اقلیتوں کو ڈرا کر اقتدار ہتھیانے کی کوشش!... نواب علی اختر

ایسی طاقتوں سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے سیاسی فائدہ کے لیے ملک کے سکیولر کردار کو مسخ کرنے پر آمادہ ہیں۔

ہندوستانی مسلمان / Getty Images
ہندوستانی مسلمان / Getty Images
user

نواب علی اختر

ملک اور ریاست کے ہر انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اقتدار تک پہنچنے کے لیے تمام سیاسی پارٹیاں اپنے ماضی اور حال کی کارکردگی بیان کرتی ہیں اور مستقبل کے منصوبوں کا اعلان کرتی ہیں، لیکن بی جے پی اور اس کے لیڈروں کی سیاست مختلف ہوتی ہے۔ اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ تقریباً ہر الیکشن سے پہلے بی جے پی اپنے مخالفین کو نشانہ بناکر ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے جب اس میں کامیابی نہیں ملتی ہے تو ریاستی انتخابات میں پاکستان کی انٹری کروا دی جاتی ہے اور جب یہ ہتھکنڈا بھی ناکام ہو جاتا ہے تو ہندو مسلمان، قبرستان اور شمشان جیسے اپنے ریزرو مدعے کے سہارے عوام کو تقسیم کرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ناپید کرنے کی کوشش کرکے اقلیت اور اکثریت کو آمنے سامنے لاکھڑا کرتی ہے۔ مگر اس بار انتخابات سے پہلے اترپردیش میں بی جے پی زیر قیادت یوگی حکومت نے تو حد ہی کر دی ہے۔

اترپردیش میں اپنی زمین کھسکتی دیکھ کر بی جے پی کی یوگی حکومت اب اکثریت کو اقلیتوں کے خلاف بھڑکانے والے ہتھکنڈوں کو اپنانے پر اتر آئی ہے جس کے لیے اخباروں میں اشتہار دے کر 2017 سے پہلے اور 2017 کے بعد کا فرق بتانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ متعدد اخبارات کے صفحہ اول پر ’فرق صاف ہے‘ عنوان سے شائع اشتہار میں دو تصاویر کا استعمال کیا گیا ہے جس میں گلے میں گمچھا ڈالے ایک نوجوان کو آگ بھڑکانے کی کوشش کرتے دکھایا گیا ہے جبکہ دوسرے نوجوان کو پولس اسٹیشن میں ہاتھ جوڑے دکھایا گیا ہے۔ اس اشتہار کے ذریعہ یہ بتانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے کہ 2017 سے پہلے ریاست میں دنگے ہوتے تھے، مگر 2017 کے بعد یوگی حکومت کی سختی کی وجہ سے فسادی معافی مانگ رہے ہیں۔


یہ سچ ہے کہ ریاست میں بی جے پی حکومت سے پہلے کئی فسادات ہوئے جس میں درجنوں لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہونے کے ساتھ ساتھ اربوں روپئے کی املاک تباہ ہوئیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کسی بھی فساد کے ملزمین میں بی جے پی اور اس کی ذیلی تنظیموں کے انتہا پسند ہی ملزم بن کر سامنے آئے۔ 2013 کے مظفرنگر فسادات اس کی مثال ہیں جس میں بی جے پی کے ممبران اسمبلی پر سنگین الزامات لگے تھے اور ان پرعدالتوں میں کیس بھی چل رہے تھے، مگر یوگی حکومت کے آتے ہی تمام ملزمین کے دامن پر لگے ’خون کے دھبے‘ صاف کر دیئے گئے یہاں تک کہ انہیں الزامات سے بھی بری کر دیا گیا۔ اس صورتحال میں اگر یہ کہا جائے کہ 2017 سے پہلے جو لوگ فساد کرتے تھے، وہی حاکم اور منصف بن گئے ہیں تو شاید غلط نہیں ہوگا، حالات بھی یہی بتاتے ہیں ورنہ ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ اچانک فسادی غائب ہوجائیں۔

بی جے پی کی ڈرانے اور تقسیم کرنے والی سیاست عام ہے۔ لوگوں کو ڈرا کر اقتدار ہتھیانا زبان اور بیان میں ایکسپرٹ بی جے پی لیڈران کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔انہیں ترقی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے، ترقی کے نام پر یہ ووٹ بھی کم ہی مانگتے ہیں کیونکہ ان کی پوری میعاد تو ہندو مسلمان، مندر- مسجد میں ہی گزر جاتی ہے، ترقی کی باتیں کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا ہے۔ اور اگر کوئی بے روزگاری، مہنگائی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اسے جواب میں لاٹھی ڈنڈے ملتے ہیں، خواتین کی حفاظت رام بھروسے ہے۔ پھر بھی ’مودی ہے توممکن ہے‘، سوچ ایماندار، کام دمدار‘ کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ جس ریاست کا وزیراعلیٰ خود لوگوں کو دھمکی دے اور نائب وزیراعلیٰ فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے والا بیان دے، اس ریاست کے حکمران سے ترقی کی امید کرنا بھی فضول ہے۔


اترپردیش میں ہونے والے انتخابات کے مد نظر بی جے پی لیڈروں کے زبان اور بیان سے صاف ہے کہ سماج میں ڈر اور خوف پیدا کرنا ہی ان کی سیاست ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ سے نوجوانوں کو ورغلا کر ان کا استحصال کرتے ہوئے اقلیتوں کے خلاف اکسانے کا ایک نیا اور خطرناک سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ سماج میں نفرت کو ہوا دی جا رہی ہے، تشدد کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ماحول کو پراگندہ کیا جا رہا ہے۔ اس ساری صورتحال نے عام شہری کو اور قانون کی پابندی کرنے والوں کو متفکر کر دیا ہے۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آیا حکومتیں قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا بھی چاہتی ہیں یا نہیں۔ یہ سیاسی جماعتیں اور حکومتیں ہی ہیں جو ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کر رہی ہیں۔ سماج کے امن و آہنگی کو داؤ پر لگاتے ہوئے اقتدار کے مزے لوٹے جا رہے ہیں۔

ملک میں جس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں ان کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں ملک کی رسوائی اور بدنامی ہو رہی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان عناصر کے ساتھ حکومتوں کو بھی ملک کے نام کی بھی کوئی پرواہ نہیں رہ گئی ہے۔ اقلیتوں کے خلاف حکومتیں بھی امتیازی رویہ اختیار کرچکی ہیں۔ معمولی باتوں پر اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو انتہائی سنگین بلکہ غداری کے مقدمات میں ماخوذ کرتے ہوئے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور جو لوگ اقلیتوں کے قتل عام کے لیے ورغلاتے ہیں اور عیسائیوں کی عبادتگاہوں کو تہس نہس کر دیتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کے معاملے میں تذبذب کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔


مرکزی حکومت ہو کہ ریاستی حکومتیں ہوں انہیں اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے حرکت میں آنا چاہئے۔ طویل خاموشی سے فرقہ پرستوں اور جنونیوں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ ملک کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔ اس کو بہتر رکھنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ انہیں ادنی سے سیاسی مفادات کے لیے ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ جو عناصر سماج میں نفرت کو ہوا دے رہے ہیں ان کی سیاسی وابستگی کا لحاظ کئے بغیر ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف ان عناصر کی بلکہ ان جیسے دوسرے کئی گوشوں کی حوصلہ شکنی ہو اور ملک کا امن متاثر ہونے نہ پائے۔ ہندوستان کی تاریخ رہی ہے کہ ترقی اور عوامی فلاح وبہبود کرنے والی حکومتیں طویل مدت تک اقتدارمیں رہی ہیں کیونکہ انہیں عوام کی حقیقی حمایت حاصل ہوتی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ دہلی کے اقتدار کا راستہ اترپردیش سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس لئے ہر سیاسی پارٹی کے لیے اترپردیش کے اسمبلی انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ہر پارٹی کو یہاں کی سیاسی اہمیت کا بھی اندازہ ہے۔ ایسے میں سیاسی جماعتوں کے ہتھکنڈوں اور ان کی پالیسیوں و حکمت عملی سے قطع نظر ریاست کے رائے دہندگان کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان کی سیاسی بصیرت کو یہاں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ عوام کو اپنے بنیادی مسائل پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ فرقہ وارانہ منافرت اور نزاعی مسائل میں الجھنے اور اپنی اور ریاست کی ترقی کو متاثر کرنے کی بجائے ترقیاتی امور کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے۔ ایسی طاقتوں سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے سیاسی فائدہ کے لیے ملک کے سکیولر کردار کو مسخ کرنے پر آمادہ ہیں۔


ایسے عناصر کو مسترد کیا جانا چاہئے جو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور عوام کو سہولیات میسر کروانے کی بجائے ہندو۔ مسلم کارڈ کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں۔ عوام کو مہنگائی سے راحت دلانے کی بجائے مندر۔ مسجد کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار اور ملازمتیں فراہم کرنے کی بجائے قبرستان۔ شمشان کے تذکرے کرتے ہیں۔ ہولی اور دیوالی کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ سماج میں تفرقہ پیدا کرتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسے عناصر ملک اور ریاست کی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔