یتی نرسنگھانند جیسے لوگوں کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟... سہیل انجم

حکومت کے ذمہ داروں کی خاموشی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان لوگوں کو ان کی حمایت حاصل ہے یا پھر ان کی تائید اور رضامندی سے ایسی باتیں کہی گئی ہیں۔

نام نہاد ہندو سنت یتی نرسمہا نند سرسوتی / تصویر بشکریہ دی اسکرال
نام نہاد ہندو سنت یتی نرسمہا نند سرسوتی / تصویر بشکریہ دی اسکرال
user

سہیل انجم

اتراکھنڈ کے ہری دوار میں گزشتہ دنوں جو زہریلی تقریریں کی گئیں ان کی صدائے بازگشت اب ہندوستان کی سرحدوں کو عبور کرکے دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی سنی جانے لگی ہے۔ اب تو عالمی میڈیا بھی ان تقریروں کی مذمت اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ لیکن ہندوستان کی حکومت گاندھی جی کے بندروں کی طرح چپ سادھے بیٹھی ہے۔ وہ گونگی اور بہری بھی ہو گئی ہے اور اندھی بھی۔ ایسا لگتا ہے جیسے نہ تو اس کے کانوں میں مقررین کے زہریلے بول پڑے ہیں اور نہ ہی اس کی آنکھوں نے دنیا بھر میں وائرل ہو جانے والی ویڈیوز ہی دیکھی ہیں۔

یہ کیسا طُرفہ تماشہ ہے کہ مغل بادشاہ اورنگزیب کے نام نہاد مظالم اور ان کی مبینہ دہشت گردی تو نظر آجاتی ہے لیکن چند روز قبل تقریریں کرنے اور مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی کال دینے والے یتی نرسنگھا نند اور سوامی پربودھانند دکھائی نہیں دیتے، جنھوں نے مسلمانوں کو ہندوستان سے ختم کرنے کی اپیلیں کی ہیں۔ اورنگزیب نے کیا کیا کیا نہیں کیا یہ سب تاریخ کے صفحات پر ثبت ہے اور ان واقعات کو صدیاں گزر گئی ہیں۔ اورنگزیب نے ظلم کیا یا انصاف اس پر مورخین نے صفحات کے صفحات سیاہ کر دیئے ہیں۔ لیکن آج کی تلخ حقیقتوں کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور جن پر وقت کی گرد بھی ابھی بیٹھی نہیں ہے۔ پھر بھی وہ نظر نہیں آرہی ہیں۔


یتی نرسنگھا نند کہتا ہے کہ تلوار سے کام نہیں چلے گا بلکہ ایک لاکھ روپے والا ہتھیار چاہیے۔ ایک لاکھ میں غالباً کلاشنکوف آتی ہوگی۔ گویا وہ کلاشنکوف سے مسلمانوں کے قتل عام کی بات کرتا ہے۔ اسی طرح بربودھا نند نامی نام نہاد سوامی کہتا ہے کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ ان کے صفائے اور تمام ہندووں کو ہتھیار اٹھا لینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں وہ برما کی مثال دیتا ہے اور کہتا ہے کہ وہاں ہندووں کا قتل عام کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہاں ہندووں کا قتل عام کیا گیا تو کیا وہ مسلمانوں نے کیا اور ہندوستان کے مسلمانوں نے کیا جو ان سے اس کا انتقام لینا ہے۔

اس کے مطابق اب یہ ہمارا ملک ہے۔ آپ نے دلّی بارڈر پر دیکھا کہ انھوں نے ہندووں کو مار ڈالا۔ اب اور وقت نہیں ہے۔ اب تم بھی مرنے مارنے کی تیاری کرو۔ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ میانمار کی طرح یہاں کے سیاست داں، فوج اور ہندووں سب کو ہتھیار اٹھا لینا چاہیے اور ہمیں صفائی مہم چلانی چاہیے۔ اسی طرح ایک نام نہاد سادھوی کہتی ہے کہ بیس لاکھ مسلمانوں کے قتل عام کے لیے صرف سو ہندووں کی ضرورت ہے۔ ان تمام مقررین نے مسلمانوں کی نسلی صفائی اور جیل جانے کے لیے تیار رہنے کی بات کہی۔


لیکن کئی روز گزر جانے کے باوجود حکومت اور پولیس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ اتراکھنڈ کے پولیس سربراہ اشوک کمار کہتے ہیں کہ یہ سب برداشت نہیں کیا جائے گا۔ لیکن کارروائی کوئی نہیں کی جاتی۔ دنیا کو دکھانے کے لیے ایک رپورٹ درج کی جاتی ہے لیکن اس میں زہر پھیلانے والے اصل کرداروں کے نام شامل نہیں کیے جاتے۔ ان کو دیگر کہا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ جانچ جوں جوں آگے بڑھے گی مزید نام جوڑے جائیں گے۔

پولیس صرف ایک شخص وسیم رضوی عرف جتیندر ناتھ تیاگی کا نام رپورٹ میں شامل کرتی ہے جس نے اسلام مذہب ترک کرکے ہندو دھرم اختیار کر لیا ہے۔ لیکن اس کا سابقہ مذہب اب بھی اس کی شناخت بنا ہوا ہے۔ جبھی تو اس کا نام رپورٹ میں شامل کیا گیا۔ حالانکہ وسیم رضوی کی کوئی ویڈیو یا آڈیو وائرل نہیں ہے۔ ویڈیو اور آڈیو تو یتی نرسنگھا نند، پربودھانند، اناپورنا اور دوسروں کے وائرل ہوئے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ ایک شخص کھلے عام اور بہ بانگ دہل اپنے اس گھناونے عزم کا اعلان کرتا ہے کہ اگر وہ ایم پی ہوتا اور اس کے پاس ریوالور ہوتا تو وہ چھ کی چھ گولیاں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے سینے میں اتار دیتا۔


ڈاکٹر من موہن سنگھ کا قصور کیا ہے؟ انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ ملک کے وسائل پر پہلا حق اقلیتوں کا ہے۔ لیکن مذکورہ نام نہاد سادھو کہتا ہے کہ من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ ملک کے وسائل پر پہلا حق اسلام کے ماننے والوں کا ہے۔ حالانکہ انھوں نے اقلیت لفظ استعمال کیا تھا اسلام کے ماننے والے نہیں اور اگر یہی کہا ہو تب بھی کیا ان کو قتل کرنے کے عزم کا اظہار کرنے والا اس طرح کھلے عام گھوم سکتا ہے۔ اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

حالانکہ اسی حکومت میں ایسے متعد واقعات ہوئے ہیں کہ اگر کسی نے وزیر اعظم نریندر مودی یا یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ یا وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف کوئی معمولی سا بھی بیان سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا تو اس کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ منور فاروقی کو ان لطائف کی بنیاد پر گرفتار کرکے ایک ماہ سے زائد جیل میں رکھا جاتا ہے جو اس نے سنائے بھی نہیں تھے۔ صرف کچھ لوگوں نے اس کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی تھی کہ وہ ہندو دیوی دیوتاوں کا مذاق اڑاتا ہے اور اپنے آئندہ پروگرام میں پھر مذاق اڑائے گا۔ بس اتنی سی بات پر اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔


کسی صحافی نے سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ ڈال دی کہ گوبر اور گو موتر سے کورونا کا علاج نہیں ہوتا تو اسے بھی گرفتار کر لیا گیا اور سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا۔ صحافی صدیق کپن کا کوئی جرم نہیں تھا۔ وہ ہاتھرس جا رہے تھے تاکہ جو واقعہ ہوا ہے اس کی رپورٹ کر سکیں لیکن انھیں گرفتار کر لیا گیا اور ان پر یو اے پی اے جیسا خطرناک قانون لگا دیا گیا۔ ایک سال سے زیادہ ہو گیا اور انھیں ابھی تک ضمانت نہیں ملی ہے۔

اسی طرح بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے موقع پر ہونے والے تشدد کے خلاف تری پورہ میں آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے مسلمانوں کے مکانوں، دکانوں اور مسجدوں کو جلایا لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ بلکہ جن لوگوں نے جلتی مسجدوں کی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی ان کو گرفتار کر لیا گیا اور ان پر یو اے پی اے لگا دیا گیا۔ جن صحافیوں نے وہاں پیش آنے الے واقعات کی رپورٹنگ کرنا چاہی ان کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں دو خاتون صحافی بھی شامل ہیں۔ ان واقعات کی چھان بین کرنے کے لیے جانے والی وکلا کی ٹیم کے چار ارکان پر بھی یو اے پی اے لگا دیا گیا۔


لیکن ہری دوار میں تقریریں کرنے والوں کے خلاف معمولی سی بھی کارروائی نہیں ہوئی۔ اتراکھنڈ کے پولیس سربراہ کہتے ہیں کہ چونکہ ان کی تقریروں سے کوئی تشدد نہیں پھوٹا لہٰذا ان پر یو اے پی اے نہیں لگایا جا سکتا۔ تو کیا وہ یہ بتائیں گے کہ تری پورہ میں جانے والے صحافیوں اور وکلا کے کن اقدامات سے تشدد پھوٹا اور ان میں ملک کا کیا کیا تباہ ہوا یا ان کے اقدامات سے ملک میں کہاں کہاں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی اور لوگوں میں نفرت کی بنیاد پر کہاں تقسیم ہوئی۔

اگر ہری دوار کی تقریروں کو صحیح مان کر کوئی بھی شخص ہتھیار لے کر نکل جائے اور لوگوں کا قتل عام کرنے لگے تب پولیس کارروائی کرے گی۔ کہاں ایک طرف بے ضرر پوسٹوں کی بنیاد پر سخت ترین کارروائیاں اور کہاں ملک کی دوسری بڑی اکثریت کو تہہ تیغ کرنے کی اپیلیں۔ اور پھر بھی مرکزی حکومت خاموش ہے۔ اتراکھنڈ کی حکومت خاموش ہے۔ یو پی کی حکومت چپ ہے۔


کیا آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے بھی کانوں میں یہ زہریلی باتیں نہیں پڑی ہیں۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ جو ہندو مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی بات کرے وہ ہندو نہیں ہے اور یہ کہ ہندووں اور مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہے۔ صرف طریقہ عبادت میں اختلاف کی وجہ سے کسی سے دشمنی نہیں کی جا سکتی۔ لیکن دوسری طرف مسلمانوں کو مارنے کاٹنے کی باتیں ہوتی ہیں اور پھر بھی وہ چپ رہتے ہیں۔

حکومت کے ذمہ داروں کی خاموشی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان لوگوں کو ان کی حمایت حاصل ہے یا پھر ان کی تائید اور رضامندی سے ایسی باتیں کہی گئی ہیں۔ دوسری طرف ملک کے سنجیدہ طبقات کی جانب سے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کے مطالبے کیے جا رہے ہیں۔ سابق فوجی اور پولیس افسروں اور انسانی حقوق کے نمائندوں اور کارکنوں نے سخت ترین کارروائیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن وائے افسوس تادم تحریر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔


ایسا محسوس ہوتا ہے اور مبصرین اور تجزیہ کار کہہ بھی رہے ہیں کہ یہ خاموشی اس لیے ہے کہ حکومت اور سنگھ پریوار کو لگتا ہے کہ اس کی وجہ سے عوام میں مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہوگی اور بی جے پی کو ہندو ووٹ مل جائے گا۔ ان کے مطابق اترپردیش میں بی جے پی کی حالت پتلی ہے اور وزیر اعظم اور دوسروں کو کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا ہے۔ لہٰذا ان کے خیال میں ووٹوں کی حصولیابی کا یہ ایک اچھا بہانہ ہے۔ لہٰذا کوئی کارروائی نہ کی جائے اور اس کی آڑ میں ووٹوں کی فصل کاٹی جائے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ ووٹوں کی حصولیابی کی یہ سیاست ملک کو تباہ و برباد کر دے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔