ہندوستان میں بھگوا آئین نافذ کرنے کی کوشش!... نواب علی اختر

موجودہ حکومت میں ایک ایسا ’اصول‘ بنا دیا گیا ہے جس کے مطابق ملک کا سچا وفادار وہی ہے جو بی جے پی اور آرایس ایس کا حامی و ناصر ہو۔

تصویر / نواب اختر
تصویر / نواب اختر
user

نواب علی اختر

دنیا کے تقریباً سب سے بڑے جمہوری ملک ہندوستان کی سیاست نفرت اور تقسیم پر منحصر ہوگئی ہے۔ اجتماعی اور انفرادی زندگی میں مداخلت کی جا رہی ہے، آزادیI اظہار پر قدغن ہے اور مذہبی عبادت گاہوں اور عمارتوں کو بھی سرکار اپنے کنٹرول میں لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کہیں سے حکومت کے خلاف آواز اٹھتی ہے تو اس پر ’دیش دروہ‘ کا الزام عائد کر کے دبا دیا جاتا ہے۔ کیا یہی جمہوری نظام ہے جس پر ہمیں فخر ہے؟ ہر گز نہیں! تو پھر حکومت یہ اعلان کیوں نہیں کرتی کہ ملک میں جمہوری نظام ختم کرکے بی جے پی اور آر ایس ایس کے آئین کو نافذ کیا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کئی بار اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں، مگر اب انہیں کھل کر اس حقیقت کا اظہار کر دینا چاہیے تاکہ شک و تردد ختم ہو جائے۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی مودی حکومت اپنی منافرانہ پالیسیوں کو لیکر بدنام رہی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے حکومت کی ہرحکمت عملی نفرت آمیز سیاست کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی، کیونکہ اکثریتی طبقے کے دل و دماغ میں اس قدر نفرت کا زہر بھر دیا گیا ہے کہ اب حکومت کو اپنی ہر پالیسی میں اس زہر کا ہلکا سا ڈوز ضرور شامل کرنا پڑ رہا ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ اب نفرت آمیز سیاست حکمراں پارٹی کی مجبوری بن گئی ہے۔ ایک سرسری نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ گزشتہ 50 سالوں میں نفرت کا جو بیج بویا گیا تھا، اب اس کی فصل کاٹی جا رہی ہے۔ اس فصل کی کٹائی سے اقلیتی طبقے کو کتنا خسارہ ہوا ہے اس کا اندازہ تو مقرر کیا جاسکتا ہے مگر ملک کی سالمیت اور جمہوریت کو کتنا نقصان پہنچا، اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔

ملک کے اقلیتی طبقے کو ہدف بنا کر سی اے اے اور این آرسی کا نفاذ کرکے اکثریتی طبقے پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ دونوں قوانین ملک کی سرحدوں میں دراندازی کرنے والے مسلمانوں اور ہندوستان میں غیر آئینی طور پر بسنے والے افراد کے خلاف ہیں۔ اس لئے جس وقت ان قوانین کے خلاف احتجاج کے لئے مسلمان سڑکوں پر اترے اس وقت اکثریتی طبقہ حکومت کی حمایت میں پوری طاقت کے ساتھ کھڑا نظر آیا، مگر وہ دانشور طبقہ جو حکومت کی نیت سے اچھی طرح واقف تھا اور جمہوری و آئینی نظام سے کھلواڑ کو دیکھ اور سمجھ رہا تھا، اس نے حکومت کی غیر آئینی اور آمرانہ پالیسیوں کی سخت مذمت کی اور اس کے خلاف پرزور احتجاج کیا۔ حکومت کو یہ لگ رہا تھا کہ اس نے ملک کے تمام ہندوﺅں کو نفرت کا زہر پلا دیا ہے اور اب انہیں کسی تریاق کی امید نہیں ہے مگر یہ دانشور طبقہ جو ہندو سماج کے درمیان ہی زندگی گزارتا ہے، تریاق بن کر سامنے آیا اور اس زہر کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کی۔

ظاہر ہے گزشتہ 50 سالوں سے دیئے جا رہے’سلو پوائزن‘ کے اثر کو اچانک ختم نہیں کیا جاسکتا مگر کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔ آج صورتحال ہے یہ کہ جب ملک کا کسان اپنے حقوق کی بازیابی اور تحفظ کے لئے سڑکوں پر اترتا ہے توحکومت اپنے آلہ کاروں کے ذریعہ انہیں بھی بدنام کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتی۔ نفرت کے زہر کی وہی پرانی بوتل ایک بار پھر نکالی گئی اور سماج میں زہر پھیلا دیا گیا۔ کسانوں کو ’خالصتانی‘ کہا گیا، انہیں پاکستان نواز اور ملک دشمن قرار دیا گیا۔ افسوس یہ ہے کہ ملک کے اکثریتی طبقے کا بڑا حصہ حکومت کی اس سازش کا شکار ہوچکا ہے اور وہ کسانوں کو ملک اور آئین کا دشمن کہنے لگا۔ آج ہر اس فرد اور مذہب و مسلک کو ملک کا دشمن قرار دیا جا رہا ہے جو حکومت کی غلط پالیسیوں اور نفرت آمیز سیاست کے خلاف ہے۔ موجودہ حکومت میں ایک ایسا ’اصول‘ بنا دیا گیا ہے جس کے مطابق ملک کا سچا وفادار وہی ہے جو بی جے پی اور آر ایس ایس کا حامی و ناصر ہو۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ ہندوستان جیسے مقدس جمہوری نظام کی آن بان شان پر کچھ ’دیش بھکتوں‘ کی نگاہ بد مرکوز ہے اور ہندوستانی سماج کی صدیوں پرانی تہذیب بھائی چارگی، قومی سلامتی، گنگا جمنی تہذیب اور قومی اتحاد جیسی تابناک روایات کو مسمار کرنے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ انہیں اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے کہ ہمیشہ سے ملک کا امتیاز رہا ہے کہ یہاں تمام انسان باہم مل کر پیار و محبت سے رہتے رہے ہیں، کثرت میں وحدت کی بنیاد پر پوری دنیا میں ہندوستان کی منفرد اور نمایاں شناخت ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک کی 5 ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں،عوام کو سوچنا ہوگا کہ الیکشن کے وقت ہی ایسے مدعے کیوں اٹھائے جاتے ہیں جو انسانوں کے درمیان نفرت کی دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور باہم دوریاں پیدا کر دیتے ہیں۔ ایسے پرآشوب ماحول میں ہر ہندوستانی کی ذمہداری بنتی ہے کہ وہ ملک میں امن، رواداری، انصاف، مساوات اور عدم تفریق کے پیغام کو عام کرے، وہیں سماج دشمن عناصر کی نفرت آمیز اور شدت پسند انہ چالوں کو اپنی محبت کی زبان سے دبانے کا کام کیا جائے تاکہ کوئی سر پھرا مذہب اور ذات پات کے نام پر ملک کے عوام کو تقسیم کرنے کی ہمت نہ جٹا سکے۔

آج کے جاہل راشٹر بھکتوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس میں متعدد مذاہب کے علمبردار، مختلف زبانوں کے بولنے والے، جدا گانہ تہذیبوں کے رکھوالے موجود ہیں نیز ہندوستان متنوع برادریوں سے معمور ہے۔ تمام افکار و نظریات کے حاملین کی قدر کرنا ہر ہندوستانی شہری پر واجب ہے۔ بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکمراں جماعت نے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کا جو نعرہ دیا تھا وہ اب پورے طور پر جملہ ثابت ہو رہا ہے۔ گزشتہ 6 برسوں کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ فرقہ وارانہ فسادات کے علاوہ کتنے بے قصور مسلمانوں کو گائے کے تحفظ کے نام پر انتہائی بے رحمی سے قتل کر ڈالا گیا۔ اس کے علاوہ مسلم طبقہ کو مسلسل مشکوک نگاہوں سے دیکھنے اور ان پر ظلم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ان سب سے حکمراں جماعت کو سیاسی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

کسی حکومت کی کارکردگی کا اندازہ لگانے کے لئے 6 سال کا وقت بہت ہوتا ہے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قطعی غلط نہیں ہوگا کہ مستقبل میں بھی حکمراں جماعت کی کارکردگی ملک کی ترقی کے لئے بہتر ثابت نہیں ہوسکتی ہے اس لئے انتہائی بیدار ہونے کی ضرورت ہے تاکہ عوام خوشحال زندگی بسر کرسکے۔ اگر عوام حکمراں جماعت کے پرفریب اور مسحور کن نعروں میں الجھی رہی توغربت، بے روزگاری، نفرت اور تقسیم کے سوا کچھ بھی ہاتھ آنے والا نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔