پس منظر و ذکر رزم کربلا: محب اہلِ بیتؑ گوپی ناتھ امنؔ اور ان کا تحریر کردہ مرثیہ

یقینا امنؔ لکھنوی نے جہاں ایک طرف قلم کے ذریعے خدمت اسلام انجام دی وہیں دوسری جانب تقاریر کے ذریعے بھی پیغام اسلامی پہنچانے کی کوشش کی۔

سلام حسین
سلام حسین
user

ڈاکٹر سید کلیم اصغر

گوپی ناتھ امنؔ لکھنوی مہادیو پرشاد عاصی کے فرزند اکبر، گُرسرن لال ادیب لکھنوی کے برادر بزرگ اور ڈاکٹر دھرمندرناتھ کے والد محترم تھے۔ آپ نامور شاعر، معتبر صحافی، مشہور نثر نگار، کئی زبانوں کے ماہر، پدم بھوشن اعزاز سے سرفراز ہونے کے ساتھ سیاست کے میدان میں بھی مرد میدان رہتے ہوئے وزیر اور ڈپٹی اسپیکر دہلی کے عہدے تک پہنچے۔ ان تمام پوسٹ، مقامات اور اعزازات کے ساتھ امنؔ لکھنوی کی سب اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک سادہ انسان تھے، نہ انہیں وزیر اور اسپیکر ہونے کا غرور تھا اور نہ ہی کبھی اعزازات و مقامات پر فخر کیا، بلکہ ایک عام انسان کی طرح زندگی بسر کی اور انسانیت کی خاطر اپنی زندگی وقف کردی۔ امن لکھنوی نے لکھنؤ کی قومی ہم آہنگی کی فضا میں پرورش پائی جہاں بلا تفریق مذہب و ملت ذکر اہل بیتؑ کرنے کی مستحکم روایت تھی۔ آپ کا خانوادہ اہل بیت سے بے پناہ محبت کرتا اور خاص کر احترام محرم میں اپنی مثال آپ تھا۔ بقول ڈاکٹر دھرمندر ناتھ:

’’ ہمارے خاندان میں بھی ماہ محرم سے چہلم تک کوئی خوشی نہیں منائی جاتی تھی۔ جو سبیل لگائی جاتی تھی اس کا منتظم مسلمان ہوتا تھا۔ لکھنؤ میں ہمارے پڑوس میں مرزا جی کے یہاں تعزیے رکھے جاتے تھے۔ عزاداری میں شریک ہونے ہمارے خاندان کے افراد بھی جاتے تھے۔ پردادا جان یوم عاشورہ کے روز پیدل تالکٹورہ کربلا (لکھنؤ) جاتے تھے۔ دادا جان عاصی لکھنوی شعری نذرانہ عقیدت پیش کرتے تھے۔ والد محترم (جناب امن لکھنوی) اور عم محترم (جناب ادیب لکھنوی) نے تو تا عمر زبان و قلم سے مدحت گری رسول و آل رسول کی۔ مجالس میں تقریر فرماتے تھے اور مقاصدوں و مسالموں میں کلام پیش کرتے تھے۔‘‘(1)

یقینا امن لکھنوی نے جہاں ایک طرف قلم کے ذریعے خدمت اسلام انجام دی وہیں دوسری جانب تقاریر کے ذریعے بھی پیغام اسلامی پہنچانے کی کوشش کی۔ دونوں میدانوں میں آپ کو مہارت حاصل تھی۔ امن صاحب نے مصلحتاً کوئی کام نہیں کیا بلکہ جو بھی کیا وہ آپ کے دل و ضمیرکی آواز تھی۔ مصلحت کو کہیں کوئی دخل نہیں رہا۔ ڈاکٹر دھرمندر ناتھ نے ’’سیل عقیدت‘‘ میں پرستار حسینیت امن لکھنوی کے عنوان سے لکھے مضمون میں لاہور میں امن لکھنوی کی تقریر سے متعلق اپنے مضمون کا آغاز اس طرح کیا ہے:

’’میرے والد محترم عالی مرتبت گوپی ناتھ امن لکھنوی مرحوم نے 1955 میں حسین ڈے (زیر اہتمام بزم حسین لاہور) میں اپنی تقریر کا آغاز مولانا ظفر علی خان کے اس شعر سے کیا:

محمدِؐ عربی کو جھکائیں سر ھندو

جناب کرشن کا یوں احترام کرتا ہوں

آپ نے سامعین سے دریافت فرمایا: ’یہ شعر کیسا ہے؟ ‘جواب ملا ’بہت اچھا‘ قبلہ امن صاحب نے فرمایا: ’کیا آپ حضرات نے غور فرمایا کہ شاعر احترام کو مشروط قرار دے رہا ہے۔ یعنی احترام اس لیے کرو کہ دوسرے سر جھکائیں یہ سوچنے کا طریقہ مناسب نہیں ہے۔ عقیدت کبھی بر بنائے تجارت نہیں ہوتی، اس میں شرائط و قیود نہیں ہوتیں۔ میں اگر بزم حسینی میں حاضر ہوا ہوں تو اس لیے کہ

حسین ابن علی کو سلام کرتا ہوں

کہ اس سے کسب فیوض دوام کرتا ہوں

نہیں ہے مصلحت اندیش اعتقاد مرا

پئے طہارت دل اہتمام کرتا ہوں‘‘ (2)

امن صاحب اسم با مسمی تھے۔ انہوں نے اپنا تخلص ہی امن اختیار کیا تاکہ امن و آشتی برقرار رہے اور پیغام امن پہنچاتے رہیں۔ یہی پیغام آپ کے اشعار اور تقاریر میں ملتا ہے۔ حق و صداقت کی راہ میں جان دینے کو وہ ترجیح دیتے تھے۔ وہ چاہتے تھے اگر موت آئے تو راہ حق پر چلتے ہوئے یا حق و صداقت کے دفاع میں آئے۔ انہوں نے کربلا کا بخوبی مطالعے کیا۔ امام حسینؑ کی شخصیت اور ان کی راہ میں جان دینے والے افراد سے بے پناہ عشق رکھتے تھے۔ امن لکھنوی کی نظر میں راہ حق میں جان دینے سے اچھی کوئی چیز نہیں۔ وہ ظلم و تشدد کے سخت مخالف تھے۔ جب بھی بچوں، عورتوں اور مظلوموں پر کوئی ظلم ہوتا تو پریشان ہوجاتے اور کہتے کاش میں وہاں ہوتا اور ان ظالموں کا مقابلہ کرتے ہوئے جان قربان کرتا۔ کیونکہ امن لکھنوی نے کربلا کا بخوبی مطالعے کیا تھا۔ امام حسینؑ کے کردار سے بے حد متاثر تھے، چاہتے تھے کہ موت بھی آئے تو امام حسین اور گاندھی جی کی طرح راہ حق پر آئے۔ جس زمانے میں دہلی کے امامیہ ہال کی زمین پر کچھ دکانداروں نے غاصبانہ قبضہ کیا تو وہ اس وقت معذور تھے اور وہیل چیئر پر چلتے تھے اس عالم میں بھی حوصلہ کی بلندی کا یہ حال تھا کہ وہ وہاں جاکر معذوری کے عالم میں ان کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے۔ ڈاکٹر دھرمندر ناتھ نے اس واقعے کو بھی ’’سیل عقیدت‘‘ میں نہایت فخر کے ساتھ اس طرح تحریر کیا ہے:

’’ایک دن استاذ محترم جناب قیصر زیدی دریا گنج ہمارے گھر تشریف لائے۔ باتوں باتوں میں ذکر آیا امامیہ ہال کی زمین پر کچھ دکانداروں کے غاصبانہ قبضے کا۔ زیدی صاحب نے تجویز رکھی کہ دلی کے لیفٹینینٹ گورنر کے نام ایک درخواست بھیجی جائے۔ امن صاحب نے فرمایا: ایسے کچھ نہیں ہونے والا ہمیں وہاں ستیہ گرہ کرنا چاہیے۔‘ زیدی صاحب نے فرمایا: ’وہ لوگ تشدد پر اتر آئیں گے‘۔ والد صاحب نے کہا: ’تب تو ہمارا کام اور جلدی بنے گا۔ میری پہیے دار کرسی (والد صاحب ان دنوں چلنے سے معذور تھے) وہاں لے جائی جائے۔ میں لاٹھیاں کھاؤں گا، بھاگوں گا بھی نہیں اور اب تو بھاگنے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ میں اگر مرجاؤں گا تو امامیہ ہال کی زمین بہت جلد خالی ہوجائے گی۔‘‘(3)

یہ تھا جذبہ امن صاحب کا، وہ جانتے تھے اگر نیک کام کی خاطر جان جائے تو زندگی سے بہتر ہے۔ اور حسینیؑ کبھی بھی راہ حق میں جان دینے سے گریز نہیں کرتے بلکہ افتخار کرتے ہیں۔ حسینیت کا مقصد ہی راہ حق میں قربان ہونا ہے۔ یہی تمام باتیں آپ کے کلام میں دیکھنے کو ملتی ہیں :

حسینیت یزیدیت سے ہرگز دب نہیں سکتی

ہے ظاہر دین کا دنیا سے سودا ہو نہیں سکتا

حسینی شان کے سجدے ہیں سجدے میری نظروں میں

جبیں فرسائیوں کا نام سجدہ ہو نہیں سکتا

جو راہ حق میں سب کچھ پیش کرنے سے جھجھک جائے

وہ کوئی اور ہو حیدر کا بیٹا ہو نہیں سکتا (4)

امن لکھنوی کے دینی کلام کے دو مجموعے شائع ہوئے ایک ’’سیل عقیدت‘‘ یہ حمد، نعت، قصائد، سلام، مراثی، رباعیات اور قطعات کا مجموعہ ہے۔ دوسرا ’’ایشور اللہ تیرے نام‘‘(5)

سیل عقیدت میں امن لکھنوی کے دو مرثیے بھی شامل ہیں۔ ایک مرثیہ ’’پس منظر و ذکر رزم کربلا‘‘ کے نام سے ہے۔ یہ مرثیہ 124 بند پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا مرثیہ ’’بیاد محسن علی‘‘ جس میں کل 33 بند ہیں۔ ’’پس منظر و ذکر رزم کربلا‘‘ عنوان سے کہے گئے مرثیے کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ امن لکھنویؔ نے اسلامی تاریخ کے سب سے دردناک سانحے، سانحۂ کربلا کا بہت ہی گہرائی سے مطالعے کیا تھا۔ جس انداز سے امن لکھنوی نے مرثیہ کا آغاز کیا ہے اس سے ان کی انکساری کے ساتھ اپنے اسلاف کے علم و فن کا پتہ معلوم ہوتا ہے۔ مندرجہ ذیل بند میں امن لکھنوی اپنے بزرگوں کے مقابلے خود کو ہیچ سمجھتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:

حامل تجلیوں کا نہیں ہے مرا کلام

کیا میرا علم و فن ہے بھلا اور کیا کلام

کچھ شان اور رکھتا تھا اسلاف کا کلام

تاریخ میں مقام بلند ان کا لا کلام

اسلاف کا وہ حسن بیاں کیسے پاسکوں

دعویٰ ہی کیوں کروں جو، نہ جوہر دکھا سکوں

اگلے جو اہل فن تھے، کمال ان کا لا زوال

میں ان کی ہمسری کروں میری کیا مجال

وہ چست چست بندشیں لفظوں کا وہ جمال

اک بند ان کے پایہ کا لکھنا بھی ہے محال

میدان نظم کوئی نہ وہ چھوڑ کر گئے

مضمون وہ لکھے کہ قلم توڑ کر گئے

ان کا بجا تھا ناز کہ ہیں صاحب قلم

مضمون تازہ کرتے ہیں ہر نظم میں رقم

جوہر فصاحت اور بلاغت کے تھے بہم

زور بیاں جو ان میں تھا لائے یہ کس میں دم

زورِ قلم سے اپنے وہ منظر دکھا گئے

ہندوستاں کے پھول عرب میں کھلا گئے(6)

اس کے بعد کے بندوں میں مرثیے کی ابتدا، تاریخ اور مرثیہ گو شعرا، خاص طور سے سرزمین اودھ کے مرثیہ گو شعرا کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیں :

پہلے دکن میں لکھے گئے چند مرثیے

سوداؔ نے چند بند سپرد قلم کیے

گو پیش بند میرؔ نے بھی چند لکھ دیئے

میداں مگر یہ وقف تھا اوروں ہی کے لئے

سب صاحب کمال اودھ کی زمیں کے تھے

یعنی دبیر، انیس، تعشق یہیں کے تھے

پھر ان کی نسل میں ہوئے وہ صاحب کمال

تھا اپنی اپنی طرز میں ہر ایک بے مثال

اوج و نفیس دونوں کی شہرت ہے لا زوال

تھی عشق کے کلام میں بھی ندرت خیال

عارف بھی اپنے علم کے جوہر دکھا گئے

مرجھائے ہی نہیں وہ شگوفے کھلا گئے

تھے حضرت رشید بھی ایسے ہی اہل فن

اس سر زمین میں خوب کھلائے نئے چمن

وہ حضرت مودب و شاعر کا بانکپن

نانک بھی اپنے قسم کا اک صاحب سخن

کتنے ہی اور مرثیے گو با ہنر ہوئے

جن کا کلام سن کے بہت دیدے تر ہوئے(7)

موجودہ دور میں بھی ہیں واقف سے نکتہ رس

وہ پڑھتے جائیں رات بھر اور سنتے جاؤ بس

انداز وہ نصیب ہو بیکار یہ ہوس

اُن کو عظیم کہنے میں کیا مجھ کو پیش و پس

وہ ارض لکھنؤ جو مری زاد بھوم ہے

اس میں خبیرؔ اور مہذبؔ کی دھوم ہے(8)

شاعر نے یہ مرثیہ اپنے ایک رفیق کی فرمائش پر لکھا ہے۔ ’’پس منظر و ذکر رزم کربلا‘‘ لکھنے کے پس منظر کو کتنے حسین پیرایے میں ان دو بندوں میں بیان کیا ہے :

پھر لکھ رہا ہوں کس لیے کیا باعث سخن

اس سے غرض نہیں کوئی اظہار علم و فن

ہے یوں کہ لکھنؤ میں ملے مصطفی حسن

بولے کے لکھو کوئی رسالہ رفیق من

جس میں بیاں ہو وجہ شہادت حسین کی

کیوں اہل دل کے دل میں ہے الفت حسین کی

دلی میں آکے لکھنے جو بیٹھا میں ایک رات

آیا یہ دل میں نظم میں لکھوں وہ واقعات

ہوں سیدھے سادے لفظوں میں کچھ دل کی واردات

نکلے زبانِ خامہ سے اشعار پانچ سات

تکیمل سلسلہ جو ہوئی پیش بزم ہے

پس منظر اس میں رزم کا ہے، ذکر رزم ہے(9)

ذیل کے چار بند قابل توجہ ہیں جو ان کے کمال علم و فن کے آئینہ دار ہیں۔ جن میں امام حسینؑ کا سر زمین کربلا پہنچنا، کوفیوں کی بے وفائی اور اس بے وفائی کی وجہ سے امام حسینؑ کی ہند آنے کی خواہش ظاہر کرنا، یہ سرزمین امن و آرام ہے افسوس کہ امام حسینؑ کی یہ تمنا پوری نہیں ہوئی لکھتے ہیں :

مقتل کی سر زمین پر پہنچے جو شاہ دیں

خیمے وہیں گڑے کہ یہ منزل تھی آخریں

ان کوفیوں میں رسم وفا نام کو نہیں

تھی معرکے کی ماہ محرم کی ساتویں

اپنا کوئی نہیں ہے یہاں ہے جو غیر ہے

مسلم ہیں اور آل محمد سے بیر ہے

یہ بھی دیا حسین نے اغیار کو پیام

مانا کہ بیر ہے، نہ کرو تیغ بے نیام

راہیں جو کھول دو تو اکھڑ جائیں سب خیام

چھوڑیں عرب کو جاکے کریں ہند میں قیام

اے سر زمین گنگ و جمن وجہ ناز ہے

تیری طرف رخ شہ گیتی نواز ہے

ہر قسم کے ہیں پھول ہر اک قسم کے ہیں پھل

ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں میٹھا ہے تیرا جل

سحرا کہیں ہے دشت کہیں ہے کہیں جبل

فصل خزاں بھی ہو تو بہاریں یہاں اٹل

مشہور اک زمانے سے ہے رام کی زمیں

یہ رام کی زمیں ہے آرام کی زمیں

ہیں صبح و شام باغ میں چڑیوں کے چہچہے

ایسی ہے مشک بیز صبا کوئی کیا کہے

کلیوں کی مسکراہٹیں پھولوں کے قہقہے

موزوں تھا یہ رسول کا پیارا یہاں رہے

انکار اس سے کر دیا لیکن یزید نے

ہند آنے کی بھی راہ نہ دی اس پلید نے (10)

اس مرثیہ کے آخر کے دو بند میں سے پہلے بند میں میدان کربلا میں شہادت کے بعد لاشوں کے بکھرے پڑے رہنے کے منظر کو قرآن کے منتشر اوراق سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہر قوم اس عظیم غم میں گریہ کناں ہے۔

میدان میں یہ حال تھا لاشیں تھیں منتشر

بازو کٹے کسی کے، کسی کا کٹا تھا سَر

قرآن کے ورق تھے یہ بکھرے اِدھر اُدھر

ہر قوم کے بشر کی ہے اس غم میں آنکھ تر

لاشوں کی یُوں ضرورتِ دفن و کفن گئی

کانپی زمین، دُھول اڑی قبر بن گئی (11)

اور اس سلسلہ کا آخری بند دعائیہ ہے جس میں جذبہ انسانیت کو دل میں باقی رہنے کی دعا کے ساتھ مدح اہلبیت کے عوض اپنی بگڑی سنوارنے کی بھی دعا کی گئی ہے۔

اَے شاہِ دیں مجھے بھی عطا کر اک ایسا دل

غم دیکھ کر جو اوروں کے ہوجائے مضمحل

دردِ رفاہِ عام رہے دل میں مستقل

مولیٰ بہت ہوں اپنے گناہوں پہ منفعل

انسانیت کے جذبے کو دل میں ابھار دے

مدّاح اہلبیت ہوں بگڑی سنوار دے (12)

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ محب اہلبیتؑ گوپی ناتھ امن نے کربلائی ادب سے متعلق جو خدمات انجام دیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ ظاہراً آج یہ ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کے علمی اور ادبی کارنامہ ہمیشہ ان کی یاد کو تازہ رکھیں گے۔ جب جب ذکر اہلبیتؑ اور خاص کر ذکر کربلا ہوگا تو ان کا بھی ذکر ہوگا جنہوں نے اس ذکر کو پھیلانے میں اپنی عمر صرف کردی۔

(ڈاکٹر سید کلیم اصغر، شعبۂ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی)

Published: 1 Sep 2020, 6:11 PM
next