آسام میں کھیلا ہوتے ہوتے رہ گیا... اعظم شہاب

آسام میں بی جے پی نے اپنی گرتی ہوئی دیوار کو سرما کو وزیراعلیٰ بنانے کا اعلان کرکے سہارا تو ضرور دے دیا ہے، مگر یہ سہارا کب تک کسی دوسرے موقع پرست سے محفوظ رہتا ہے؟ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

چلے تھے مغربی بنگال پر فتح کا پرچم لہرانے، لیکن پتا چلا کہ اپنا ہی قلعہ ہاتھ سے کھسکنے لگا ہے۔ ’کھیلا‘ کولکاتا میں کرنا چاہتے تھے مگر کھلاڑی گوہاٹی میں داؤ لگانے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ جی ہاں! کہا تو یہی جا رہا ہے کہ ہفتے بھر کی عرق ریزی کے بعد ہیمنت بسوا سرما کو وزیراعلیٰ بنانے کا اعلان کرکے بی جے پی نے آسام کے اپنے قلعے کو بچالیا ہے، مگر سچائی یہ ہے کہ اس قلعے کے بارودی سرنگ میں ایک ایسی چنگاری پیدا ہوگئی ہے جو کسی بھی وقت دھماکے کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ ہیمنت بسوا سرما کے وزیراعلیٰ بننے کی صورت میں سربانند سونووال کے خیمے میں ظاہر ہے بغاوت کا علم بلند ہوگا جو سرما کے لیے ہی نہیں بلکہ بی جے پی کے لیے بھی پریشان کن ہوگا۔ موقع پرستی ومفاد پرستی کی جدوجہد دراصل بغاوت وخریدوفروخت سے ہی عبارت ہوتی ہے، جس کا تجربہ بی جے پی سے زیادہ بھلا کس پارٹی کو ہوسکتا ہے۔ اگر آسام میں بی جے پی نے ہیمنت بسوا سرما کو وزیراعلیٰ نہیں بنایا ہوتا تو ممکن تھا کہ وہاں وہ کھیل شروع ہوچکا ہوتا جو اس سے قبل گوا، کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کھیل چکی ہے۔

بی جے پی ہیمنت بسوا سرما کو وزیراعلیٰ نہیں بنانا چاہتی تھی۔ بی جے پی ہی نہیں آر ایس ایس بھی سرما کو وزیراعلیٰ کا عہدہ نہیں دینا چاہتی تھی۔ بی جے پی و آر ایس ایس پوری طرح سونووال کے حق میں تھے، مگر گوہاٹی میں بی جے پی کے ممبرانِ اسمبلی کی میٹنگ سے جو واضح اشارے باہر آئے، وہ دہلی سمیت ناگپور کو بھی تشویش میں مبتلا کرنے کے لیے کافی تھے۔ گوہاٹی کے لائبریری آڈیٹوریم میں بی جے پی کے نومنتخب ممبرانِ اسمبلی کی میٹنگ میں ہیمنت بسوا سرما کو سربراہ منتخب کرلیا گیا تھا۔ سرما کا یہ انتخاب دہلی میں ان کے وزیراعلیٰ بنائے جانے کے اعلان سے قبل ہی ہوگیا تھا اور یہ سب مرکزی وزیر زراعت نریندرسنگھ تومر کی موجودگی میں ہوا جو اس میٹنگ میں مرکزی بی جے پی کی جانب سے نگراں کے طور پر موجود تھے۔ بی جے پی کے تمام ممبرانِ اسمبلی نے متفقہ طور پر سرما کے ساتھ ہونے اور ساتھ دینے کا نعرہ بھی لگایا۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ اب اگر ہیمنت بسوا سرما کو وزیراعلیٰ نہیں بنایا گیا تو گوہاٹی میں ’کھیلا‘ ہوجائے گا اور یہ کھیلا بی جے پی کو بنگال سے زیادہ ہزیمت سے دوچار کر دے گا۔


ہیمنت بسوا سرما وزیراعلیٰ بننے کے لیے ہی 2016 میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ ریاست میں اس وقت کانگریس کے ترون گوگوئی وزیراعلیٰ تھے، جن کی موجودگی میں کسی اور کا وزیراعلیٰ بننے کا موقع ذرا کم ہی تھا۔ بہر حال سرما نے 2016 کے اسمبلی انتخاب سے قبل ہی کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ سرما کو ایسا لگا کہ اگر ریاست میں بی جے پی اقتدار میں آجائے گی تو وہ وزیراعلیٰ بن جائیں گے۔ اس وقت خبریں یہ بھی آئیں تھیں کہ بی جے پی نے انہیں وزیراعلیٰ بنانے کے وعدے پر ہی کانگریس سے بغاوت پر آمادہ کیا تھا۔ شاید یہی وجہ رہی کہ سرما نے ریاست میں بی جے پی کو کامیاب کرانے میں بھرپور محنت کی۔ بی جے پی جس کے پاس صرف 26 سیٹیں تھیں اور 2016 کے الیکشن میں سرما کی مدد سے 86 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ سرما کو یقین تھا کہ انہیں ہی وزیراعلیٰ بنایا جائے گا، مگر چونکہ آر ایس ایس کے منظور نظر سونووال تھے، اس لیے پارٹی میں بغاوت کا حوالہ دے کر سرما کو خاموش کر دیا گیا اور سوونوال کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا۔

لیکن اس بار سرما کی سمجھ میں دہلی اور ناگپور دونوں کا کھیل آگیا اور انہوں نے کچھ ایسی بساط بچھائی کہ وزیراعلیٰ کے فیصلے کا اختیار اگر دہلی کے ہاتھوں میں رہا تو بازی اہلِ گوہاٹی کے ہاتھوں میں رہی۔ وزیراعلیٰ کے قضیے کا فیصلہ کرنے کے لیے بی جے پی صدر جے پی نڈا و امت شاہ نے سونووال اور سرما کو دہلی طلب کیا۔ دونوں چارٹرڈ طیارے سے دہلی پہنچے جہاں پہلے ان سے علاحدہ علاحدہ اور پھر ایک ساتھ بٹھا کر میٹنگ کی گئی۔ اس میٹنگ میں کیا باتیں ہوئی؟ اس کی خبر اس وقت تو باہر نہیں آسکی، مگر جے پی نڈا سے ہیمنت سرما ملنے کے فوراً بعد سونووال کا ملاقات کے لیے پہنچنا، یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ اس بار بھی سونووال کا ہی انتخاب ہوگا۔ مگر گوہاٹی پہنچ کر سرما نے اپنا جو پانسہ پھینکا، اس کے سامنے پوری کی پوری بی جے پی ڈھیر ہوگئی۔


بی جے پی خود کو ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی قرار دیتی ہے۔ وہ خود کو سب سے بڑی سنسکاری پارٹی بھی کہتی ہے جس کے یہاں نسل پرستی اور خواہشِ اقتدار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر بنگال میں مکل رائے اپنے درجنوں حامیوں کے ساتھ بی جے پی کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں اور آسام میں ہیمنت بسوا سرما بغاوت کا علم کیوں تقریباً بلند کرچکے تھے؟ کیا یہ ملک کی محبت اور عوام کی خدمت میں بی جے پی میں شامل ہوئے تھے کہ جب وہ اپنے مقصد میں ناکام ہوتے نظر آئے تو باغیانہ تیور اختیار کرلیا؟ تو اس کا جواب اس سیاسی مفاد پرستی میں ہی پوشیدہ ہے جس کا مظاہرہ گزشتہ سات آٹھ برسوں سے کچھ زیادہ ہی ہو رہا ہے۔ سبھی پارٹیوں کے مفاد پرست کسی نہ کسی طرح بی جے پی میں شامل ہوتے چلے گئے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ بی جے پی مفاد پرستوں و موقع پرستوں کی ایک ایسی پارٹی بن گئی ہے کہ جس کے یہاں اقتدار کا حصول ہی بس اولین معراج ہے۔ پھر چاہے وہ خریدوفروخت سے حاصل ہو یا پھر لاشوں پر کھڑے ہوکر، بس اقتدار اولین شرط ہے۔ آسام کے ہیمنت بسوا سرما بھی اسی شرط پر بی جے میں شامل ہوئے اور بنگال کے مکل رائے بھی۔ یہ اگر اپنے مقصد میں ناکام ہونے کی صورت میں بی جے پی کو خیرباد بھی کہہ دیتے ہیں تو بھی ان کی موقع پرستی کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ آسام میں بی جے پی نے اپنی گرتی ہوئی دیوار کو سرما کو وزیراعلیٰ بنانے کا اعلان کرکے سہارا تو ضرور دے دیا ہے، مگر یہ سہارا کب تک کسی دوسرے موقع پرست سے محفوظ رہتا ہے؟ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔