انتخابی تیوہار میں ووٹروں کی ذمہ داری!... نواب علی اختر

امیدوار جو اپنی ناک پر مکھی بیٹھنے نہیں دیتا ہے، بازاروں، گلیوں اور دیہاتوں میں ہاتھ جوڑے کڑی دھوپ اور بارش میں ووٹ مانگنے کے لیے عام آدمی کے دروازے پر دستک دیتے دکھائی دیتے ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

نواب علی اختر

کثیر المذاہب ہندوستان کو کئی معنوں میں دنیا میں منفرد ملک کا درجہ حاصل ہے جہاں تقریباً ہرماہ کسی نہ کسی مذہب کا تیوہار منایا جانا عام بات ہے، اسی طرح ملک میں ایک اور بھی تہوار ہے جو ہر پانچ سال میں منایا جاتا ہے اور وہ انتخابات کا فیسٹیول ہے۔ عام انتخابات کے علاوہ ہندوستان کی 28 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام 8 علاقوں کی کسی نہ کسی اسمبلی کی مدت ختم ہو رہی ہوتی ہے۔ اس کے لیے سیاسی پارٹیاں اور امیدوار لنگوٹ کس کر میدان میں قسمت آزمائی کرنے اتر آتے ہیں۔ جس صوبہ میں انتخابات ہو رہے ہوں وہاں تو مہینہ بھر جشن کا سا سماں ہوتا ہے۔ اگر صوبہ بڑا ہے، تو کیا کہنے، کئی مرحلوں میں انتخابات ہوتے ہیں اور یہ بسا اوقات دو سے تین ماہ تک جاری رہتے ہیں۔

پانچ سال بعد الیکشن کے موقع پر عوام کو بھی اپنی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ امیدوار جو اپنی ناک پر مکھی بیٹھنے نہیں دیتا ہے، بازاروں، گلیوں اور دیہاتوں میں ہاتھ جوڑے کڑی دھوپ اور بارش میں ووٹ مانگنے کے لیے عام آدمی کے دروازے پر دستک دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ نہیں تو ان کے چیلے وعدوں کی فہرست لے کر وارد ہوتے ہیں۔ شہروں اور قصبوں میں گلیوں کے نکڑ پر، دیہاتوں میں چوپالوں کے پاس عارضی خیمے لگا کر، لاؤڈ اسپیکروں پر امیدواروں کے گن گائے جاتے ہیں۔ چائے، شربت، ناشتہ تقسیم ہوتا رہتا ہے۔ عوام کا بس چلے، وہ الیکشن کمیشن سے یہ تماشہ سال بھر چلنے کی درخواست کریں کیونکہ اسی بہانے امیدوار کا چیلہ، جو اکثر کوئی مقامی دبنگ ہوتا ہے، کم از کم وہ سیدھے منہ بات تو کرتا ہے اور نوکروں کی طرح کوئی بھی کام کرنے کے لیے تیار کھڑا ہوتا ہے۔

انتخابات کے شیڈول کے اعلان سے قبل صوبہ میں ترقیاتی کاموں کا ایک سیلاب امڈ آتا ہے۔ جدھر دیکھو کسی نہ کسی منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا جاتا ہے۔ زیر التوا منصوبے حرکت میں آ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ انتخابات سے قبل ایک منصوبہ کا سنگ بنیاد افتتاح ایک سے زیادہ بار بھی ہوجاتا ہے۔ دونوں بار مدعو عوام کی ناشتہ پانی سے خاطرومدارت کی جاتی ہے اور ایک عالیشان منصوبہ کے خواب دکھائے جاتے ہیں حالانکہ اکثر ایسے منصوبے انتخابی نتائج کے بعد زمین پر نہیں اتر پاتے ہیں۔ وہیں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی خاطر ووٹ خریدنے کے لیے شراب کی بوتل، چند کلو چاول یا ایل پی جی سلنڈر بھی عام بات ہے۔

تامل ناڈو کے انتخابات میں تو سبھی سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن سے درخواست کر دی کہ ایک آزاد امیدوار کو کوئی بھاری بھرکم انتخابی نشان عطا کیا جائے کیونکہ پچھلی بار اس کو پریشر کوکر بطور انتخابی نشان دیا گیا تو اس نے اپنے حلقے میں ووٹروں کو لبھانے کے لیے پریشر کوکر ہی بانٹ دیئے اور اس میں کوپن بھی رکھے، جن کے بدلے اس کی کامیابی کی صورت میں روپے ملنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ بس کیا تھا اس نے اپنے حریفوں کو چت کر کے بازی مار لی۔ انتخابی جلسوں میں شرکت کے لیے دور دور سے لوگوں کو بسوں میں لایا جاتا ہے۔ بدلے میں انہیں چند روپے، مفت کھانا اور قریب سے ہیلی کاپٹر دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ بس یہ دن ان معصوم لوگوں کے لیے تیوہار کا دن ہوتا ہے۔ مگر جونہی پولنگ بوتھ سے ووٹ ڈال کر باہر نکلے، تو بس ووٹر کی وقعت اگلے پانچ سال تک ختم۔ امیدوار ہو یا اس کا چیلہ اب کوئی سیدھے منہ بات نہیں کرتا ہے اور جن منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہوتا ہے، ان پر کام بھی اگلے انتخابات تک ملتوی ہو جاتا ہے۔

سیاسی پارٹیوں اورعوام کے علاوہ صحافیوں کے لیے بھی انتخابات تیوہار سے کم نہیں ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جب ایڈیٹر صاحبان رپورٹروں کو ملک کے دو درازعلاقوں میں انتخابی نبض ٹٹولنے بھیجتے ہیں۔ صحافتی دنیا میں یہ ایک نادر موقع ہوتا ہے، جب صحافی دہلی کی سرکاری غلام گردشوں سے خبروں کے حصول سے چھٹکارا حاصل کر کے اصلی ہندوستان کے روبرو ہوتا ہے۔ اب یہ اس کی اپنی اہلیت اور قابلیت پر منحصر ہے کہ وہ اس اصلی ہندوستان کو کس طرح اپنے قارئین تک پہنچائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان (جو دیہات ہے) اور انڈیا (شہری ہندوستان) ایک طرح سے اب دو الگ ممالک کی طرح ہیں اور ان دونوں کی تقدیر ایک دوسرے سے متصادم نظر آتی ہے۔ دہلی اور بڑے شہروں میں کام کرنے والے صحافیوں کو اس دیہی ہندوستان کا بالکل ہی ادراک نہیں ہوتا ہے۔ شاید پہلی بار ان کو احساس ہوتا ہے کہ جمہوریت کی دیوی کے ظہور کے بعد بھی عام آدمی کا کس طرح استحصال ہوتا ہے۔

میڈیا میں گراؤنڈ رپورٹنگ تو اب تقریباً ختم ہو چکی ہے، کیونکہ اس کے لیے مالی و انسانی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ چونکہ انتخابات میں سیاسی جماعتیں زر کثیر تشہیر وغیرہ پر خرچ کرتی ہیں تو اس کا ایک حصہ نشریاتی ادراروں تک بھی پہنچتا ہے، جو رپورٹنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی میڈیا اداروں کو تو پارٹیاں یا حکومت بھی بسا اوقات سیاسی نبض معلوم کرنے کے لیے منجھے ہوئے رپورٹروں کو گراؤنڈ پر بھیجنے کی درخواست کرتی ہیں۔ ایک اچھے رپورٹر کی پہچان ہے کہ وہ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر انتخابات میں جیت و ہارسے ہٹ کر ایسی اسٹوریز ڈھونڈے اور ان کی ایسی منظر کشی کرے، جو دیگر حالات میں ممکن نہ ہو۔ چونکہ گراؤنڈ پر جانے کے اب بہت کم مواقع صحافیوں کو نصیب ہوتے ہیں۔

حالانکہ آج کا میڈیا اب اتنا وفا دار اور پاورفل بھی ہوگیا ہے کہ کسی بھی علاقے میں اپنے ادارے کے لئے رپورٹنگ کرنے کے ساتھ ساتھ حکمراں پارٹی کے لئے انتخابی مہم بھی چلانے میں کوئی عارنہیں محسوس کرتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو بالائے طاق رکھ کر نام نہاد صحافی ادارے کے تئیں اپنی وفاداری کو پس پشت ڈال کر مخصوص پارٹی کے لئے علاقوں کا دورہ کرنے اور وہاں کے ووٹروں کا موڈ بھانپنے بھی پہنچ جاتے ہیں اور مخصوص امیدوار کو سبز باغ دکھا کر اپنا مفاد حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور کے میڈیا کا ایک بڑا طبقہ (جسے دوسرے الفاظ میں گودی میڈیا کہا جا رہا ہے) حکمراں پارٹی کی خوشنودی حاصل کرنے میں اس قدرمحو ہوجاتا ہے کہ اسے جمہوریت کے چوتھے ستون کا ذرا بھی خیال نہیں رہ جاتا ہے۔

اسی وجہ سے جمہوریت کا چوتھا ستون متزلزل نظر آرہا ہے جو دنیا کے تقریباً سب سے بڑے جمہوری ملک کے لئے نیک شگون نہیں کہا جاسکتا ہے۔ انہی حالات میں جب ملک کی 5 ریاستوں میں انتخابی گہما گہمی اپنے شباب پر ہے، ووٹروں کو چاہیے کہ گزشتہ امیدوار کا احتساب کریں اور اس دل ودماغ کا استعمال کریں جو ملک کی تعمیر و ترقی کا خواہاں ہے۔ مذہبی ومسلکی منافرت کا زہر گھولنے والے کسی بھی پارٹی اوراس کے امیدوار کو سبق سکھائیں تاکہ ملک میں گنگا جمنی تہذیب کا شیرازہ نہ بکھرنے پائے اور وطن عزیز کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی قدیمی روایت برقرار ہے جوملک کے ساتھ ساتھ اس کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔