بنگال کا جادو اور گجرات کا ڈھوکلا... اعظم شہاب

مغربی بنگال کے جادو نے گجرات کے اس ڈھوکلے کو نہ صرف نگل لیا ہے بلکہ ہضم بھی کرلیا ہے، جس کا سپنا دکھا کر الیکشن میں کامیابی حاصل کی جاتی تھی۔

ممتا بنرجی، تصویر یو این آئی
ممتا بنرجی، تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

بنگال میں کمل کھلانے کے لیے ہمارے پردھان سیوک کو کیا کیا جتن اور کیا کیا سوانگ رچانے پڑے، مگر بنگال کا جادو تھا کہ کمبخت بنگالیوں کے سر سے اترا ہی نہیں۔ گرودیو رابندرناتھ ٹیگور سے لے کر نیتاجی سبھاش چندر بوس تک، سوروگنگولی سے لے کر متھن چکرورتی تک اور ووٹوں کے پولرائزیشن سے لے کر ممتا بنرجی پر حملے تک ایسا کون سا کھیل تھا جو بنگال کو جیتنے کے لیے نہیں کھیلا گیا، مگر دیدی کی بازی کے سامنے سبھی داؤ الٹے پڑگئے۔ اہل بنگال نے اپنی حقِ رائے دہی کے استعمال سے یہ ثابت کر دیا کہ گرودیو و نیتاجی سے وہ یقیناً بے پناہ محبت وعقیدت رکھتے ہیں مگر ان کے سیاسی استعمال کی اجازت وہ ہرگز نہیں دیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بی جے پی اپنی پارلیمانی الیکشن کی کامیابی تک بھی نہیں پہنچ سکی۔

2 سال قبل پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی نے کل 18 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ ان 18 پارلیمانی سیٹوں کو اگر اسمبلی کی سیٹیوں میں تقسیم کریں تو 120 سیٹیں ہوتی ہیں۔ یعنی کہ پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی 120 سیٹوں پر کامیاب ہوئی تھی۔ بی جے پی نے یہ سوچا کہ مزید 70 سے 80 سیٹیں حاصل کرکے وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ مگرجس طرح یہ ضروری نہیں ہے کہ داڑھی اور سرکے بال بڑھا لینے سے ہرکوئی گورودیو ہوجائے اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ بی جے پی نے جو سوچا تھا وہ پورا ہو ہی جائے۔ سو بی جے پی 120 سیٹوں سے سمٹ کر 77 سیٹوں پر آگئی۔ یعنی کہ 2019 کے بالمقابل بی جے پی کو اس الیکشن میں واضح ناکامی ملی ہے۔ دوسری جانب ملک کے وزیراعظم، وزیر داخلہ اور دنیا کی سب سے بڑی اورمالدار پارٹی کی بھرپور محنت کے باوجود ممتا بنرجی نہ صرف اپنا قلعہ بچانے میں کامیاب ہوئیں، بلکہ اپنی سیٹوں کی تعداد بھی بچالی۔ اگر کچھ نقصان ہوا تو کانگریس اوربائیں بازو کی پارٹیوں کا ہوا، جنہوں نے گزشتہ اسمبلی الیکشن میں بالترتیب 44 اور 26 سیٹیں حاصل کی تھیں، جن کی سیٹیں اس بار بی جے پی کے خیمے میں کھسک گئی ہیں۔

بنگال جیتنے کے لیے ہمارے پردھان سیوک جی نے بہت محنت کی تھی۔ ایک ایک دن میں کئی کئی ریلیاں کررہے تھے۔ آواز وغیرہ بیٹھ گئی تھی۔ سر اور داڑھی کے بال کٹوانے کی فرصت ہی نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے وہ کافی لمبے ہوگئے۔ کچھ بدخواہ تو کہتے ہیں کہ مودی جی بنگال جیتنے کے لیے گرودیو کا سا حلیہ بنانے میں جٹ گئے تھے، مگر مجھے اس پر یقین نہیں ہے۔ یہ ہمارے مودی جی کا اسٹائل تھا، اب اگر گرودیو کا بھی یہی اسٹائل تھا تو اس میں بھلا مودی جی کا کیا قصور؟ مودی جی کے علاوہ امت شاہ و جے پی نڈا نے بھی بہت محنت کی۔ انہوں نے تو اعلان کر دیا تھا کہ بی جے پی 200 سیٹیں جیت رہی ہے، بس اعلان باقی ہے، اس کے بعد ہم وہاں سرکار بنانے جا رہے ہیں۔ شاہ صاحب نے تو سی اے اے و این آرسی کا بگل بھی بجایا، یوگی جی بھی پدھارے اور درگا و رام کے حوالے سے ووٹ مانگے، یہاں تک کہ ہمارے شیوراج ماما بھی ’پریوورتون‘ کرنے پہنچے اور اعلان کیا کہ’2 مئی کو دیدی گئی ‘مگر ممتا بنرجی اپنے پورے طنطنے کے ساتھ کولکاتا میں موجود ہیں، البتہ ماماجی کہیں نظر نہیں آئے۔

نندی گرام سے ممتا بنرجی اپنے یہاں کے باغی اور بی جے پی کے امیدوار سوویندھو ادھیکاری کے خلاف میدان میں اترکر پورے مغربی بنگال کے لوگوں کو یہ پیغام دے دیا تھا کہ بی جے پی کو اپنے جس امیدوار پر سب سے زیادہ اعتماد ہے، اسے وہ گھر میں گھس کر ہرائیں گی۔ ممتا کی اس ادا نے بنگال کے لوگوں کو ان کا اس قدر فریفتہ کر دیا کہ پولرائزیشن کی تمام تر کوشش کے باوجود وہ ٹی ایم سی سے وابستہ رہے۔ بی جے پی نے یہ سوچ لیا تھا کہ پولرائزیشن کی اس کی سیاست ہمیشہ ہی کامیاب رہے گی جو اس کی غلطی ثابت ہوئی۔ گوکہ پارلیمانی الیکشن میں پورے ملک میں پھیلی فرقہ واریت نے بنگال میں بھی اپنا اثر دکھایا تھا، مگر یہ کوشش اس بار ممتا بنرجی کی ’ما، ماٹی مانوش‘ کو نہیں ہرا سکی۔ بی جے پی کی اس درگت کی ایک دوسری بڑی وجہ الیکشن کمیشن کا علانیہ طور پر بی جے پی کی حمایت میں اتر جانا تھا۔ مغربی بنگال کے عوام جو کسی حد تک ممتا بنرجی کی حکومت کی بداعمالیوں سے نالاں ہوکر بی جے پی کے تئیں اپنے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنے لگے تھے، الیکشن کمیشن کے رویے نے انہیں اس قدر مایوس کیا کہ وہ دوبارہ ٹی ایم سی کی جانب پلٹ گئے۔

بنگال کے نتیجے کو دیکھتے ہوئے یہ صاف طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اب ملک میں پولرائزیشن کی سیاست کے لیے بہت زیاد موقع نہیں بچا ہے۔ ملک کے عوام اب بی جے پی کو کسی نہ کسی حدتک سمجھنے لگی ہے، مگر وہ کوئی مضبوط متبادل نہیں پا رہی ہے۔ عوام کے سامنے موجود متبادل کو ہمارے قومی میڈیا نے ایک ویلن سا بنا دیا ہے، یعنی کہ ہماری میڈیا گزشتہ 7 سالوں سے ملک کے لوگوں کو یہ بتانے میں اپنی پوری قوت صرف کر رہی ہے کہ آج ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار حکومت نہیں بلکہ وہ متبادل دوسرے لفظوں میں اپوزیشن ہے۔ مگر اب عوام رفتہ رفتہ میڈیا کے اس مفروضے کو سمجھنے لگے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ مغربی بنگال کے جادو نے گجرات کے اس ڈھوکلے کو نہ صرف نگل لیا ہے بلکہ ہضم بھی کرلیا ہے جس کا سپنا دکھا کر الیکشن میں کامیابی حاصل کی جاتی تھی۔ بنگال نے آج جو محسوس کیا ہے اور جو نتیجہ ملک کے سامنے پیش کیے ہیں وہ کل پورے ملک کی سوچ اور پورے ملک کا نتیجے ہوسکتے ہیں۔

(مضمون میں درج مواد مضمون نگار کی ذاتی رائے پر مشتمل ہے، اس سے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔