اگر محافظ ہی رہزن بن جائے، تو فریادی کہاں جائیں… نواب علی اختر

دہلی پولیس کی نا اہلی کی وجہ سے ہی فساد متاثرہ کئی مسلمان خاندان آج بھی خون کے آنسو رو رہے ہیں کیونکہ ان کے رشتہ دار جیل میں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

دہلی فسادات کی متاثرہ / Getty Images
دہلی فسادات کی متاثرہ / Getty Images
user

نواب علی اختر

ملک کی راجدھانی دہلی میں جب سی اے اے مخالف تحریک اپنے شباب پر تھی اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر مرکز کی مودی حکومت کے فیصلے کی کھلے طور پر تنقید کی جارہی تھی،عین اسی وقت مٹی بھر نام نہاد ’راشٹر بھکتوں‘ کے ذریعہ حکومت کی کھال بچانے کے لئے تیار کیے گئے منصوبے کو جب عملی جامہ پہنایا گیا تواس کا نتیجہ خوفناک فرقہ وارانہ فساد کی شکل میں سامنے آیا اور پھر اس میں 50 سے زائد جانوں کا ضیاع ہوا، جس میں سب سے زیادہ مسلمانوں کا نقصان بتایا گیا ہے۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس پوری ’سازش‘ کا مرکز مسلمان تھے جو سی اے اے کی مخالفت کر رہے تھے حالانکہ اپنی شہریت پر خطرہ محسوس کرنے والے مسلمانوں کے علاوہ کئی مذاہب کے لوگ اس تحریک میں شامل تھے۔ مگر نام نہاد راشٹر بھکتوں نے سی اے اے مخالف تحریک کو مسلمانوں کی تحریک ثابت کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈا اپنایا جس کی ایک مثال شمال مشرقی دہلی کا فساد تھا۔

بات یہیں پر ختم ہو جاتی تب بھی غنیمت تھا کیونکہ فساد کے بعد دہلی پولیس (جو فساد روک پانے میں پوری طرح ناکام رہی) نے جس طرح گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا اس نے مظلومین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ فساد کے الزام میں سینکڑوں لوگ گرفتار کیے گئے اور آج بھی جیلوں میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرنے والی دہلی پولیس کی متعصبانہ ذہنیت کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ فریاد لے کر تھانے پہنچے زیادہ تر مسلمانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا اور آج ایک سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان لوگوں کے خلاف نہ تو جانچ کی گئی اور نہ ہی فساد میں کسی طرح ان کا کردار ثابت کیا جاسکا ہے۔ پولیس کی نا اہلی کی وجہ سے ہی فساد متاثرہ کئی مسلمان خاندان آج بھی خون کے آنسو رو رہے ہیں، کیونکہ ان کے رشتہ دار جیل میں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

شمال مشرقی دہلی کے شیو وہار میں گزشتہ سال ہونے والے فسادات کے دوران مدینہ مسجد پر دہشت گردانہ حملہ کیا گیا تھا۔ مسجد میں فسادیوں نے توڑ پھوڑ کی تھی اور اس کے اندر دو ایل پی جی سلنڈر ڈال کر دھماکہ کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے کی سماعت دہلی کی ایک عدالت میں چل رہی ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے دوران دہلی پولیس کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ، غیر معقول اور جلد بازی پر مبنی رہا، جس پرعدالت نے پولیس کی سخت سرزنش کی ہے۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے دہلی پولیس کے سب انسپکٹر سمن سے سوالات کیے، یہ وہ افسر ہے جسے سب سے پہلے ایس ایچ او نے کیس تفویض کیا تھا، عدالت نے پوچھا کہ انہوں نے کیا تحقیقات کی ہیں، اس پر سب انسپکٹر سمن کا کہنا تھا کہ اس وقت وہ کورونا وائرس کی گرفت میں تھے۔ جج نے مزید پوچھا کہ جب (سب انسپکٹر) کورونا انفیکشن نہیں ہوا تھا، اس دوران اس نے کیا کیا، اس پر سب انسپکٹر نے کہا کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔

ہاشم علی نامی شخص نے مدینہ مسجد میں آتش زنی کی شکایت کی تھی اور پولیس نے اسے ہی گرفتار کرلیا تھا۔ پولیس نے ہاشم کی شکایت کو ایک مقامی شخص کی شکایت کے ساتھ جوڑ دیا تھا اور دعوی کیا تھا کہ یہ چارج شیٹ کا حصہ ہے۔ جج نے کہا کہ آپ نے کتنے عرصے تک اس شکایت کرنے والے ( یعنی آپ کے بموجب ملزم) کو جیل میں رکھا، کون اس معاملے کا جواب دے گا؟ پولیس کے اعلیٰ افسر کے اس رویہ پر جج نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کیا مجھے پولیس کمشنر کو لکھنا چاہیے کہ فسادات کے معاملات میں جہاں ملزمین نامزد ہیں، ہمارے افسر نے سوچا کہ اس معاملے میں تفتیش کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر سب انسپکٹر نے کہا کہ وہ اس کے لئے معذرت خواہ ہے۔ عدالت نے پولیس سے اس معاملے میں اسٹیٹس رپورٹ نیز ایف آئی آر کی اصل ڈائری دکھانے کا حکم دیا جس میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مدینہ مسجد میں آتش زنی کی شکایت درج کروائی ہے۔

کتنی شرم کی بات ہے کہ فریادی کو ہی پولیس نے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا اور ایک سال سے زائد عرصہ تک اس کی کوئی خیرو خبر نہیں لی۔ اس صورتحال میں عدالت کو چاہیے کہ ایسے پولیس اہلکاروں کو برخواست کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے جو ’منصف‘ کے عہدے پر رہ کر ظالم کا کردار نبھا رہے ہیں۔ دہلی کے خوفناک فسادات میں سے ایک شمال مشرقی دہلی کے فساد معاملے میں دہلی پولیس کے اس رویہ سے مسلمان متاثرین میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوگیا ہے۔ اس لئے کہ اگر محافظ ہی رہزن بن جائے گا تو فریادی کہاں جائیں گے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دہلی پولیس ناکردہ گناہ کے طور پر ہاشم علی کے ذریعہ جیل میں گزارے گئے ایک سال سے زائد قیمتی ایام کو واپس لوٹایا جاسکے گا؟ اس دوران ہاشم علی کے ذریعہ جیل میں برداشت کی گئیں صعوبتوں کا ذمہ دار کون ہے؟ اس معاملے میں موقع پر ہی عدالت کو فیصلہ کر کے انسانیت کے دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے تھا۔

حالات تو یہی کہتے ہیں کہ عدالت کو اس مقدمے کو خارج کر کے ملزم پولیس اہلکار کو سزا دے تاکہ عدالت کے تئیں مظلومین کا اعتماد برقرار رہے اور ملک کے تئیں وفادار رہ کر اپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔ یہ کوئی ایک معاملہ نہیں ہے جہاں پولیس کی متعصبانہ ذہنیت کی سزا بے قصور مسلمان بھگت رہا ہے، اس فساد سے متعلق درجنوں کیس ایسے ہیں جن میں دہلی پولیس کے ذریعہ بے قصور لوگوں کو کئی کئی ماہ جیل میں رکھا گیا اور عدالت کے کہنے پر انہیں رہا کیا جا رہا ہے۔ تقریباً ہر روز دہلی فساد میں مبینہ طور پر ماخوذ مسلم ملزمان کی رہائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس معاملے میں اب تک نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے تقریباً 100 افراد کی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں اور مختلف مسلم تنظیمیں تقریباً 200 مقدمات کی پیروی کر رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔