ہند ۔ بنگلہ دیش رشتوں میں پہلے جیسی گرمجوشی کیوں نہیں رہی؟... سہیل انجم

ہندوستان کو چاہیے کہ یوں تو تمام ہمسایہ ملکوں سے اس کے رشتے خراب ہو گئے ہیں لیکن وہ کم از کم بنگلہ دیش کے ساتھ تو اپنے رشتے بہتر رکھے۔

ہند-بنگلہ دیش تعلقات / آئی اے این ایس
ہند-بنگلہ دیش تعلقات / آئی اے این ایس
user

سہیل انجم

اس وقت بنگلہ دیش کی آزادی کی پچاسویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ ہندوستان کے صدر رام ناتھ کووند نے گزشتہ دنوں بنگلہ دیش کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا اور سولہ دسمبر کو وہاں کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت کی اور بنگ بندھو یعنی بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن اور اس جنگ میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی اور بنگلہ دیشی جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انھوں نے وہاں کے صدر محمد عبد الحامد، وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور وزیر خارجہ اے کے عبدالمومون سے ملاقات اور تبادلہ خیال کیا۔ لیکن جانے کیوں ان ملاقاتوں میں وہ گرمجوشی نظر نہیں آئی جو اس سے قبل کے ایسے دوروں میں نظر آجایا کرتی تھی۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی میں ہندوستان نے بہت کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے جس طرح اس وقت کے مشرقی پاکستان کے بنگلہ بولنے والے عوام کی مدد اور حمایت کی تھی وہ اپنی مثال آپ تھی۔ پاکستانی افواج نے اس خطے کے عوام کو جس ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اس کا انجام اس کی تقسیم کی صورت ہی میں رونما ہونا تھا۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد جب اندرا گاندھی نے پارلیمنٹ میں فتح کی خبر دی تو اس وقت اپوزیشن قائد اٹل بہاری واجپئی نے انھیں درگا کا اوتار قرار دیا تھا۔


پاکستانی افواج کی کارروائی کے بعد اس خطے سے بڑی تعداد میں لوگوں نے انخلا کیا تھا اور وہ ہندوستان کی سرحد کے اندر داخل ہوئے تھے۔ وزیر اعظم اندرا گاندھی نے انخلا کرنے والوں کے لیے ہندوستان کی مشرقی سرحد کھول دی تھی اور انھیں پناہ دی تھی۔ انھوں نے وہاں کی حکومت کے قیام میں کافی مدد کی تھی۔ منتخب حکومت کے ساتھ سفارتی رشتے استوار کیے تھے اور 17 مارچ 1972 کو بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا اور وہاں کی حکومت کو باضابط طور پر تسلیم کیا تھا۔

بنگلہ دیش کے قیام کے بعد شیخ مجیب الرحمن نے وہاں ایک سیکولر حکومت قائم کی اور بنگلہ دیش کو ایک سیکولر ملک بنایا۔ لیکن ساڑھے تین سال کے بعد ان کا ان کے خاندان سمیت قتل کر دیا گیا اور فوجی حکومت قائم ہو گئی۔ جنرل ضیاء الرحمن اور پھر جنرل ارشاد ملک کے فوجی صدر بنے۔ پھر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی حکومت قائم ہوئی اور خالدہ ضیا وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئیں۔ شیخ مجیب الرحمن کی حکومت کے زمانے سے ہی ہندوستان سے اس کے بڑے دوستانہ رشتے رہے ہیں۔ چونکہ اس کی آزادی میں ہندوستان کا کلیدی کردار رہا ہے اس لئے اس رشتے میں جذبات کی بھی آمیزش تھی۔ گویا صرف خالی خولی دوستی نہیں تھی بلکہ جذباتی دوستی تھی۔


لیکن پندرہ سولہ سال تک جاری رہنے والی فوجی اور پھر خالدہ حکومت کے دوران رشتوں میں سردمہری آنی شروع ہوگئی اور پہلے والی بات نہیں رہ گئی۔ لیکن جب 1996 میں شیخ حسینہ کی حکومت قائم ہوئی تو ایک بار پھر دونوں ملکوں کے رشتے پروان چڑھنے لگے۔ ہندوستان نے اس کے ساتھ ایک طرح سے بڑے بھائی کی حیثیت سے سلوک کیا اور 2014 سے قبل تک وہ حقیقی انداز میں بڑا بھائی بنا رہا۔ ایک بڑا بھائی چھوٹے بھائی کے ساتھ کیسے سلوک کرتا ہے اس کا ہندوستان کو احساس تھا۔ لیکن جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی ہے دوسرے ہمسایہ ملکوں کی مانند بنگلہ دیش کے ساتھ بھی ہندوستان کے رشتے قدرے خراب ہو گئے ہیں۔

اس کی متعدد وجوہ ہیں۔ لیکن موجودہ حکومت ان وجوہ پر غور کرنے اور انھیں ختم کرنے کے بجائے مزید ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ رشتوں میں شیرینی کے بجائے تلخی آجائے۔ سچائی یہ ہے کہ ہندوستان نے بڑے بھائی کا کردار کھو دیا ہے اور بنگلہ دیش کے ساتھ ایسے سلوک کرنے لگا ہے جیسے کہ وہ اس کے ہم پلہ یا برابر کا ملک ہو۔ اس کی وجہ سے بہت سی خرابیاں پیدا ہونے لگیں اور بنگلہ دیش کے عوام بھی ہندوستان کے اس سلوک سے ناخوش رہنے لگے ہیں۔


خیال رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان چار ہزار کلومیٹر کی طویل سرحد ہے۔ ہندوستان کے کسی ہمسایہ ملک کے ساتھ یہ سب سے بڑی سرحد ہے۔ ان برسوں کے درمیان مختلف شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان بالخصوص سیکورٹی، تجارت، بجلی، توانائی، نقل و حمل، کنکٹی وٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، دفاع، میری ٹائم وغیرہ شعبوں میں باہمی تعاون میں قابل ذکر اضافہ ہوا۔ دونوں ملکوں میں ایک اہم پیش رفت ’’لینڈ بارڈر ایگری منٹ‘‘ تھا جس کے تحت اراضی کا تبادلہ ہوا۔ ہندوستان نے بنگلہ دیش کو قرض بھی دیئے ہیں اور اس وقت ہندوستان سے سب سے زیادہ قرض بنگلہ دیش کو ہی حاصل ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ تاہم کئی امور ایسے بھی ہیں جو باہمی رشتوں میں رخنہ بنے ہوئے ہیں۔ جیسے کہ سی اے اے کو منظوری، این آر سی کی تیاری اور حکمراں طبقے کی جانب سے بنگلہ دیش سے مبینہ بنگلہ دیشی تارکین وطن کے ہندوستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے سے متعلق بیانات کو بنگلہ دیش میں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا گیا۔ جب 2019 میں پارلیمنٹ نے سی اے اے کو منظوری دی تو اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اے کے عبد المومن اور وزیر داخلہ اسد الزماں خان نے ہندوستان کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد حسینہ کابینہ کے ایک اور وزیر نے بھی اپنا دورہ منسوخ کیا تھا۔


بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے سی اے اے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی تھی۔ جب آسام میں سی اے اے کا عمل چل رہا تھا تو بنگلہ دیش میں یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس کی وجہ سے آسام کے عوام بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان ایسے کئی امور ہیں جن کو حل کیا جانا ضروری ہے۔ ان میں ایک مسئلہ دریائے تیستا کے پانی کی تقسیم کا ہے۔ شمالی بنگلہ دیش میں آبپاشی کے نقطہ نظر سے دریائے تیستا کے پانی کی بڑی اہمیت ہے لیکن یہ مسئلہ اب بھی جوں کا توں برقرار ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات باہمی اعتماد پر قائم ہیں۔ دونوں میں دوستانہ اور جذباتی رشتے ہیں۔ چونکہ ہندوستان بنگلہ دیش کے لیے ایک بڑے بھائی کی حیثیت رکھتا ہے اسی لیے بنگلہ دیش کی اس سے کہیں زیادہ توقعات ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جو متنازعہ رہے ہیں۔ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کے کچھ بیانات بنگلہ دیش کے عوام کے لیے تکلیف دہ رہے ہیں۔ جب وزیر داخلہ امت شاہ بنگلہ دیش کے مبینہ دراندازوں کو دیمک کہتے ہیں تو اس سے وہاں کے عوام کو بہت تکلیف پہنچتی ہے۔ مغربی بنگال کے انتخابات کے دوران بی جے پی کے تمام لیڈر یہ الزام لگاتے تھے کہ ہندوستان میں بنگلہ دیش کے لوگ غیر قانونی طور پر داخل ہوئے ہیں۔ یہ بات بنگلہ دیش میں سخت ناپسند کی گئی۔


مبصرین کے مطابق سی اے اے منظور کیے جانے سے بھی بنگلہ دیش کو تکلیف پہنچی ہے۔ جب ایسی باتیں ہوتی ہیں تو بنگلہ عوام کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی بے عزتی کی جا رہی ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ امریکہ نے گزشتہ دنوں بنگلہ دیش کی ریپڈ ایکشن بٹالین (آر اے بی) پر پابندی لگا دی جس کے خلاف چین نے بیان دیا ہے۔ لیکن ہندوستان نے اس پر کوئی بیان نہیں دیا۔ اس کا خیال ہے کہ یہ امریکہ اور بنگلہ دیش کا دوطرفہ معاملہ ہے۔ لیکن ہندوستان کی خاموشی بنگلہ دیش کے عوام کو پسند نہیں آئی۔

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج بنگلہ دیش نے بہت ترقی کر لی ہے۔ وہ جنوبی ایشیا میں تیزی سے ابھرنے والی معیشت ہے۔ ہندوستان کو اس کے ساتھ اس کے شایان شان سلوک کرنا چاہیے۔ جب بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے موقع پر ہندووں کے خلاف تشدد ہوا تھا تو اس پر بی جے پی سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں نے سخت رد عمل ظاہر کیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اسے بنگلہ دیش میں اپنے داخلی امور میں مداخلت تصور کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ہی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہندوستان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہاں بھی ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہو جس کا یہاں کی اقلیتوں پر اثر پڑے۔


بنگلہ دیش میں برپا ہونے والے تشدد پر وہاں کی حکومت نے سخت قدم اٹھائے تھے اور ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے تھے اور سیکڑوں کو گرفتار کیا تھا۔ لیکن جب اس کے رد عمل میں ہندوستان کی ریاست تری پورہ میں مسلمانوں کے خلاف تشدد برپا کیا گیا تو یہاں کی حکومت نے شرپسندوں کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ جائے واردات کا جائزہ لینے والے وکلا اور رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے خلاف یو اے پی اے لگا دیا گیا اور کئی لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس سے بھی بنگلہ دیش کے عوام کو تکلیف پہنچی تھی۔

ہندوستان کو چاہیے کہ یوں تو تمام ہمسایہ ملکوں سے اس کے رشتے خراب ہو گئے ہیں لیکن وہ کم از کم بنگلہ دیش کے ساتھ تو اپنے رشتے بہتر رکھے۔ لیکن چونکہ حکومت ہر قدم کو انتخابی نقطہ نظر سے دیکھتی اور اٹھاتی ہے اس لیے ایسی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ جب تک الیکشن میں کامیابی کو ہی سب کچھ سمجھا جاتا رہے گا ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے رشتے اچھے نہیں ہو پائیں گے۔ حکومت یہ بات کب سمجھے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔