کانگریس کے بغیر اپوزیشن اتحاد ناممکن... سہیل انجم

ممتا بنرجی کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ کانگریس کے بغیر اپوزیشن کا کوئی اتحاد قائم نہیں ہوسکتا اور اگر ممتا یا کوئی بھی ایسی کوئی کوشش کرے گا تو اس سے نقصان اپوزیشن کا اور فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔

کانگریس، تصویر آئی اے این ایس
کانگریس، تصویر آئی اے این ایس
user

سہیل انجم

جب سے مرکز میں بی جے پی کی قیادت میں حکومت قائم ہوئی ہے اپوزیشن کی جانب سے نریندر مودی کے خلاف ایک متحدہ محاذ تشکیل دینے کی بات بار بار اٹھتی رہی ہے۔ 2014 کے عام انتخابات کے بعد بھی ایسی آوازیں اٹھتی رہی ہیں، 2019 کے بعد بھی اور اب جبکہ 2024 کا پارلیمانی الیکشن بہت زیادہ دور نہیں رہ گیا ہے، اپوزیشن اتحاد کے نعرے لگ رہے ہیں۔ ملک کی اصل اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے بھی ایک متحدہ محاذ کے احیا پر زور دیا جاتا رہا ہے اور دوسری پارٹیوں کی جانب سے بھی۔ اس سلسلے میں کانگریس نے بارہا کوششیں کیں اور کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ ایک مضبوط اور متحدہ اتحاد تشکیل کے مرحلے میں ہے۔ لیکن ہر بار یہ خواب محض خواب پریشاں بن کر رہ گیا۔ اس کی کوئی تعبیر نہیں ملی۔

حالانکہ کانگریس نے بڑی سنجیدگی سے اس کی کوششیں کیں۔ اس نے دوسری علاقائی جماعتوں کو اہمیت دیتے ہوئے ان کے ساتھ انتخابی اتحاد بھی کیا۔ مخصوص مواقع پر اس کی جانب سے حزب اختلاف کی جماعتوں کی میٹنگس بھی بلائی گئیں جن میں تقریباً تمام اپوزیشن پارٹیوں نے حصہ لیا۔ جب بھی پارلیمانی اجلاس کے انعقاد کا موقع آتا ہے یا ملک میں کوئی اہم سیاسی واقعہ رونما ہوتا ہے تو کانگریس فوراً سرگرم ہو جاتی ہے اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کرتی ہے۔ کانگریس کے سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی بھی اس معاملے میں پیش پیش رہے ہیں اور سونیا گاندھی بھی۔ لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ اپوزیشن کی کسی نہ کسی جماعت نے اس کوشش کو سبوتاژ کر دیا۔ حالانکہ سبھی اپوزیشن جماعتیں یہ احساس رکھتی ہیں کہ کانگریس کے بغیر حزب اختلاف کا ایک پلیٹ فارم پر آنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔


اس کے باوجود کسی نہ کسی موقع پر کانگریس کو غیر اہم بنانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ نریندر مودی نے 2014 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل ہندوستان کو کانگریس مکت بھارت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ یعنی ایک ایسا ہندوستان جس میں کانگریس پارٹی کا وجود نہ ہو۔ کانگریس کے خلاف سنگھ پریوارکی سازشوں میں یہ دلیل بھی شامل ہو جاتی ہے کہ جب ملک کو آزادی مل گئی تو مہاتما گاندھی نے کانگریس پارٹی کو ختم کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ بعض اوقات یہ بھی یاد دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کانگریس کا قیام کسی ہندوستانی نے نہیں بلکہ ایک برطانوی ریٹائرڈ سول سروینٹ اے او ہیوم نے کیا تھا۔ لیکن ایسا کہنے والے یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ اس کا پہلا صدر ایک ہندوستانی اومیش چندر بنرجی کو بنایا گیا تھا اور جماعت کے قیام کا مقصد ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانا تھا۔

اس کے علاوہ یہ بھی بتانے کا کشٹ نہیں کیا جاتا کہ ملک کو آزاد کرانے میں سب سے بڑا رول کانگریس پارٹی ہی کا تھا۔ اس کے کتنے لیڈروں نے آزادی کے لیے اپنی جانیں گنوائیں اور کتنے قید و بند کی سعوبتوں سے گزرے۔ دراصل آر ایس ایس تو جنگ آزادی میں شامل ہی نہیں تھا بلکہ وہ تو انگریزوں کی غلامی کر رہا تھا۔ اس کے لیڈرس انگریزوں سے معافیاں مانگ رہے تھے اور جنگ آزادی کی مخالفت کرتے تھے۔ چونکہ جنگ آزادی میں ان لوگوں کا کوئی کردار نہیں ہے اس لیے یہ لوگ اپنی نااہلی اور اپنی انگریز دوستی اور فرنگی وفاداری کو چھپانے کے لیے بار بار کانگریس کو ہدف بناتے ہیں تاکہ ان کے کردار پر کوئی بات نہ کی جائے۔


نریندر مودی سمیت سنگھ پریوار کے تمام لوگ کانگریس کی ملک گیر موجودگی سے بھی واقف اور اس کی اہمیت سے آگاہ ہیں اس لیے وہ لوگ چاہتے ہیں کہ کانگریس صفحۂ ہستی سے مٹ جائے۔ کیونکہ ان کو اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ کانگریس سے ہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور سیاسی جماعت ملک گیر حیثیت نہیں رکھتی اور اپنی کوئی تاریخ نہیں رکھتی۔ ملک سے اپوزیشن جماعتوں کا خاتمہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کانگریس کا خاتمہ ہو جائے یا علاقائی جماعتوں کی حیثیت اسی وقت ختم کی جا سکتی ہے جب کانگریس ختم ہو جائے۔ اسی لیے نریندر مودی کانگریس مکت بھارت کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

اس خواب میں رنگ بھرنے کے لیے ہر جائز ناجائز ہتھکنڈے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ جہاں جہاں کانگریس مضبوط ہے وہاں وہاں اس کے لیڈروں کو توڑ کر بی جے پی میں لایا جا رہا ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ یہ کام اپوزیشن کی ایک اہم جماعت ٹی ایم سی بھی کر رہی ہے۔ اس نے بھی کئی ریاستوں میں کانگریس کے لیڈروں کو ٹی ایم سی میں شامل کیا ہے۔


تاہم ٹی ایم سی کی صدر اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مودی مخالفت پر شبہ نہیں کیا جا سکتا اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مودی کی خواہش کے مطابق ان کے ایجنڈے پر عمل کر رہی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ انھوں نے مغربی بنگال میں بی جے پی کو شرمناک شکست سے دوچار کرکے اس کے حوصلے پست کر دیئے ہیں۔ لیکن انھوں نے گزشتہ دنوں جس طرح ممبئی کے دورے کے موقع پر کانگریس کے خلاف بیان دیا اس سے کچھ شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔

انھوں نے یو پی اے کے وجود کو بھی خارج کر دیا اور سوال کیا کہ کہاں ہے یو پی اے۔ حالانکہ ان کو یہ بات تو معلوم ہی ہوگی کہ یو پی اے کی دو جماعتیں کانگریس اور این سی پی اسی مہاراشٹر میں برسراقتدار ہیں جس کے دار الحکومت ممبئی میں انھوں نے یو پی اے کے خلاف بیان دیا۔ جس وقت انھوں نے وہ بیان دیا ان کے برابر میں این سی پی کے صدر شرد پوار بھی موجود تھے۔ اس سے قبل کہ ممتا کا جملہ مکمل ہوتا انھوں نے مداخلت کی اور بات کو سنبھالتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنا ہے۔


حالانکہ اس سے قبل جب ممتا دہلی آئی تھیں تو انھوں نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی سے ملاقات کی تھی اور دونوں رہنما بہترین اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں دروازے تک چھوڑنے آئے تھے۔ اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ اب ایک نیا اتحاد اور مضبوط اتحاد ابھرنے والا ہے۔ لیکن اب انھوں نے جو لب و لہجہ اختیار کیا ہے وہ سابقہ لب و لہجے سے مختلف ہے۔ اس کی کئی وجوہ بیان کی جا رہی ہیں۔ جیسے کہ ایک تو یہی کہ ممتا خود اپوزیشن اتحاد کی قیادت کرنا اور مودی کے خلاف ایک اپوزیشن قائد کی حیثیت سے ابھرنا چاہتی ہیں تاکہ اگر اپوزیشن کو برسراقتدار آنے کا موقع ملے تو انھیں وزیر اعظم کے منصب پر بٹھایا جائے۔

ایک دوسری وجہ ان کے سیاسی مدبر پرشانت کشور کو بتایا جا رہا ہے۔ قارئین کو معلوم ہوگا کہ پرشانت کشور کچھ دنوں قبل کانگریس پارٹی میں شامل ہونے کے خواہشمند تھے۔ لیکن وہاں ان کی دال نہیں گلی۔ انھیں کانگریس میں شامل نہیں کیا گیا اس کے بعد وہ ممتا کی طرف چلے گئے۔ وہ پہلے بھی ممتا کے لیے کام کر چکے تھے۔ اس لیے ایسا سمجھا جاتا ہے کہ ممتا کے موقف میں تبدیلی انھی کی وجہ سے آئی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ ممتا بنرجی کی سیاسی سوجھ بوجھ پر سوال کھڑا کرتی ہے۔ کیونکہ بہرحال ممتا بھی اس خیال کی حامی رہی ہیں کہ کانگریس کے بغیر کوئی بھی مودی مخالف محاذ نہیں بن سکتا اور اسی لیے وہ کانگریس کے رہنماوں کے ملاقات کرتی رہی ہیں۔


بہرحال کانگریس کو الگ تھلگ کرنے کی کوششوں کو این سی پی کے صدر شرد پوار نے بھی خارج کر دیا اور شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے بھی۔ ان لوگوں کو اس بات کا احساس ہے کہ اگر کانگریس کمزور ہوگی تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ اور کانگریس مضبوط ہوگی تو سب سے زیادہ نقصان بی جے پی کو ہی ہوگا۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری پارٹی ایسی نہیں ہے جو ملک گیر سطح پر بی جے پی کو چیلنج دے سکے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بی جے پی اور حکومت کی پالیسیوں پر جتنی سخت تنقید کانگریس اور اس کے لیڈر راہل گاندھی کرتے ہیں کوئی دوسری پارٹی یا کوئی دوسرا لیڈر نہیں کرتا۔ آر ایس ایس کے خلاف بہ بانگ دہل اگر کوئی بول رہا ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں۔ لہٰذا ممتا بنرجی کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ کانگریس کے بغیر اپوزیشن کا کوئی اتحاد قائم نہیں ہو سکتا اور اگر ممتا بنرجی یا کوئی بھی ایسی کوئی کوشش کرے گا تو اس سے نقصان اپوزیشن کا اور فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ یہ فیصلہ کرنا ممتا کا کام ہے کہ وہ بی جے پی کو کمزور کرنا چاہتی ہیں یا مضبوط۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ کانگریس کو مائنس کرکے اپوزیشن اتحاد ناممکن ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔