ہری دوار کی ’دھرم سنسد‘ میں ’دہشت گردی‘... نواب علی اختر

اگر ہم میں سے 100 ہندو بھی ان (مسلمانوں) میں سے 20 لاکھ کو مارنے کے لیے تیار ہو جائیں، تب بھی ہماری فتح ہوگی۔

تصویر ٹوئٹر
تصویر ٹوئٹر
user

نواب علی اختر

ملک کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے ہری دوار میں اکثریتی طبقہ کے نام نہاد مذہبی ٹھیکیداروں کی تحریک پر بھگوا سیاست اور مسلم مخالف زہر آلود عقائد و نظریات کو پروان چڑھانے والے خود ساختہ مذہبی قائدین کی ایک بڑی تعداد کی شرکت پر مشتمل ’دھرم سنسد‘ یعنی دھارمک پارلیامنٹ منعقد کی گئی۔ دھرم سنسد کا منعقد ہونا یا کیا جانا کوئی برا نہیں ہے مگر دھرم کے نام پرعام لوگوں کو قتل کرنے اور انتہا پسندی کے لیے اکسانا مہذب سماج میں خطرناک نوعیت کی دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ ہندوستان متعدد اور مختلف مذاہب و عقائد اور تہذیب و ثقافت والا ملک ہے اور یہاں تمام مذاہب کو ایسے مذہبی تبلیغ و تشہیر یا مسائل سے متعلق جلسے منعقد کرنے کا حق حاصل ہے۔

اس کے برعکس جب کسی مذہب کے خود ساختہ ٹھیکیدار ایسی ’دہشت سنسد‘ سے ملک کی گنگا-جمنی تہذیب اور سینکڑوں سالوں سے ہم آہنگ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی متحدہ مشترکہ وراثت کو برباد اور ہنستے کھیلتے سماج کو خون کے آنسو رلانے کی غرض سے اعلانیہ سرکاری سرپرستی میں مسلم اقلیت کے خلاف اشتعال انگیز زہر افشانی کریں اور اکثریتی طبقہ کے بھولے بھالے نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے کے لیے اکسائیں اور للکاریں، بلکہ انتہا پسند عزائم کی ساری حدیں پار کرکے میانمار کی طرح مسلمانوں کے منصوبہ بند اجتماعی قتل عام کی ترغیب کا مجرمانہ اعلان کریں تو یہ ’دھرم سنسد‘ نہ ہو کر ایک منصوبہ بند سازش اور راکشش ’راون‘ جیسی انتہا پسندی کی نظیر معلوم ہوتا ہے۔


انتہا پسند سادھو سنتوں کا یہ اقدام و عمل صرف مسلموں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے امن و سلامتی کو ملیامیٹ کر دینے والے ایک سنگین خطرے کی گھنٹی بجاتا محسوس ہوتا ہے۔ ایسی خطرناک گھنٹی سے مرکزی اور ریاستی دونوں حکومتوں کو قبل از وقت خبردار اور ہوشیار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔’ دھرم سنسد‘ کے وائرل ویڈیو میں اکثریتی طبقہ کے معروف بھگوا دھاری سنت اور سادھویوں بنام سوامی پر بودھا نند، دیپک تیاگی عرف یتی نرسمہا نند، اشونی اپادھیائے، اپورنا نند دیوی، جتیندر تیاگی عرف وسیم کے ذریعہ اعلانیہ آئین ہند و قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف جس طرح کی اشتعال انگیز شعلہ فشانی اور زہر آلود للکاریں بلند کی گئیں اس سے مسلم قائدین و عمائدین کا فکر مند ہونا لاحق ہے۔

افسوس صد افسوس کہ مسلمانوں کے خلاف یہ نفرت انگیز زہر فشانی صرف سادھو سنتوں سادھویوں یا دیگر بھگوا انتہا پسند عناصر تک ہی محدود نہیں رہ گئی ہے بلکہ یہ مرض اس حد سے آگے نکل کر مشہور کوی منوج منتشر جیسے کویوں اور فسطائیت پسند ہندو ادیبوں تک کی زبان و بیان کا عادی بن چکا ہے۔ دھرم نگری کہے جانے والے ہری دوار کی’ دھرم سنسد‘ میں جو کچھ غیر آئینی، غیر قانونی اور مجرمانہ اشتعال انگیز زہر فشانی کی گئی ہے اس سے پیدا ہونے والے سنگین خطرات کے پیش نظر مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو حرکت میں آنا چاہئے۔ ملک کے وزیر اعظم مودی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ از خود نوٹس لیکر ملک میں امن و سلامتی بحال رکھنے کو یقینی بنائیں اور ایسی دھرم سنسد کے منفی اور نفرتی پیغام کے سبب ملک کی عالمی سطح پر خراب ہوتی شبیہ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔


امن و سلامتی پر منڈلاتے خطرات کے بادل کے مد نظر بلا تاخیر ایسے شعلہ فشاں ملک دشمن عناصر خواہ مذہبی قائد ہوں یا سیاسی لیڈر اور کسی بھی قوم و مذہب سے تعلق رکھنے والے ہوں ان کے خلاف مطلوبہ قانونی کارروائی کرکے غیر جانبدارانہ طرز حکومت کا ثبوت فراہم کریں۔ اگر حکومت اور قانونی اقدام و عمل گونگے بہرے ثابت ہوئے تو یہ خاموشی منفی خطرات کا پیش خیمہ ہوگی۔ اس ملک کا مسلمان گزشتہ سینکڑوں سالوں سے اپنے خون پسینے کے ہر ایک قطرے سے ملک کو بہتر اور پرامن رکھنے کے ہر ممکن اقدام و عمل میں اپنی حصہ داری نبھاتا رہا ہے اور نبھاتا رہے گا۔ اکثریتی فرقہ کے تنگ نظر اور امن کے دشمن انتہا پسندوں کی جانب سے اکسانے یا برانگیختہ کرنے کی کوششوں پر دہشت گردوں کے دام میں پھنسنے کے بجائے پیدا کئے جا رہے حالات سے ہوشیار رہنا چاہئے۔

ہریدوار کی ’دھرم سنسد‘ سے کی گئی دہشت گردی اور اس پر حکومت اور انتظامیہ کی خاموشی سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ان دہشت گردوں کو ’اوپر‘ کی پشت پناہی حاصل ہے کیونکہ اگلے سال ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے مد نظر بھگوا بریگیڈ ہی سماج کو توڑنے، ملک میں نفرت کا بازار گرم کرنے والوں کے لیے ماحول سازی کرے گی۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ’دھرم سنسد‘ تو ابھی شروعات ہے، مستقبل میں ایسی اور بھی حرکتیں کی جاسکتی ہیں جس سے مسائل کے بوجھ تلے دبے عام آدمی پر سے توجہ ہٹا کر ہندو- مسلمان پر مرکوز کردی جائے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ کووڈ کی وبا، مہنگائی، بے روزگاری سے پریشان عام آدمی کی پریشانیاں حل کرنے کی بجائے انہیں دہشت گردی کے لیے اکسایا جا رہا ہے۔


ہری دوار میں نام نہاد مذہبی شخصیتوں کے اجلاس میں ملک میں نراج اور افرا تفری پیدا کرنے کی کھلے عام دھمکیاں دی گئی ہیں۔ مسلمانوں کو قتل کرنے کی باتیں ہوئیں اور ہندووں سے کہا گیا کہ وہ ہتھیار اٹھالیں۔ میانمار میں جس طرح مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کی نسل کشی کی گئی اسی طرح ہندوستان میں بھی اقدامات کرنے کی باتیں کہی گئیں۔ اجلاس میں ایک بھی بات مثبت یا تعمیری نہیں ہوئی بلکہ صرف قانون کی دھجیاں اڑانے اور ملک کا امن و امان متاثر کرنے اور نراج کی کیفیت پیدا کرنے کی تقاریر ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’دھرم سنسد‘ کے نام سے منعقد ہوا اجلاس ’دہشت سنسد‘ کہا جا رہا ہے۔

پیر سے جمعہ کے درمیان اترکھنڈ میں منعقد ہوئی ’دہشت سنسد‘ کو ختم ہوئے ایک ہفتہ ہونے والا ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان ایجنسیوں کی خاموشی پر سے شرپسندوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایسے دہشت پھیلانے والے عناصر کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ ملک میں دستور بچانے کے لیے تحریک چلانے والوں اور حکومت سے اختلاف کرنے والوں کو غداری کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیج دینے اور کئی برس تک ضمانتوں سے محروم رکھنے والی ایجنسیاں اور پولیس کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑانے اور ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے تعلق سے خاموشی اختیار کی ہوئے ہیں۔


اس طرح کے اجلاس اور زہر افشانی ہندوستان جیسے ہمہ جہتی ملک کے لیے اچھی علامت نہیں ہے۔ باوجود اس کے اس سنگین معاملے میں کارروائی کرنے سے انتظامیہ کو کون روک رہا ہے یہ ناقابل فہم ہے۔ مذہبی شدت پسندوں کو کیفر کردار تک پہنچاتے ہوئے نظم و قانون کو برقرار رکھنا پولیس کا اولین فریضہ ہے، قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے۔ اس کے باوجود یہ لوگ اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل میں ناکام نظر آرہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ بہت دیر ہوجائے۔ اتراکھنڈ انتظامیہ کو اپریل 2021 یاد کرنا چاہئے جب اکثریتی طبقہ کو خوش کرنے کے لیے وبا کے دوران ہریدوار میں کنبھ میلہ منعقد کرنے کی اجازت دے دی گئی اور پھر اس کے بعد کو جب ’کورونا بم‘ پھوٹا تو پورے ملک میں کہرام مچ گیا تھا اور یہ سب حکومت اور انتظامیہ کی لاپروائی کے سبب ہوا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔