جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قوم کے لیے مشعل راہ… ظفر آغا

ایسے تاریک حالات میں جامعہ اور اے ایم یو کا ہندوستان بھر میں بالترتیب نمبر ایک اور نمبر تین تعلیمی ادارہ کی منزل حاصل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ تمام تر پریشانیوں کے باوجود قوم کروٹ لے رہی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

پچھلے چھ سالوں میں ہندوستانی مسلم اقلیت جس اندوہ و علم کے عالم سے گزری ہے اس کا ذکر الفاظ میں غالباً نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کبھی موب لنچنگ تو کبھی اس کے پرسنل لاء پر حملہ۔ حد تو یہ ہے کہ آخر اس کی شہریت پر بھی کمند لگانے کی سازش تیار کر لی گئی۔ جب اس نے اس سازش کے خلاف شاہین باغ جیسا پُر امن احتجاج کیا تو پہلے دہلی فسادات کے ذریعہ سبق سکھایا گیا اور آخر میں احتجاج کو کسی بھی طرح حمایت دینے والے ہر شخص کو گرفتار کیا گیا یا پولس تھانہ بلا کر تنبیہ دی گئی کہ باز آؤ ورنہ جیل جانے کو تیار رہو۔ آخر رام مندر تعمیر ہونے لگا۔ بس یوں سمجھیے کہ تقریباً کہہ کر اور اعلانیہ مسلم سماج کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا۔ بس اب ایک ووٹ ڈالنے کا اختیار ہے سو اس پر بھی نگاہیں لگی ہیں۔ دیکھیے سنگھ کا وہ خواب کب اور کیسے پورا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ان حالات میں قوم جس ناامیدی اور کرب کے عالم سے گزر سکتی ہے اسی کسمپرسی کے عالم میں دن کاٹ رہی ہے۔

لیکن اس نااُمیدی کے درمیان ابھی حال میں ایک خبر آئی جس سے کچھ امید کی کرن پھوٹتی نظر آتی ہے۔ وہ خبر یہ تھی کہ حکومت ہند کے زیر نگراں ملک میں جتنی بھی یونیورسٹیاں چلتی ہیں ان میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا شمار ملک کی تین سب سے بلند و بالا یونیورسٹیز میں کیا گیا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی تو اس برس ملک کی سب سے بہترین یونیورسٹی رہی۔ دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی دوسرے نمبر پر رہی، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو تیسرا مقام حاصل ہوا۔ خیال رہے کہ پچھلے سال یہ تینوں یونیورسٹیاں زبردست ہنگامی دور سے گزری ہیں۔ جے این یو میں سنگھ حامیوں نے گھس کر وہاں کے طلبا کو پیٹا اور پھر یونیورسٹی ایک عرصہ تک بند رہی۔ جامعہ ملیہ اور اے ایم یو میں این آر سی کے معاملہ پر پولس نے زبردستی گھس کر طلبا کی پٹائی لگائی اور پھر ہنگامہ کے بعد یہ یونیورسٹیاں بھی لمبے عرصے تک بند رہیں۔ اس ہنگامہ کے باوجود جامعہ ملیہ اور اے ایم یو ہندوستان کی نمبر ایک اور نمبر تین یونیورسٹیاں قرار دی گئیں۔

یہ بات یقیناً قابل ستائش ہے۔ اس کے لیے ان دونوں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرس، وہاں کا ٹیچنگ اسٹاف اور خصوصاً طلبا قابل مبارکباد ہیں۔ تمام تر پریشانیوں کے باوجود ان جگہوں پر اسٹاف اور طلبا نے جی توڑ محنت کر ہندوستان میں اپنا نام روشن کیا۔ اس کے لیے ان کی جتنی بھی تعریف ہو کم ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان دونوں یونیورسٹیوں نے اپنی کامیابی سے پوری ہندوستانی اقلیت کے لیے ایک امید کی شمع بھی روشن کی ہے۔ وہ امید یہ ہے کہ حالات کتنے ہی ناسازگار ہوں، اگر اس ملک کا مسلمان ہمت، عزم اور محنت کے ساتھ کوشش کرے تو کامیابی اس کے قدم چومے گی۔ شرط صرف یہ ہے کہ ناامید ہو کر ہتھیار نہ ڈال دیے جائیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس ملک کی مسلم اقلیت نے کبھی بھی ہتھیار نہیں ڈالے۔ سنہ 1947 سے اب تک نہ جانے کتنے سخت مواقع آئے لیکن یہ قوم اپنی لگن اور محنت کے سہارے گر گر کر کھڑی ہوتی رہی۔ بٹوارہ ہوا اور مار کاٹ ہوئی۔ اس کو غدار وطن کہا گیا لیکن وہ کھڑا ہو گیا۔ ہم نے خود مراد آباد، میرٹھ سے لے کر گجرات جیسے ہنگامہ خیز فسادات دیکھے ہیں، جن کا ذکر بھی کرتے ہوئے خوف آتا ہے لیکن قوم ہر منزل پر کھڑی ہو گئی۔ پھر بابری مسجد کا ہنگامہ تقریباً تین برس چلا لیکن ہمت کا دامن نہیں چھوڑا۔ اور اب تو سیدھے مودی کا ہندو راشٹر ہے، لیکن پھر بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سربلند کھڑی ہیں۔ کسی ایک قوم کے لیے اتنے مصائبوں کے درمیان گر گر کر خود کھڑا ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

لیکن سنہ 1947 سے اب تک ان 70 برسوں کے سفر میں صرف دو غلطیاں ہوئیں جس نے مسلم اقلیت کو سخت نقصان پہنچایا۔ وہ دو غلطیاں میری ناقص رائے میں قیادت کا فقدان اور تعلیم کی کمی تھی۔ جس قوم میں قیادت ہی غلط اور خود غرض و موقع پرست ہو وہ دھوکہ نہیں کھائے گی تو اور کیا ہوگا۔ ان 70 برسوں میں نام نہاد مسلم قیادت (جس پر قدامت پرستوں اور علماء کا غلبہ رہا) نے اپنے مفاد تو حل کیے لیکن قوم کو دیدہ و دانستہ غلط راستے دکھائے۔ حشر یہ ہوا کہ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا ہر رکن وزیر ہوا یا کروڑوں کا مالک ہوا۔ ادھر مسجد گئی اور ہزارہا مسلمان فساد کا شکار ہوا۔ ایسے ہی ہر موقع پر قیادت نے دھوکہ دیا۔ یہ قوم کی اپنی غلطی تھی جس کا خمیازہ وہ اب تک بھگت رہی ہے۔

مگر قوم کرتی تو کرتی کیا! کیونکہ اس کے پاس تو یہ شعور ہی نہیں تھا کہ وہ صحیح قائد پہچان سکے۔ اس نے عموماً علماء کو رہبر سمجھ کر آنکھ بند کر کے عقیدت میں قائد مانا۔ لیکن رہبر تو راہزن نکلے۔ اس لاشعوری کا سبب یہ تھا کہ قوم عموماً جہالت کا شکار تھی اور وہ اس لیے کہ وہ جدید تعلیم سے بے بہرہ تھی۔ سرسید احمد خان نے 19ویں صدی کے آخر میں جو علی گڑھ تحریک چلائی اس نے سنہ 1920 تک مسلم لیگ تحریک کے زور پکڑنے کے بعد تقریباً دم توڑ دیا۔ سر سید اور ان کے ساتھیوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان جدید تعلیم کے ذریعہ جس نشاط ثانیہ کی داغ بیل ڈالی تھی، اس تحریک نے محمد علی جناح کی پاکستان تحریک کے آگے دم توڑ دیا۔ بٹوارہ ہوا اور پھر مسلم اقلیت یکے بعد دیگرے ہنگامے سے گزرتی رہی۔ 'حال' کی لڑائی میں 'مستقبل' کا خیال ہی نہیں رہا۔ بس تحفظ شریعت، اردو اور روزمرہ کی تگ و دو نے قوم کے بڑے حصے کو یا تو ہر قسم کی تعلیم سے محروم کر دیا یا پھر اس کو مدرسوں تک محدود کر دیا۔ لاعلمی کے سمندر میں ڈوبی قوم اب دوسرے درجے کے ہندوستانی شہری کے مقام تک آ گئی۔

ایسے تاریک حالات میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ہندوستان بھر میں بالترتیب نمبر ایک اور نمبر تین تعلیمی ادارہ ہونے کی منزل حاصل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ تمام تر پریشانیوں کے باوجود قوم کروٹ لے رہی ہے۔ کہیں نہ کہیں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ جدید تعلیم ہی ایک ایسا راستہ ہے جو قوم کی سپر بن کر اس کے لیے ترقی کی راہیں ہموار کر سکتا ہے۔ وہ نشاط ثانیہ جس کی شروعات سر سید نے کی تھی اور جس کو پاکستان تحریک نے ختم کر دیا، مسلم اقلیت کو اسی سفر کو پھر شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ اور بس پھر دیکھیے اس ملک میں نہ جانے کتنے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے ادارے اولین مقام حاصل کریں گے۔

Published: 30 Aug 2020, 9:51 AM
next