیش کردیا، اپنے عزیزترین اصحاب واقربا ء کی قربانی پیش کردی اور اپنا سر اقدس بھی کٹا دیا، حسینؑ جس نے یہ توگوارہ کیا کہ بعد عاشورہ ان کے اہل حرم قید ہوں، خیام حسینی میں آگ لگا دی جائے ، اہل حرم کو اسیر بنایا جائے اور دربار یزید میں قیدی بنا کر لایا جائے مگر کسی طرح دین محمد بچ جائے۔

انسانی تاریخ میں کیا کوئی ایسا واقعہ ہے جس میں ظلم وستم کا اس طرح بازار گرم کیا گیا ہو؟ ظلم کی انتہا کرب وبلا ہے، جہاں انسانیت کا نپ اٹھتی ہے، یہی سبب ہے کہ عالمی تہذیب و تمدن اس عظیم قربانی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ مورخ زمانہ، رہنمائے قوم وملت، مفکر وشاعر، دانشور حضرات اورمختلف طبقہ فکر کے عوام ہر زمانہ میں اس واقعہ سے متاثر ہوتے رہے ہیں اور انھوںنے انسانیت کے اس عظیم ہیروکوخراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ہندوستان کی جنگ آزادی کے قائد مہاتما گاندھی امام حسین ؑ کو ایک عظیم آئیڈیل تسلیم کرتے ہیں، ایک جگہ وہ انسانیت کے اس عظیم شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:

”حسین ؑ اور ان کی مختصر ساتھوں پر مشتمل جماعت نے ظلم اور بے انصافی کے سامنے سرنہیں جھکایا، اس وقت وہ جانتے تھے کہ انہیں موت ہی کا سامنا کرنا پڑے گا، اگر وہ سرجھکا دیتے تو انسانیت بھی رسوا ہوجاتی ، ان کا مذہب اور عقیدہ بھی رسوا ہوجاتا ، اس لیے انھوں نے موت کا استقبال کیا، حسین ؑ نے اپنی گود میں اپنے بیٹے اور بھتیجہ کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھا، ان کے ساتھیوں نے تشنگی کو ترجیح دی لیکن جس نظام کو وہ بے انصافی اور ظلم قرار دیتے تھے، اس کے سامنے سر نہیں جھکا یا، میرا یقین ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں اپنے(ایسے ہی) درویشوں کی قربانیوں سے پھیلا ہے“۔

مفکراسلام علامہ اقبالؒ نے جو مقام اور منزلت حسین ؑ کو حقیقت ابدی سے تعبیر کرتے ہیں انھوں نے ایک جگہ اس طرح خراج عقیدت پیش کیا ہے:”امام حسین ؑ نے ظلم وجور کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیا، ان کے خون وشہادت سے جنگل کے دامن میں ایک نیا گلستاں بن گیا وہ حق کی حفاظت کے لئے خاک وخون میں لوٹے اور کلمہ’ ’لاالٰہ الا اللہ‘ ‘ کی بنیاد بن گئے۔ اگر اقتدار کو حاصل کرنا امام کا مقصد ہوتا تو وہ اس قدربے سروسامان نہ رہتے۔ ان کے دشمنوں کی تعداد اگر چہ ریت کے ذرّوں کی طرح بے گنتی اور بے شمار تھی، لیکن خود ان کے ساتھیوں کی تعداد صرف بہتر تھی، جوابجد کے قاعدے سے لفظ ”یزداں“ کے برابر ہے، امام حسین ؑ کی قربانی سے ابراہیم ؑ واسماعیل ؑ کی قربانی کے اسرار بھی منکشف ہوتے ہیں۔ جس نے ابراہیم اوراسماعیل کے دین کو بھی چار چاند لگا دیئے۔ ان کا ارادہ چٹان کی طرح مضبوط واٹل تھا۔ ان کی تلوار صرف اس لئے اٹھی تھی کہ وہ خدا کے دین کی حفاظت کرے، مسلمان صرف اللہ کی اطاعت کرتا ہے، اس کا سر کسی بھی ظالم کے روبرو کبھی نہیں جھکتا۔ اسلام کا یہ راز امام حسین ؑ ہی نے اپنے لہو سے افشاء اور آشکار کیا ہے اور انھوں نے امت مسلمہ کو خواب غفلت سے چونکا دیا“۔

کربلا کے میدان میں امام حسین ؑ نے اطمینان نفس کے ساتھ راہ حق میں جو عظیم قربانی پیش کی وہ آج عصر حاضر سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان آئیڈیل کرداروں کی تاسی کرتے ہوئے اخلاق وکردار کو سنوارا جائے ، زمانہ کے یزیدی صفت ظالموں اوربدعنوان درندوں سے مظلومیت کو آزادی دلاکرعدل وانصاف کی راہیں استوار کی جائیں، محسن انسانیت ، سیدالشہدا حضرت امام حسین ؑ کی بارگاہ میں صحیح خراج عقیدت ان کے اعلیٰ مقصد کی بقاء اوراس کا تحفظ ہے اگر ہم اس راہ میں ناکام ہیں تو انقلا ب کربلا کا حسین کل بھی مظلوم تھا اور آج بھی۔

next