کفیل خان مسلم سماج میں ابھرتی نئی قیادت کی علامت... ظفر آغا

ڈاکٹر کفیل خان نے جیل میں رہ کر جو قربانی دی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ مسلم سماج میں اب خوش آئند تبدیلی کے امکان نظر آرہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

ڈاکٹر کفیل خان حق وانصاف کی جدوجہد کے علمبردار ہیں، کفیل خان یوگی حکومت کے جبروظلم کی علامت بھی ہیں۔ آپ واقف ہیں کہ پہلے کفیل خان کو اس لئے جیل بھیجا گیا کہ انھوں نے بطور ڈاکٹر اپنی جیب سے رقم خرچ کر آکسیجن کا انتظام کیا اور بیمار بچوں کی سرکاری اسپتال مییں جان بچائی، ان کا گناہ صرف اتنا تھا کہ اس وقت انھوں نے گورکھپور اسپتال میں چل رہے آکسیجن کی خرید وفروخت کے ریکیٹ کو منظر عام پر کھول دیا، اس سے گورکھپور سے جیت کر جانے والے یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو خفت اٹھانی پڑی۔

بس پھر کیا تھا! ڈاکٹر کفیل خان پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے۔ جیل، پھر جیل اور بس جیل کفیل خان کی قسمت میں ہوگئی۔ پہلے کفیل خان کو اسپتال والے معاملے میں پھانسا گیا۔ پھر جب وہ مقدمہ آگے نہیں بڑھ پایا تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ان کی ایک تقریر کو ملک سے بغاوت ٹھہرا دیا گیا۔ اس معاملہ میں یوپی حکومت نے کفیل خان کی ضمانت کو ہر طرح سے ٹالنے کی بھرپور کوشش کر ڈالی۔ حکومت کسی نہ کسی بہانے مقدمے میں تاریخ پر تاریخ لگواتی رہی۔ آخر جب سپریم کورٹ نے معاملہ طے کرنے کے لئے تنبیح کی تو الہ آباد ہائی کورٹ نے نہ صرف ضمانت دے دی، بلکہ بغاوت کا الزام بھی رد کر دیا۔ اب ڈاکٹر کفیل خان جلد ہی آزاد ہوجائیں گے۔ لیکن ان پر یوگی حکومت کا سیاہ سایہ برقرار رہے گا۔

لیکن کمال اس بات کا ہے کہ اس تمام جیل کے سفر کے دوران ڈاکٹر کفیل کا ظلم کے خلاف عزم واستقلال برقرار رہا۔ وہ چاہتے تو یوگی آدتیہ ناتھ کی تعریف کر، ان کی چاپلوسی کر معاملات کو رفع دفع کر لیتے۔ لیکن اس بہادر ڈاکٹر نے جیل کی مشقت برداشت کر حکومت کے آگے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔ یقینا یہ ایک انتہائی حیرت ناک بات ہے۔ کیونکہ کفیل خان کوئی لیڈر نہیں تھے۔ ان کو کوئی چناؤ نہیں لڑنا تھا کہ ان کو بدنامی کا ڈر ہوتا۔ پھر بھی انھوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا، اور ہر قسم کی صعوبتیں اٹھا کر قید وبند کی مشقت برداشت کی۔

آخر یوگی حکومت کے مظالم کے بادل چھٹ گئے اور عدالت سے ڈاکٹر کفیل خان کو ضمانت ملی۔ آج کفیل خان محض ایک ڈاکٹر ہی نہیں ہیں بلکہ اب کفیل خان یوگی حکومت کے خلاف صبر و استقلال کی علامت بھی ہیں۔ انھوں نے اس ملک کی مسلم اقلیت کے سامنے یہ مثال پیش کی ہے کہ اگر تم حق پر ہو تو فتح آخر تمہاری ہوگی اور جابر وظالم چاہے وہ حکومت ہی کیوں نہ ہو اس کو آخر سپرڈالنی ہی ہوگی۔ یہ ہندوستانی مسلم سماج میں ایک نئی تبدیلی ہے جو اس سے قبل نظر نہیں آتی تھی۔ اس قوم کی نام نہاد قیادت قوم کے مفادات کا سودا کرتی تھی اور مزے کرتی تھی۔ مذہبی نعروں اور جذباتی سیاست کے نام پر روٹیاں سیکتی تھی۔ اس قوم میں کہیں کوئی ڈاکٹر کفیل خان نظر نہیں آتا تھا کہ جو ضمیر کی آواز پر جیل بھی جانے کو تیار ہو۔

کفیل خان مسلم سماج میں اس نئی تبدیلی کی علامت ہیں۔ یہ سماج اس وقت جس قدر مظالم کا شکار ہے اس کے خلاف نہ صرف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے بلکہ اس کے لئے قربانیاں دینے کی بھی ضرورت ہے۔ کفیل خان نے جیل میں رہ کر جو قربانی دی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ مسلم سماج میں خوش آئند تبدیلی کے امکان نظر آرہے ہیں۔ مسلم سماج کو نعرے باز اور جذباتی قائدین ملت کی نہیں بلکہ قوم کی مشکلوں میں قربانی پیش کر اٹل رہنے والے قائدین کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر کفیل خان مسلم سماج کے اسی لمبے سفر کے مرد مجاہد کا نام ہے کہ جس کے آگے یوگی کے مظالم ناکام ہوگئے۔

Published: 1 Sep 2020, 8:09 PM
next