کرناٹک: مذہبی منافرت اور سیاسی بازی گری... اعظم شہاب

مذہبی جنون کی آگ بھڑکانے والے اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کی زد میں صرف حجاب یا حلال والے ہی آئیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

اعظم شہاب

گاؤں کے سردار کو جب گاؤں پر اپنی پکڑ کچھ کمزور محسوس ہونے لگی تو اس نے لوگوں کوکوہِ قاف کی طلسماتی کہانیاں سنانی شروع کردیں۔لوگ کہانیاں سننے میں کچھ ایسے کھوئے کہ سردار کی مخالفت بھول گئے۔ کچھ دن بعد جب پھر کچھ بھنبھناہٹ محسوس ہوئی تو اس نے دوسری کہانی سنادی۔کچھ دنوں بعد تیسری اورپھرچوتھی...اس طرح کہانیوں کا ایک سلسلہ چل پڑا کیونکہ سردار کواپنے مخالفین کورام کرلینے کا ہنر آگیا تھا۔ اسے معلوم ہوگیا تھا کہ لوگ کہانیوں میں کچھ اس طرح کھوجاتے ہیں کہ اپنے پیٹ کا پتھر تک بھول جاتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ اس کے سامنے مشکل یہ تھی کہ لوگ اب ہمیشہ نئی نئی کہانیوں کی فرمائشیں کرنے لگے تھے اور اس سے زیادہ مشکل یہ تھی کہ نئی کہانیوں کا اس کا اسٹاک کم ہوتا جارہا تھا اوران سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ کہانیاں سننے کے بعد بھی کچھ لوگ اس کے جھوٹا ہونے کا برملا اظہار بھی کرنے لگے تھے۔

خبر یہ ہے کہ کرناٹک میں اب مسلم ڈرائیوروں اور حلال سرٹیفکیشن والے آئس کریم کے بائیکاٹ کی بھی اپیل شروع ہوچکی ہے۔اسی کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں حجاب کے خلاف اسی طرح کی کہانی اس وقت شروع ہوئی تھی جب اترپردیش میں کمل کے اعصاب پر بکھراؤ کا خوف سوار تھا۔ لوگ باگ اس کہانی کو سن کو تھوڑی دیر کے لئے مبہوت سے ہوگئے تھے۔ لیکن اس سے پہلے کہ لوگ اس کی حقیقت تک پہنچ پاتے، اترپردیش میں کمل کھل چکا تھا۔ سردار کو معلوم ہوا کہ یہ داؤ تو بہت کارگر ہے سو اس نے نئی نئی کہانیوں کی تلاش شروع کردی اور پھر اس کے ہاتھ آئی حلال گوشت کی کہانی۔خوف ہنگامہ مچا، حلال گوشت فروخت کرنے والوں کو مارا پیٹا گیا، دوکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی لیکن پھر بھی بات بنتی نہیں محسوس ہوئی تو اگلی کہانی کے طور پر اذان پر پابندی کا مطالبہ اچھالا گیا۔ ابھی یہ کہانی جاری ہی تھی کہ مسلم ڈرائیوروں کے بائیکاٹ کی اپیل آگئی۔


بائیکاٹ کی یہ اپیل بھارتھا رکشنا ویدیکے نامی ایک ہندوتواوادی تنظیم نے کی ہے جس نے ہندوؤں سے کہا ہے کہ وہ مسلم ڈرائیوروں کے ساتھ تیرتھ استھاانوں یا مندروں میں نہ جائیں۔ اس نے مسلم ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی ملکیت والی گاڑیوں کو استعمال نہ کرنے کی اپیل بھی اپیل کی ہے۔ اسی طرح کرناٹک کے منگلورو میں گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر ہندوؤں سے ایک مخصوص برانڈ کی آئس کریم کے بائیکاٹ کی اپیل کی جارہی ہے۔ اپیل میں ہندوتاجروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات سے ایک ماہ کے اندر اندر حلال سرٹیفکیشن کو حذف کردیں، وگرنہ کرناٹک میں اس برانڈ اوراس کے آئس کریم پالرز کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ ظاہر ہے یہ اپیل مسلمانوں کے خلاف نفرت کے اظہار کے طور پر کیا گیا ہے اور وہ بھی اس لئے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں ووٹوں کا پولرائزیشن کیا جاسکے۔

لیکن اسی کے ساتھ اب مسئلہ یہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ جن لوگوں کو یہ کہانیاں سنائی جارہی ہیں یا جن کے لئے یہ کہانیاں گڑھی جارہی ہیں وہ اب اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ اس کا مقصد انتخابات جیتنا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جہاں مسلم ڈرائیوروں کے بائیکاٹ کی خبرکے ساتھ یہ خبر بھی اچھالی گئی ہے کہ اس سے بی جے پی کی اعلیٰ قیادت پریشان ہے اور اس نے اس کوروک کر آگے بڑھنے کا حکم دیا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک بھاگنے کو کہے تو دوسرا پکڑنے کے لئے للکارے۔ کیونکہ اس طرح کی اپیلیں کرنے میں بی جے پی وسنگھ پریوار کے کئی بڑے لیڈران تک شامل ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ملک میں مذہبی جنون بڑھاکر بنیادی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹائی جارہی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ مذہبی جنون میں ابال کے ساتھ لوگوں کے سامنے اب اس کا جھوٹ اجاگر ہونے لگا ہے۔


اب اگرکوئی سیتاپور کے اس بجرنگ منی داس سے صرف یہ پوچھ لے کہ سوامی جی! مسلمانوں کی بہوبیٹیوں کے اغواء وریپ کی دھمکی سے آپ کا کیا بھلا ہوا؟ کیا آپ کے سنسکار آپ کو یہی تعلیم دیتے ہیں کہ دوسروں کی بہوبیٹیوں کو آپ اغواء کریں، ان کاریپ کریں؟ تو ہمیں یقین ہے کہ وہ چھوٹتے ہی یہ کہیں گے کہ ہم نے کوئی دھمکی ہی نہیں دی۔ بہت ممکن ہے کہ وہ یہ بھی کہہ دیں کہ ہماری جو ویڈیو وائرل ہے اس سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ یعنی کہ علانیہ اغواء وریپ کی دھمکی دینے کے باوجود مہاراج جی کے اندر اتنی اخلاقی جرأت نہیں ہوگی کہ وہ اپنے کہے کا اعتراف ہی کرلیں۔ دراصل یہی وہ بہادرانہ سوچ ہے جو مذہبی جنون کے نتیجے میں پیدا ہورہی ہے اور جو حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے حالات سے مفر کی راہ سجھارہی ہے۔اب اگر مذہبی جنون کی آگ بھڑکانے والے یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کی زد میں صرف حجاب یاحلال والے ہی آئیں گے، جئے شری رام والوں کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا تو یہ ان کی سب سے بڑی بھول ہوگی۔ کیونکہ آگ چاروں جانب پھیلتی ہے پھر چاہئے وہ حقیقی آگ ہو نفرت کی، اور پھرجب آگ پھیلتی ہے تو وہ سب کچھ بھسم کردیتی ہے۔

لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک میں مذہبی جنون کی آگ بھڑکانے والوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ اس سے ملک کا کتنانقصان ہورہا ہے اور کس طرح یہ دیش کے مستقبل کی بنیادمیں بارود کے پیکیٹ چھپارہے ہیں۔ انہیں بس سروکار اپنی اس خون کی پیاسی جبلت کی تسکین سے ہے جو صرف ایک نعرسے آپے سے باہر ہوجاتی ہے اور جس کا مذہبی جذبہ کسی کامیڈین کے مذاق تک سے مجروح ہوجاتا ہے۔یہ صرف سیتاپور کے ایک بجرنگ منی داس کی کہانی نہیں ہے۔ اترپردیش سے کرناٹک تک اور اتراکھنڈ سے تلنگانہ تک اس طرح کے بجرنگ منی داس موجود ہیں جو مذہبی جنون کی آگ میں تیل ڈالنا اپنی سب سے بڑی پنیہ کریا سمجھتے ہیں۔ پھر یہاں سوال یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ آخر ان بجرنگ منیوں اور نرسنہانندوں کے اندر اتنی ہمت کہاں سے آجاتی ہے کہ علانیہ طور پر ملک کے دوسری سب سے بڑی اکثریت یعنی مسلمانوں کو مارنے کاٹنے، اغوار وریپ کی دھمکی دینے لگتے ہیں؟ تو اس کا جواب اس شکتی مان کی خاموش رضامندی میں چھپا ہوا ہے جوایسی حرکتیں کرنے کے لئے کہتا تو کچھ نہیں لیکن ایسی حرکتیں کرنے والوں کے خلاف کرتا بھی کچھ نہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔