ہیٹ اسپیچ معاملہ: کیا سابق فوجی سربراہوں کی اپیل بھی رائیگاں چلی جائے گی؟… سہیل انجم

حکومت کو چاہیے کہ اگر اس نے انسانی حقوق اور تجزیہ کاروں کی اپیلوں پر کان نہیں دھرا تو کم از ان فوجی افسروں کی اپیل پر تو ایکشن لے۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ہندوستان اور پاکستان کے نظام حکومت میں یہ فرق ہے کہ پاکستان میں حکومت کے معاملات میں فوج کو بے انتہا دخل حاصل ہے۔ وہاں کوئی بھی اہم فیصلہ فوج کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ پاکستان کی زندگی کا نصف عرصہ تو فوجی بوٹوں کے سائے میں گزرا ہے۔ جب بھی وہاں کی فوج یہ تصور کر لیتی ہے کہ جمہوری انداز میں منتخب حکومت کام نہیں کر رہی ہے یا اس کے مطابق کام نہیں کر رہی ہے تو وہ فوراً ایکشن میں آجاتی ہے اور منتخب حکومت کا تختہ پلٹ کر خود اس پر قابض ہو جاتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جنرل پرویز مشرف آخری فوجی صدر ثابت ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے بعد اگر چہ فوج براہ راست حکومت میں نہیں ہے لیکن بالواسطہ طور پر وہی حکومت کر رہی ہے۔

لیکن ہندوستان میں فوجی ادارہ سیاست سے بالکل الگ رہتا ہے۔ یہاں جمہوریت کی جڑیں اتنی گہرائی تک پیوست ہیں کہ فوج حکومت کے معاملات میں مداخلت کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کی فوج بعض استثناؤں کو چھوڑ کر عوامی معاملات میں بھی اپنی کوئی رائے نہیں رکھتی۔ ہاں بعض فوجی افسران اپنے عہدوں سے سبکدوش ہونے کے بعد تجزیہ کار بن جاتے ہیں اور اخبارات میں مضامین لکھتے یا ٹی وی چینلوں پر مباحثوں میں شرکت کرتے ہیں۔ لیکن ایسے افسران کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ اس لیے فوج کا جب کوئی بڑا افسر خواہ وہ ریٹائرڈ ہی کیوں نہ ہو کوئی بیان دیتا ہے تو اس کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔


ہری دوار اور پھر رائے پور میں نام نہاد دھرم سنسدوں اور دہلی میں ہندو راشٹرا کے قیام کے لیے حلف دلوانے کے ایک پروگرام نے فوج کے سابق اعلی عہدے داروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہری دوار میں منعقد ہونے والے دھرم سنسد میں جس طرح ہندووں سے ہتھیار اٹھانے اور مسلمانوں کی نسل کشی کی اپیل کی گئی ہے اس نے صورت حال کو بہت تشویش ناک بنا دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام مبصرین کی جانب سے ان دھرم سنسدوں اور ان میں کی جانے والی باتوں کی مخالفت تو کی جا رہی ہے لیکن اب ہندوستان کی تینوں مسلح افواج کے سابق سربراہوں نے جس طرح اپنی تشویش ظاہر کی ہے اور حکومت اور عدلیہ سے کارروائی کی اپیل کی ہے وہ اپنے آپ میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔

ان کو یہ اپیل اس لیے کرنا پڑی کہ ایک عشرہ گزر جانے کے باوجود ان لوگوں کے خلاف اس طرح کارروائی نہیں کی جا رہی ہے جیسے کہ کی جانی چاہیے۔ حالانکہ رائے پور میں ہونے والی دھرم سنسد میں ایک نام نہاد سنت کالی چرن داس نے گاندھی جی کے بارے میں جو توہین آمیز لب و لہجہ اختیار کیا تھا اس کی وجہ سے اسے تو گرفتار کیا گیا لیکن ہری دوار میں کسی کی گرفتاری تادم تحریر عمل میں نہیں آئی ہے۔ اگرچہ ایک ایف آئی آر درج کی گئی اور اس میں چار افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں لیکن وہاں کی پولیس اور ریاستی کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت نے جس طرح ان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے اس نے ملک کے سنجیدہ اور امن پسند طبقات کو فکرمندی میں مبتلا کر دیا ہے۔


ان نام نہاد دھرم سنسدوں میں جس طرح نفرت انگیز تقاریر کی گئیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ریاستی حکومت بھی فوری طور پر کارراوئی کرتی اور مرکزی حکومت بھی کرتی۔ اگر یہ دونوں حکومتیں خاموش رہتیں تو سپریم کورٹ کو از خود کارروائی کرکے ایکشن لینا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور اب تک نہیں ہوا ہے اور حکومتوں اور پولیس محکمہ کا جو رویہ ہے اس سے نہیں لگتا کہ کوئی سخت قدم اٹھایا جائے گا۔ ایسے میں تینوں مسلح افواج کے سابق سربراہوں نے اقدام کیا ہے اور صدر رام ناتھ کووند، نائب صدر ایم وینکیا نائڈو، وزیر اعظم نریندر مودی، چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا اور بیشتر سیاسی جماعتوں کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے اور نفرت انگیز تقریروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مذکورہ خط پر سابق چیف آف اسٹاف ایڈمرل لکشمی نرائن رام داس، ایڈمرل وشنو بھاگوت، ایڈمرل ارون پرکاش، ایڈمرل آر کے دھوون، ایئر چیف مارشل ایس پی تیاگی اور لیفٹیننٹ جنرل وجے اوبرائے (تمام ریٹائرڈ) نے دستخط کیے ہیں۔ دستخط کنندگان نے ہری دوار میں منعقدہ مذہبی اجتماع پر، جس میں اقلیتوں کو ہدف بنایا گیا تھا، توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے خط میں کہا کہ ہندوستان کی مسلح افواج، آرمی، بحریہ اور فضائیہ، مرکزی مسلح فورسز (سی اے پی ایف) اور پولیس ملک کی سلامتی (داخلہ اور خارجہ) کی ذمہ دار ہیں۔ ان تمام نے بھارت کے آئین اور سیکولر اقدار کا حلف لیا ہے۔


ان کے مطابق ہم لوگ 17 سے 19 دسمبر تک ہندو سادھووں اور دوسرے لیڈروں کی جانب سے ہری دوار میں منعقد کیے جانے والے مذہبی اجتماع سے جس کو دھرم سنسد کہا گیا، بہت پریشان ہیں۔ اجتماع میں ہندو اسٹیٹ کے قیام کی بار بار اپیل کی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ بوقت ضرورت ہتھیار اٹھائے جائیں اور ہندو ازم کے تحفظ کی خاطر بھارتی مسلمانوں کو ہلاک کیا جائے۔ تقریباً اسی موقع پر دہلی میں بڑی تعداد میں لوگ اکٹھا ہوئے اور کھلے عام ہندوستان کو ہندو اسٹیٹ بنانے کا حلف دلایا گیا اور ضرورت پڑنے پر لڑنے اور مرنے مارنے کا عہد کیا گیا۔ اس کے علاوہ دوسرے مقامات پر بھی ایسے ہی اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں۔

ریٹائرڈ فوجی عہدے داروں نے حکومت اور عدلیہ سے اپیل کی کہ ملکی مفاد میں اس معاملے پر فوری کارروائی کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ایسی اشتعال انگیزی، تشدد اور نفرت انگیز تقریروں کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ داخلی سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہوگا بلکہ سماجی تانا بانا بھی بکھر جائے گا۔ مقررین میں سے ایک نے فوج اور پولیس سے ہتھیار اٹھانے اور اس ”صفائی مہم“ میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ فوج سے اپنے شہریوں کی نسل کشی کے لیے کہنا قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔ اندرون ملک امن و امان اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے سے، بالخصوص ہندوستان کی سرحدوں کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر بیرونی دشمن طاقتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ہمارے تکثیری معاشرے میں کسی کے خلاف تشدد کی کھلی اپیل سے فوج کا باہمی اتحاد بری طرح متاثر ہوگا۔ لہٰذا ہم حکومت، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ ملک کی سلامتی اور یکجہتی کے تحفظ کی خاطر اس معاملے میں فوری طور پر کارروائی کی جائے۔


یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ کے 76 وکلا نے جن میں پٹنہ ہائی کورٹ کی ایک سابق چیف جسٹس بھی شامل ہیں چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کے نام ایک مکتوب میں اس معاملے پر از خود کارروائی اور تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت ایکشن لینے کی اپیل کی تھی۔

لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس خط سے بھی حکومت کے کانوں پر ابھی تک جوں نہیں رینگی ہے۔ جبکہ اس میں بہت واضح انداز میں کہا گیا ہے کہ اس صورت حال سے ملک کی داخلی سلامتی کو تو خطرات لاحق ہی ہوں گے بیرونی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ یعنی سرحدی محاذوں پر ہندوستان دشمن طاقتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ ملک کی نازک صورت حال سے فائدہ اٹھا کر کوئی بھی کارروائی انجام دے سکتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ کم از کم بیرونی محاذ پر تو حالات کو مستحکم رکھے اور وہاں کوئی کمزوری پیدا نہ ہونے دے۔ فوجی سربراہوں نے یوں ہی یہ خط نہیں لکھ دیا ہوگا بلکہ بہت سوچ سمجھ کر اور معاملے کے تمام پہلووں کا جائزہ لینے کے بعد ہی خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ سرحدوں کے بارے میں ان افسران کو جو کچھ معلوم ہوگا وہ عام لوگوں کو نہیں ہوگا۔


حکومت کو چاہیے کہ اگر اس نے انسانی حقوق اور تجزیہ کاروں کی اپیلوں پر کان نہیں دھرا تو کم از ان فوجی افسروں کی اپیل پر تو ایکشن لے۔ اگر ووٹ کی سیاست کی خاطر یہ سب کچھ کیا جاتا رہا تو یہ بات ملک کی اندرونی و بیرونی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔