مہاراشٹر: کورونا یگ میں کرسی ہتھیانے کے لئے بی جے پی کے حربے... اعظم شہاب

ریاستی بی جے پی پر درجنوں فرد جرم عائد ہوتے ہیں کہ اس نے محض اپنے سیاسی فائدے کے لیے، اپنے اقتدار کے لالچ میں نہ صرف ریاستی مفاد بلکہ ریاست کے عوام کے ساتھ بھی دھوکہ کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

مہاراشٹر میں اگر بی جے پی کی جلد ازجلد اقتدار میں واپسی نہیں ہوئی تو خدشہ ہے کہ اس کے کچھ لیڈران سورگ ہی نہ سدھار جائیں۔ کیونکہ گزشتہ چند دنوں سے انہوں نے ریاست میں جو اٹھا پٹخ مچائی ہوئی ہے، جو سیاسی ڈرامہ شروع کیا ہے ریاستی حکومت کے خلاف علانیہ عدم تعان کی جس مہم کا آغاز کیا ہے، وہ ان کی بے چینی، اقتدار کے لیے ان کی ہوس اور بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتی ہے اور جن کی ناکامی کی صورت میں کسی بھی ناگہانی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اوپر والا ہمارے بی جے پی کے ان سورماؤں کو اپنی ’سرکشا‘ میں رکھے اورانہیں ’دِرگھ آیو‘ دے لیکن اگر بالفرض اگر کہیں کچھ اونچ نیچ ہوجاتی ہے تو بھلے ہی ریاستی اقتدار میں کوئی تبدیلی آئے نہ آئے، مگر یقین جانیے ریاست کے عوام کچھ ’مہاپورشوں‘ کے اتلاف کے ساتھ اس سیاسی تفریح سے بھی محروم ہوجائے گیں جو مہاراشٹر سے لے کر دہلی تک دیکھی جارہی ہے۔

مہاراشٹر بی جے پی نے ریاستی حکومت کے خلاف ’مہاراشٹر بچاؤ‘ نامی مہم شرع کرتے ہوئے ممبئی میں اپنے ریاستی دفتر کے قریب جمعہ کو احتجاج کیا جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ ڈھائی لاکھ کارکنوں نے شرکت کی۔ لیکن تھوڑی دیر بعد اس کو اپنے اس دعوے میں غالباً کچھ سقم محسوس ہوا کہ ایک گھنٹے بعد اس نے ایک دوسری پریس ریلیز جاری کرکے یہ تصحیح کی کہ اس احتجاج میں ڈھائی لاکھ کارکنان نہیں بلکہ ڈھائی لاکھ خاندانوں نے شرکت کی۔ اب بھلا بی جے پی والوں کو کون سمجھائے کہ جہاں انہوں نے احتجاج کیا تھا وہ جگہ ایک ہزار افراد کی موجودگی میں ہی تنگئی داماں کی شکایت کرنے لگے گی۔ پھر ڈھائی لاکھ خاندانوں کی شرکت کیونکر ہوسکتی ہے؟ خیر ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ تعداد اصل میں کتنی تھی اور بی جے پی کے کن کن سورماؤں نے اس سے خود کو علیحدہ رکھا، لیکن یہ ضرور ہے کہ اس احتجاج کے بعد سے ہی ٹوئیٹر پر ملکی سطح پر ایک ہیش ٹیگ اول نمبر پر ٹرینڈ کرنے لگا تھا، جس کا نام تھا ’مہاراشٹر دروہ بی جے پی‘ کورونا کے اس بحران کے دور میں ریاستی حکومت کے ساتھ پوری ریاستی مشینری اس وبا کے روک تھام میں مصروف ہے۔

مہاجرمزدوروں کا بھی مسئلہ درپیش ہے۔ ایسے میں بی جے پی کی یہ مہم ریاست میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک کوشش کے علاوہ کیا ہوسکتی ہے۔ یہ مہم ایسی صورت میں تو اور بھی بے معنی ہوجاتی ہے جب خود بی جے پی کو بھی اندازہ ہو کہ ریاست کی عوام نہایت مضبوطی کے ساتھ ادھو ٹھاکرے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ بی جے پی نے ریاست کے تحفظ کے لیے یہ مہم شروع کی ہے، ایسا ہی ہے جیسے یہ کہاجائے کہ مودی جی نے غریبوں کے لیے 20لاکھ کروڑ روپئے دیئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ’مہاراشٹر دروہ بی جے پی‘ کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے کے ساتھ ہی ریاست بھر سے اس پر تنقیدیں شروع ہوگئیں۔ وزیر محصول بالاصاحب تھورات نے بی جے پی کی اس مہم کو مہاراشٹر بچاؤ نہیں بلکہ بی جے پی بچاؤ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی اس مہم کے ذریعے اپنے وجود کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔

اس معاملے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی لیڈران کا زیادہ تر وقت ریاست کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے یہاں گزرتا ہے۔ بی جے پی کے تمام اہم لیڈران ریاستی حکومت کو غیرمستحکم کرنے کے لیے اپنے اپنے طور پر بساط بچھا رہے ہیں۔ لیکن ان بیچاروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ مودی جی نے گزشتہ 6 سالوں میں اپنے ’من کی بات‘ سے اپنی مقبولیت میں جتنا اضافہ نہیں کیا ہوگا، اس سے زیادہ مقبولیت محض 6ماہ میں اپنے عوامی کاموں سے ادھو ٹھاکرے نے حاصل کرلی ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ریاست کے بہت سے بی جے پی کے لیڈران بھی ادھوٹھاکرے کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بی جے پی کے لوگ اپنا جتنا وقت ’مہامہم‘ کوشیاری صاحب کے یہاں گزار رہے ہیں، اس کا عشر عشیر بھی اگر وہ اپنے اپنے حلقہ اسمبلی میں گزارتے تو بہت ممکن ہے کہ کورونا کی روک تھام میں کچھ ریاستی حکومت کو بھی مدد ہوجاتی۔ لیکن ان سب کو چھوڑ کر فڑنویس سے لے کر چندرکانت پاٹل تک اور آشیش شیلار سے لے کر رام کدم تک سبھی راج بھون میں ہی نظر آتے ہیں۔ معلوم نہیں کوشیاری صاحب اس بار کون سی ہوشیاری دکھانے والے ہیں۔

’مہاراشٹر بچاو‘ مہم چلانے والی بی جے پی کی اگر واقعتاً مہاراشٹر سے محبت دیکھی جائے تو اس بات کی ضرورت محسوس ہوگی اب مہاراشٹر کی عوام کو ریاست کو بی جے پی سے بچانے کی مہم شروع کرنی چاہیے۔ کیونکہ بی جے پی نے اپنے پورے دورِ اقتدار میں مہاراشٹر کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ آئی ایف سی یعنی کہ انٹرنیشنل فائنانشیل سروس سینٹر جو ممبئی میں قائم ہونے والا تھا، اسے انہیں بی جے پی والوں نے ممبئی سے گجرات میں منتقل کرایا۔ ہونا تو چاہیے تھا کہ بی جے پی کے لیڈران اسے ممبئی رکھنے کے لیے کوشش کرتے، لیکن پوری پارٹی نے مل کر مودی جی کی ایماء پر اسے بڑے احترام کے ساتھ گجرات روانہ کردیا۔ مہاراشٹر کے جی ایس ٹی کا 16کروڑ روپیہ مرکزی حکومت کے پاس باقی ہے۔ ریاستی حکومت بار بار اس پیسے کو ادا کرنے کا مطالبہ کرتی رہتی ہے۔

کورونا کے بحران سے نمٹنے میں فنڈ کی کمی کے باعث اس مطالبے میں مزید شدت آگئی ہے۔ لیکن ریاستی بی جے پی کی جانب سے ایک بار بھی ریاستی حکومت کے اس مطالبے کی حمایت نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ دیویندرفڑنویس سے لے کر بی جے پی کے معمولی درجے کے کارپوریٹر تک نے کورونا بحران سے نمٹنے کے لیے امدادی فنڈ بجائے وزیراعلیٰ کے راحتی فنڈ میں جمع کرنے کے پی ایم کیئر میں جمع کروایا۔ ایسے درجنوں فرد جرم ہیں جو ریاستی بی جے پی پر عائد ہوتے ہیں کہ اس نے محض اپنے سیاسی فائدے کے لیے، اپنے اقتدار کے لالچ میں نہ صرف ریاستی مفاد بلکہ ریاست کے عوام کے ساتھ بھی دھوکہ دیا ہے۔ ایسی صورت میں بی جے پی کا ’مہاراشٹر بچاؤ‘ مہم دراصل ’بی جے پی بچاؤ‘ مہم ہے اور جس کی اصلیت سے ریاست کی عوام بہت اچھی طرح واقف ہے۔